کاربن نیوٹرل کا عہد

کاربن نیوٹرل کا عہد
کاربن نیوٹرل کا عہد

  

کووڈ۔19کے باعث اگرچہ بے شمار اقتصادی سماجی مسائل سامنے آئے ہیں وہاں دنیا میں پائیدار توانائی کے استعمال سے متعلق بھی نیا رحجان فروغ پا رہا ہے اور کئی ممالک میں اس حوالے سے حوصلہ افزا اقدامات جاری ہیں۔موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کا ایک مقصد عالمی درجہ حرارت میں کمی کے لیے اقدامات میں تیزی لانا بھی ہے۔ اس مقصد کے تحت  عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2030 تک نمایاں کمی لائی جائے گی اور آئندہ برسوں میں "کاربن نیو ٹرل" کے حصول کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں دنیا بھر کے ممالک اور کاروباری اداروں نے"انرجی ٹرانسفارمیشن" پر زور دیا ہے اور اس سلسلے میں پیش رفت بھی ہوئی  ہے۔ عالمی سطح پر کوئلے کی پیداوار میں 2014 کے مقابلے میں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ کوئلے کی پیداوار سے متعلق سرمایہ کاری میں بھی کمی کا رحجان برقرار ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ عالمی سطح پر  30 سے زائد بینکوں اور بیمہ کنندگان نے کوئلے سے بجلی کے پیداواری منصوبوں کی مالی اعانت یا بیمہ روک لیا ہے۔سال 2019 کے دوران عالمی سطح پر توانائی کی مجموعی پیداوار میں قابل تجدید توانائی میں اضافے کا تناسب  72 فیصد تھا ،جس میں 90 فیصد شمسی یا ہوا سے بجلی کی صورت ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اعدادوشمار کے مطابق  2019 میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت 40 فیصد اضافے سے 2.1 ملین یونٹس تک پہنچ چکی ہے ، جو عالمی سطح پر گاڑیوں کی مجموعی فروخت کا 2.6 فیصد ہے۔ چالیس سے زائد ممالک اور پچیس خطوں میں کاربن ٹریڈنگ یا کاربن ٹیکس پالیسیاں متعارف کروائی گئیں ، جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 22 فیصد سے زیادہ نمائندگی کرتی ہیں۔مختلف حکومتوں نے کاربن پرائسنگ سے تقریبا 45 ارب ڈالرز جمع کیے ہیں۔

وبائی صورتحال کے باعث ماحولیاتی تحفظ سے متعلق عالمی ردعمل بھی متاثر ہوا اوراقوام متحدہ کی 26 ویں موسمیاتی تبدیلی کانفرنس اور 15 ویں حیاتیاتی تنوع کانفرنس ، دونوں وبا کی وجہ سے 2021 تک کے لئے ملتوی کردی گئیں۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اہم امور پر  بات چیت نہیں کی جا سکی ہے۔دوسری جانب کم کاربن پر مبنی جامع ترقی سے متعلق  کچھ نمایاں اقدامات سامنے آئے جن میں 750 بلین یورو مالیت کا یورپی کونسل نیکسٹ جنریشن ای یو  بحالی پیکج بھی شامل ہے ،اس پیکج کے مطابق کووڈ۔19کے تناظر میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے دوران مجموعی مالیت کا تیس فیصد گرین ترقی ، رکازی ایندھن پر کم انحصار  ، توانائی کی استعداد میں اضافے اور  اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر صرف کیا جائے گا۔

دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کی جانب سے بھی ماحولیاتی تحفظ پر مبنی سرسبز ترقی کے لیےبھرپور کوششیں جاری ہیں۔ چین نے 2060 سے قبل کاربن نیوٹرل کے حصول کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت تواتر سے سبز اقدامات سامنے لائے جا رہے ہیں۔ان میں  نئی توانائی کی گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ، گرین ڈویلپمنٹ فنڈ کا آغاز  ، گرین فنانس کی سہولت  سمیت کاروباری اداروں میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق  شعور اور آگاہی نمایاں عوامل ہیں۔ چین کے اقدامات کے بعد ، جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی 2050 تک کاربن نیوٹرل کے حصول کے لئے اپنے اہداف کا اعلان کیا ہے۔

چین کی کوشش ہے کہ کاربن نیو ٹرل کی خاطر کوئلے کے استعمال میں خاطر خواہ کمی کی جائے ،قدرتی گیس کے استعمال میں کمی ، کم کاربن بجلی کی پیداوار  اور صنعتی توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانا چین کے اہم اہداف ہیں۔چین نقل و حمل ، عمارتوں اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبوں میں توانائی کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے اسمارٹ ٹیکنالوجیز کے لئے نئے مواقع فراہم کرے گا۔

چین کی جانب سے انرجی اسٹوریج ، ہائیڈروجن توانائی اور توانائی کی بقا سے وابستہ شعبہ جات کے بارے میں تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے صفر کاربن ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا جائے گا۔ گرین مصنوعات اور گرین ترقی کے لیے سازگار پالیسیاں ترتیب دی جائیں گی جس میں گرین ٹرانسپورٹ ،گرین کمیونیٹیز وغیرہ اہم اقدامات ہیں ۔ چین کا مقصد ہے کہ 2025 تک اپنی مجموعی کار فروخت میں نئی توانائی کی گاڑیوں کا حصہ 20 فیصد تک بڑھا دے اور 2035 تک بجلی سے چلنے والے عوامی ٹرانسپورٹ سسٹم کی تعمیر کرے ، جس کے ساتھ خالص برقی کاریں مرکزی دھارے میں شامل ہوں گی۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال کے تناظر میں کووڈ۔19نے جہاں دنیا کو ایک موقع فراہم کیا ہے کہ وہ مزید مستحکم توانائی کے استعمال کی جانب منتقل ہوں وہاں چین جیسے بڑے ملک کی جانب سے  "کاربن نیو ٹرل" کے عہد نے بھی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے عالمی اعتماد میں بہت حد تک اضافہ کیا ہے۔بلاشبہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمگیر مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے پیرس معاہدے میں طے شدہ اہداف کے حصول کی خاطر دنیا کو  مشترکہ اقدامات اپنانے چاہیے اور بنی نوع انسان کے صاف ستھرے اور سرسبز مستقبل کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔

۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -