دوزخ کی راہ ہموار کرتے برینڈز 

دوزخ کی راہ ہموار کرتے برینڈز 
دوزخ کی راہ ہموار کرتے برینڈز 

  

سال دوہزار پندرہ دسمبر کی بات ہے مجھے ملائیشیا میں ایک مسلمان خاندان کی شادی میں شرکت کا موقع ملا، وہاں پر مختلف مذاہب،قومیتوں اور ممالک کے رہنے والے لوگوں کا ایک بڑا اکٹھ تھا،لیکن خوش کن  امر یہ تھا کہ مسلمان لڑکیاں اپنے لباس سے ہی پہچانی جا رہی تھیں۔ مسلمان  لڑکیوں نے مکمل لباس کے ساتھ سروں پر مختلف رنگوں کے سکارف بھی لیے ہوئے تھے۔ مکمل لباس پہنے ہوئے لڑکیوں میں سے کوئی ایک بھی میری رشتے دار نہیں تھی،  لیکن ان کی الگ پہچان پر مجھے اپنے مسلمان ہونے پر فخر محسوس ہو رہا تھا اور اس بات کی خوشی تھی کہ عورتوں کے لباس ان کی اسلامی روایات کی پاسداری یہ بات عیاں کر رہی تھی کہ ان کے بھائی اور ان کے والد کس قدر غیرت مند ہیں۔اسی طرح ابھی کچھ ہی روزپہلے مجھے لاہور کی ایک اپر کلاس فیملی کی شادی میں شرکت کرنے کا اتفاق ہوا، جہاں پر کم و بیش پانچ سے دس ہزار لوگوں کا ایک بڑا مجمع  تھا، مجمع  جتنا بڑا تھا افسوس بھی اتنا ہی زیادہ ہوا اور اتنا ہی زیادہ اللہ کریم کا شکر ادا کیا کہ یا رب تیرا لاکھ شکر ہے کہ مَیں اپر کلاس فیملی میں پیدا نہیں ہوا، یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے خاندان کی خواتین جب گھر سے نکلتی ہیں تو ہماری عزتوں اور غیرتوں کے جنازے نہیں نکالتیں،  وہ جب گھروں سے نکلتی ہیں تو باعزت، باپردہ اور گھر کے مردوں کے ساتھ جاتی ہیں۔

میرے خیال میں تو کسی بھی خاندان کے باعزت ہونے کی سب سے بڑی دلیل ان کی عورتوں کے لباس ہیں، اللہ کریم کا شکر ہے کہ ہمارے گھروں کی عورتیں ملکی اور غیرملکی برانڈز کے کپڑے نہیں پہنتیں، اللہ غارت کرے ان برینڈ ڈیزائنرز کو جنہوں نے لڑکیوں کے لباس سے دوپٹہ خارج کر دیا ہے۔اس شادی کے پروگرام میں آنے والی اسی  فیصد لڑکیوں نے دوپٹہ نہیں لیا ہوا تھا، ان کے  لبا س اس قدر واحیات تھے کہ ان کے جسموں کو ڈھانپنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ دلی افسوس ہوا ان مردوں پر جو اپنی بیویوں، بہنوں یا بیٹیوں کو اس قسم کے لباس پہنا کر سینکڑوں کی تعداد میں موجود مردوں کے درمیان میں سے گزار کر لے جا رہے تھے، جس سے صاف نظر آرہا تھا کہ یا تو یہ مرد اپنی عورتوں کے سامنے بہت ہی بے بس ہیں  یا پھر سرٹیفائیڈ بے حیا ہ  جن کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی عورتیں کس طرح اپنے جسم کی نمائش کر کے ان کی غیرتوں اور اسلامی احکامات کا جنازہ نکال رہی ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جب ہم سب مر جائیں گے اور میدان حشر میں عزتوں  والے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے تو ان عورتوں کا انجام کیا ہوگا؟ یہ عورتیں میرے رب کے قہر سے کیوں نہیں ڈرتیں،کیا انہیں پتہ نہیں کہ جہاں میرا رب رحیم ہے، کریم ہے، وہیں پر وہ جبار بھی ہے، کہار بھی  ہے۔

قرآن کریم میں سورۃ الاحزاب میں واضح حکم صادر فرما دیا گیا ہے  :کہ اے نبی آپ مومن عورتوں سے کہیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔ سورۃ الحزاب میں ایک اور جگہ حکم ہے: اے نبی اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیں، کہ اپنے اوپر اپنی چادرں کے پلو لٹکا لیا کریں تاکہ یہ پہچانی جائیں   اور انہیں ستایا نہ جائے۔ اسی طرح حکم ہے کہ جب عورتیں اپنے چہرے کا پردہ کریں اور چادریں لیں تو اجنبی لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ شریف زادیاں ہیں۔قرآن کریم کے احکامات اور موجودہ دور کی عورتیں کہیں بھی میل نہیں کھاتیں یہ۔ اللہ کریم کے غضب کو دعوت دیتے فیشن ڈیزائنرز اور ان کے کپڑے خرید کر زیب تن کرنے والی خواتین براہ کرم سورۃ الحزاب کا ترجمہ ضرور پڑھ لیں، انہیں رہنمائی ملے گی اور اللہ کریم سے انجانے میں کی جانے والی غلطیوں کی معافی مانگیں، وہ رحیم ہے، وہ کریم ہے،وہ معاف فرما دے گا۔

ملک کے مختلف برینڈز نے تو قرآنی احکامات سے روگردانی کرتے ہوئے نئے فیشن میں شلوار قمیض میں سے دوپٹہ ختم کر دیا ہے۔ ان کا دین ایمان تو صرف پیسہ کمانا ہے، اس لئے براہ کرم آپ تو خیال کریں کہ آپ اپنی دولت ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کریم کے احکامات کی نافرمانی کر رہی ہیں۔ اللہ برباد کرے ان فیشن ڈیزائنرز کو جو اس طرح کے واحیات ملبوسات تیار کرتے ہیں، بلاشبہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے دین ایمان کو برباد کرنے کی ذمہ داری  لے رکھی ہے، لیکن مَیں اپنی اہل وطن خواتین سے اپیل کرتا ہوں کہ یاد رکھیں یہ زندگی بہت مختصر ہے، اس لیے چند منٹوں کی واہ واہ کے لئے اپنی آخرت برباد نہ کریں، قیامت کا عذاب بہت دردناک ہے، آپ میں  اور ہم میں سے کوئی بھی اس عذاب کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا، اس لئے مَیں گزارش کروں گا کہ گھر سے نکلتے وقت مکمل پردے کا اہتمام کریں آپ کا لباس عذاب کو دعوت دینے والا نہ ہو۔ برینڈز سے جان چھڑا لیں“ یہ صرف ایک دھوکا ہے، سادہ اور مکمل لباس پہننے کو ترجیح دیں۔آج کا کالم ان شاء اللہ بہت سی عزت دار بہنوں کو رہنمائی فراہم کرے گا اور مَیں بھی محشر میں جب اپنے رب کے حضور پیش کیا جاؤں گا تو یہ کہہ کر گواہی دوں گا کہ میرے رب کریم مَیں نے اپنی بہنوں کو تیرے عذاب سے ڈرایا تھا، مَیں نے برینڈز اور فیشن ڈیزائنرز  کے خلاف آواز اٹھائی تھی، مجھے یقین ہے کہ میرا آج کا کالم میری بخشش میں مدد ضرور کرے گا۔اللہ کریم آپ اور آپ کے اہل خانہ کو قیامت کے دردناک عذاب سے محفوظ رکھے،آمین۔

مزید :

رائے -کالم -