مرغی کے گوشت کی قیمت پیداواری لاگت سے کم ہوگئی

   مرغی کے گوشت کی قیمت پیداواری لاگت سے کم ہوگئی

  

کراچی (پ ر)راجہ عتیق الرحمن عباسی چیئرمین پی پی اے نارتھ ریجن نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پولٹری زراعت کے شعبوں میں سب سے منظم سیکٹرہے۔ اس وقت پولٹری انڈسٹری کل استعمال ہونے والے گوشت کا -45 40فیصد حصہ مہیا کررہی ہے۔ اور تقریباپولٹری انڈسٹری سے 15لاکھ لوگوں کا بالواسطہ یا بلا واسطہ روزگار وابستہ ہے۔ پولٹری انڈسٹری معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ پولٹری مصنوعات،حیوانی لحمیات کی فراہمی کا سستا ترین ذریعہ ہیں۔ پاکستان پولٹری انڈسٹری میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور جدید تحقیق کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں بین الاقوامی معیار کی پولٹری مصنوعات تیار کی جاتی ہے۔ ہماری اس وقت 1322ملین کلو گرام مرغی کا گوشت اور 17500ملین انڈے کی سالانہ پیداوار ہے۔پاکستان پولٹری انڈسٹری عوام کو کئی دہائیوں سے مرغی کے گوشت اور انڈوں کی شکل میں سستی اور معیاری پروٹین فراہم کرنے میں کوشاں ہے۔ مرغی کے گوشت کی قیمت میں اتار چڑھا طلب و رسد کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔اسی لیئے اکثر اوقات فارمر زکو پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پرمرغی کا گوشت اور انڈے کو فروخت کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ یہ ایک فنا پذیر (Perishable Item) چیزہے اوراس کو محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ اسی طرح سارا سال قیمتوں کے اتار چڑھا میں کبھی فارمر فائدہ اور کبھی نقصان میں رہتا ہے۔ لیکن اوسطا اس کی قیمت سارا سال مناسب رہتی ہے۔پولٹری فارمرزگزشتہ تین سال سے اوور پروڈکشن اور کرونا وائرس کے پھیلا کی وجہ سے کاروباری خسارے کا شکار ہیں۔مرغی کی پیداواری لاگت 180روپے ہے جبکہ گوشت کی قیمت 265 روپے فی کلو ہو جاتی ہے۔آج کل زندہ مرغی 150-160روپے فروخت ہو رہی ہے جس کی وجہ سے پولٹری فارمرز کو شدید نقصان ہو رہا ہے اور اگر یہی صورت حال رہی تو وہی ہو گا جس کا پاکستان پولٹری انڈسٹری کی جانب سے کافی دفعہ عندیہ دیا جا چکا ہے کہ نقصان نہ برداشت کرتے ہوئے پولٹری فارمز بند ہو جائیں گے اور ملک میں مرغی کے گوشت کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی۔ جس کی وجہ سے تقریبا 30-35% پولٹری فارم نقصان نہ برداشت کرسکے اور پیداوار بند ہو جائیں گی۔ پولٹری انڈسٹری گزشتہ 6ماہ سے حکومت پاکستان سے مطالبہ کر رہی ہے چونکہ پاکستان میں مکئی کی پیداوار طلب سے کم ہے لہذا مکئی کی درآمدپر ڈیوٹی اور ٹیکسز کو ختم کر کے فی الفور درآمد کی اجازت دی جائے۔درآمدسے فیڈ کی قیمتیں کم ہوں گی اور پولٹری مصنوعات کی پیداواری لاگت میں یقینی طور پر کمی آئے گی اور عوام کو ماضی کی طرح سستا گوشت اور انڈے دستیاب ہو سکیں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -