وعدوں کے انڈوں سے بچے کب نکلیں گے

وعدوں کے انڈوں سے بچے کب نکلیں گے
وعدوں کے انڈوں سے بچے کب نکلیں گے

  

جب متعدد وعدوں اور دعووں کے بعد بھی  عملی اقدامات کے آثار نظر نہ آئیں تو قابلیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ معاملہ کوئی بھی ہو ناجانے کیا مصلحت آڑے آجاتی ہے کہ وعدوں کو عملی جامہ پہنایا ہی نہیں جا سکتا۔ جی ہاں اڑھائی برس سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہر  معاملہ صرف زبانی جمع خرچ یا ناکامی کی ذمہ داری سابقین پر ڈالنے  تک محدود ہے۔ تخت لاہور پر براجمان بزدار سرکار کی کارکردگی کے تو کیا ہی کہنے ہیں ، لاہور کو صفائی کے معاملے میں کراچی بنانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی جا رہی ہے۔ جہاں ضرورت کراچی میں صفائی کا نظام بہترکرنے کی تھی الٹا دیگر بڑے شہروں کو بھی کراچی کی ڈگر پر ڈالا جارہا ہے۔

لاہور شہر کی سڑکیں اور گردونواح کوڑے سے اٹے پڑے ہیں۔ سڑکوں پر جگہ جگہ کوڑا تو دوسری طرف گلیوں میں ابلتے گٹروں نے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا کررکھ دیا ہے۔ سڑکوں پر روزانہ کی بنیاد پر کوڑے کے ڈھیروں میں ہوتا اضافہ پریشان کن حد تک بڑھتا چلا جارہا ہے ساتھ ہی حکام کے وعدوں اور دعووں میں بھی برابر اضافہ ہو رہا ہے ۔ روزانہ وہی زبانی جمع خرچ کے فلاں جگہ سے اتنا کچرا اٹھا لیا فلاں سے اتنا اٹھا لیا لیکن حقائق یہ ہیں کہ شہر لاہور کی شائد ہی کوئی سڑک ایسی ہو جہاں کوڑے کے جا بجا ڈھیر نظر نہ آتے ہوں۔ معاملہ وہی  ناقص پلاننگ اور رابطوں کے فقدان کا ہے۔ جب ترک کمپنی کا پراجیکٹ لاہور میں ختم ہو رہا تھا تو کسی نے اس جانب توجہ دینے کی زحمت ہی نہیں کی کہ جب کمپنی اپنا معاہدہ مدت پورا کر جائے گی تو بعد میں لاہور میں صفائی کے نظام کو کس طرح برقرار رکھنا ہے۔ کسی نے یہ سوچنے  کی کوشش ہی نہیں کی کہ کمپنی کا متبادل کیا ہو گا۔ پہلے تو ایل ڈبلیو ایم سی اور ترک کمپنی کے درمیان مخاصمت چلتی رہی اوراب  صورتحال یہ ہے کہ لاہور  کوڑے کرکٹ کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ جہاں صفائی کی یہ ناقص صورتحال ہو اور حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہو تو کیسے شہریوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ جب شہر بھر میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہوں تو کیوں نہ ڈینگی اور دیگر بیماریوں سے شہری متاثر ہوں گے۔ صفائی کے ناقص انتظامات کا سدباب ہی جو حکومت نہ کر سکے اس سے کیسے ملک چلانے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ مگر حکام ہیں کہ سب اچھا کا راگ الاپتے نہیں تھکتے۔

 دوسری  طرف مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کررکھا ہے۔ بڑی بڑھکوں اور دعووں کے بعد چینی ایک بار پھر 100روپے کلومیں فروخت ہو رہی ہے جبکہ کھانے کے تیل اور گھی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔  جبکہ شوگرملز مالکان کی جانب سے چینی کی قیمت میں مزید اضافے کا عندیا دیا جا رہا ہے۔ شوگر سکینڈل میں ملوچ پہلے والی شخصیات قانون کی گرفت سے باہر ہیں اور اب پھر چینی کی قیمتوں میں اضافہ ناجانے کیا رخ اختیار کرنے والا ہے۔ اڑھائی برسوں میں ایک بھی تو  سکھ کا سانس عوام نہیں لے سکے۔ صرف وعدوں پر عوام کو ٹرخایا جارہا ہے۔ کبھی صحت کارڈ کے نام پر تو کبھی کروڑوں نوکریوں اور لاکھوں گھروں   کے نام پر عوام کو بہلایا جاتا ہے۔  یوں لگتا ہے کہ جیسے اڑھائی برس سے وعدوں کے لالی پاپ پر عوام کو ٹرخایا جا رہا ہے اگلے اڑھائی برس بھی یوں ہی گزریں گے یا ہر ناکامی کا ملبہ ماضی کے حکمرانوں پر ڈال کر گزارے جائیں گے ۔

اگر حکومت عوام کو حقیقی ریلیف دینا چاہتی ہے تو ایک تو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے دوسرا شہر لاہور جو روز بروز کوڑے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو رہا ہے اس کا سدباب کیا جائے۔ سڑکوں اور گلیوں میں صفائی کا نظام بنایا جائے تاکہ شہری گندگی کے باعث پیدا ہونیوالی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ورنہ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال کلبلاتا رہے گا کہ ’’وعدوں کے انڈوں سے بچے کب نکلیں گے‘‘۔

۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -