عالمی شہرت یافتہ شاعرنصیر ترابی نے انتقال سے چند روز قبل کس خواہش کا اظہار کیا ؟ سینئر صحافی مظہر برلاس کا ایسا انکشاف کہ زلفی بخاری بھی افسردہ ہو جائیں 

عالمی شہرت یافتہ شاعرنصیر ترابی نے انتقال سے چند روز قبل کس خواہش کا اظہار ...
عالمی شہرت یافتہ شاعرنصیر ترابی نے انتقال سے چند روز قبل کس خواہش کا اظہار کیا ؟ سینئر صحافی مظہر برلاس کا ایسا انکشاف کہ زلفی بخاری بھی افسردہ ہو جائیں 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف ادیب ،عالمی شہرت یافتہ شاعراور 2 روز قبل کراچی میں انتقال کرنے والے نصیر ترابی کی آخری خواہش سامنے آگئی ،سینئر صحافی اور کالم نگار مظہر برلاس نے مرحوم شاعر کی زندگی کی ایسی آخری خواہش کا انکشاف کیا ہے  کہ جسے جان کر زلفی بخاری بھی افسردہ ہو جائیں گے ۔ 

تفصیلات کے مطابق  نامور شاعر، ماہر لسانیات اور نقاد نصیر ترابی 2روز قبل کراچی میں انتقال کر گئے تھے ،نصیر ترابی کے انتقال سے اردو شعر و ادب کا ایک روشن چراغ بجھ گیا ہے ،معروف کالم نگار اور سینئر صحافی مظہر برلاس نے روزنامہ "جنگ" میں نصیر ترابی کی یاد میں لکھے گئے کالم میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ "طویل عرصے بعد بودی سرکار آئے تو آتے ہی گلوں شکووں کی بارش کر دی، خطابت میں تھوڑی سی بریک لگی تو میں نے عرض کیا کہ سرکار آپ خود تشریف نہیں لائے تو میرے ساتھ گلے کیسے؟ اِس پر بودی سرکاری نے پھر سے گرجنا شروع کر دیا ’’میں مصروف تھا‘‘، اِس مرتبہ میں نے بات کاٹ کر کہا کہ سرکار میں آپ کی سب باتیں سن لوں گا، زیادہ گرجنے کی ضرورت نہیں، میں آج ویسے بھی دکھی ہوں، میرے دو دوست چلے گئے ہیں۔ پہلے حاجی نواز کھوکھر رخصت ہوئے اور اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی نصیر ترابی ہمارے ہمسفر نہ رہے۔ حاجی نواز کھوکھر اہم سیاسی شخصیت تھے، اسلام آباد اور پنڈی کے سیاسی حلقوں پر گہرے اثرات رکھتے تھے۔ ایک زمانے میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر رہے، اب حاجی صاحب کے صاحبزادے مصطفیٰ نواز کھوکھر سینیٹر اور بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان ہیں۔

میرے دوسرے دوست کا نام نصیر ترابی ہے، وہ ایک بڑے عالمِ دین علامہ رشید ترابی کے صاحبزادے تھے، نصیر ترابی کمال کے شاعر تھے۔ بعض اوقات ارادے ٹوٹتے ہیں، بکھرتے ہیں اور پھر بکھر کر خاک ہو جاتے ہیں۔ نصیر ترابی اِس مرتبہ سینیٹ کا الیکشن لڑنا چاہتے تھے، وہ اِس سلسلے میں مجھے اکثر فون کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ’عمران خان سے میرا ذکر کرو، اور بتاؤ ‘ آخری مرتبہ اُنہوں نے کہا کہ زلفی بخاری کے والد واجد بخاری میرے کلاس فیلو ہیں، کل اُنہوں نے میرا فون اٹینڈ نہیں کیا، بس اُنہیں میرا بتا دینا‘۔ میں نے عرض کیا کہ ترابی صاحب! واجد بخاری اور زلفی بخاری دونوں باپ بیٹا میرے دوست ہیں، میں واجد شاہ کو پیغام دے دوں گا۔ ابھی پیغام پہنچا نہیں تھا کہ نصیر ترابی کا بلاوا آ گیا۔

مظہر برلاس نے اپنے کالم کا اختتام کرتے ہوئے لکھا کہ "مٹی کے انسان نے بالآخر مٹی ہی ہونا ہوتا ہے، یہ دنیا خاک ہی ثابت ہوتی ہے، انسان لالچی ہے، وہ اِس دنیا کے لالچ میں آخرت بھول جاتا ہے حالانکہ یہ زندگی تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی دورانِ سفر تھوڑی سی دیر کیلئے کسی درخت کے نیچے آرام کرنے کیلئے رکے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -