پی ٹی آئی اپنا نام تبدیل کر کے تحریک الزام رکھ دے: مرتضی وہاب

پی ٹی آئی اپنا نام تبدیل کر کے تحریک الزام رکھ دے: مرتضی وہاب

  

 کراچی(سٹاف رپورٹر)ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنا نام پاکستان تحریک انصاف سے تبدیل کرکے پاکستان تحریک الزام رکھ دے، پہلے کبھی عوام نے نو وزراء کی ایک دن میں پریس کانفرنسیں نہیں دیکھی ہوں گی، ان کی کارکردگی کچھ نہیں ہے، شبلی فراز سب الزامات ماضی کی حکومتوں پرڈالتے ہیں مگر خود کچھ کرنے سے قاصر ہیں،عمران خان کی وفاقی حکومت اپنے وعدوں پر یقین نہیں رکھتی، جس طریقے سے متعصبانہ طرز حکومت پر عمل کررہی ہے، وہ شرمناک اور قابل مذمت ہے، آئین پاکستان پر بھی عمل نہیں کیا جارہا، آرٹیکل 158 کہتا ہے کہ صوبوں سے نکلنے والی معدنیات پر پہلا حق صوبے کا ہے،سندھ 68 فیصد گیس پیداکرتا ہے، گیس پر پہلاحق سندھ کا ہے، افسوس کہ چولہے ٹھنڈے ہیں، صنعتی پہیہ جام ہے اور گیزر بند ہیں، کراچی کے صنعتکار مہنگی گیس خریدنے پر بھی راضی ہیں پھر بھی گیس نہیں دی جو اخلاقی اعتبار سے بھی غلط ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکوسندھ اسمبلی بلڈنگ کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا مسئلہ اہم ہے اگر کسی صوبے کی آبادی کے درست اعداد و شمار معلوم نہ ہوں تو کس طرح منظور ہوجاتے ہیں۔مردم شماری میں سندھ کی اصل آبادی درج نہیں کی گئی ہے جب پی ٹی آئی اپوزیشن میں تھی تو مردم شماری کے مسئلہ پر ساتھ تھی اور اب اقتدار میں آنے کے بعد پی ٹی آئی نے وعدہ خلافی کی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں تحریک انصاف کی حکومت نے یوٹرن لیا مگر مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں مراد علی شاہ نے سندھ کا مقدمہ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا مشترکہ مطالبہ تھا کہ کمیٹی صوبہ سے مشاورت کے بعد سفارشات پیش کرے گی مگر صوبوں سے مشاورت کے بغیر کمیٹی کی رپورٹ کو کابینہ سے منظور کیا گیا۔ مشترکہ مفادات بڑا آئینی ادارہ ہے اس کے سربراہ وزیر اعظم ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنا آئین کی صریح خلاف وزری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری اس لیے اہم ہے کہ اگر درست آبادی درج نہ ہو تو کیسے وسائل حاصل کرسکتے ہیں۔ 2017 کی مردم شماری میں درست آبادی درج نہیں کی گئی جس پر 2017 میں پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مردم شماری پر آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ ہماراحصہ بڑھائیں گے پر انہوں نے جو خود طے کیا ہے وہ بھی نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیس سپلائی کی بندش بھی مسئلہ ہے۔ آئین پاکستان میں جو شق درج ہے اس پر بھی عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ آرٹیکل 158 کہتا ہے کہ صوبوں سے نکلنے والی معدنیات پر پہلا حق صوبہ کا ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں بھی گیا اورسندھ ہائی کورٹ نے صوبہ کے حق میں فیصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ 68 فیصد گیس پیدا کرتا ہے اور گیس پر پہلا حق سندھ کا ہے پر افسوس ہے کہ ہمارے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور صنعتی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ ہمیں آئینی طور پر ترجیح نہیں دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی میجر ایکسپورٹ سندھ سے ہوتی ہے اور وزیر اعظم ٹویٹ کرتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹیکس ان صنعتی علاقوں سے ملتا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -