پنجاب پولیس کا بہتری کی جانب ایک قدم

پنجاب پولیس کا بہتری کی جانب ایک قدم
پنجاب پولیس کا بہتری کی جانب ایک قدم

  

وزیراعظم پاکستان عمران خان سنجیدگی سے پولیس میں تبدیلی لانے کے لئے ملک بھر بالخصوص پنجاب میں مسلسل اپنی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ پنجاب بیوروکریسی اور پولیس کی جانب سے اب تک انہیں انتہائی مشکل حالات کا سامنا رہا ہے  جب سے انھوں نے حلف اٹھایا ہے اس تبدیلی کی خاطر وہ محکمہ پولیس کے7 آئی جی اور 5چیف سیکرٹری تبدیل کر چکے ہیں،ان کا جنون ہے کہ وہ پنجاب میں بیوروکریسی اور پولیس میں تبدیلی ضرور لا کر رہیں گے۔انھوں نے ہمیشہ اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اب پنجاب میں عوام کو بدلی ہوئی پو لیس نظر آئے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ تبدیلی کوئی بھی ایک شخص نہیں لا سکتا اس کے لیے کسی ایک رہنما کے ساتھ انتہائی مخلص محنتی اور قابل افراد کی ٹیم ہونا بہت ضروری ہے یہ بات درست ہے کہ کئی آفیسرزبہترین کمانڈرہوتے ہیں جو تمام قابل اور اہم افراد سے کام لیتے اور ان کی مدد سے نتائج حاصل کرتے ہیں۔ایسے آفیسرز گڈ گورننس کے ساتھ اداروں کی سربلندی کا باعث بھی بنتے ہیں اوریہ غیر سیاسی کے طور پر شہرت پاتے ہیں ان کا زاتی کوئی ایجنڈا نہیں ہوتامگر جو آفیسرزسفارش کے بل بوتے پر تعیناتی حاصل کرتے ہیں یہ اداروں کی بربادی کے ساتھ بیڈ گورننس کا باعث بھی بنتے ہیں،اگر سانحہ مری کے افسوس ناک واقعہ پربات کی جائے  تو اس میں بھی کمزور کمانڈنگ کی وجہ سے حکمرانوں کو بدنامی کے دن دیکھنے پڑے ہیں۔ آخر کیوں درحقیقت وہاں جو آفیسرز تعینات کیے گئے ہیں اگر ہم ان کا پروفائل چیک کرلیں تو ہمیں گڈ گورننس اور بیڈ گورننس کا باعث بننے والے آفیسرز کی پہچان کرنے میں زیادہ آسانی رہے گی کمشنر روالپنڈی گلزار حسین شاہ اس سے قبل گوجرانوالہ بھی تعینات رہ چکے ہیں اور ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران الیکشن کمیشن کو ان کے خلاف نوٹس لینا پڑا، الیکشن کے دوران دو درجن کے لگ بھگ پریزائیڈنگ آفیسرز ہی غائب کر دئیے گئے تھے

اور ان پر الزام تھا کہ یہ آفیسرز ”غیر موثر انتظامات“کے پیش نظر ضمنی رزلٹ تبدیل کرنے کے لیے ایک امیدورار کے حامیوں نے اٹھائے تھے جبکہ ناقص سیکورٹی کے پیش نظر الیکشن کے دوران فائرنگ سے دو افراد کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا اسی طرح جو آج کل ڈپٹی کمشنرراولپنڈی محمدعلی وہاں کام کررہے ہیں اس سے قبل فیصل آباد میں تعینات رہ چکے ہیں وہاں سے بھی انھیں ناقص کا کردگی کے پیش نظر تبدیل کیا گیا،محکمہ پولیس میں بھی بہت سے ایسے آفیسرز تعینات رہے ہیں جو حکمرانوں کی بیڈ گورننس کا باعث بنتے رہے ہیں،تاہم جو محنتی اور دیانت دار آفیسرز ہیں ان کی کارکردگی اورکام بھی کسی سے ڈکا چھپا نہیں ہے لاہور سمیت صوبہ بھر میں بڑتے ہوئے جرائم جو لمحہ فکریہ تھے اور امن و امان کی صورتحال ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکی تھی آج ایک اچھی ٹیم ہونے کی وجہ سے لاہور سمیت صوبہ بھر میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے وزیر اعظم پاکستان نے پنجاب پولیس کو تبدیل کرنے کا جو خواب دیکھا تھا  اب اس کی تعبیر دکھائی دیتی ہے،  لاہور سمیت پنجاب کے کسی بھی شہر میں جو مافیا موجود تھا  اور صرف پولیس کی چھتری کے سائے تلے سانس لے رہا تھا، اب وہ اپنی سانسیں توڑ رہا ہے وہ پولیس جس پر ڈاکوؤں کے گروہ بنانے کا الزام تھااب اس کے کام اور کاکردگی میں نکھار آگیا ہے ایک وقت تھا کہ  یہ پولیس ان گروہوں سے وارداتیں بھی کرواتی تھی اورا نھیں باحفاظت مقام پر بھی پہنچا تی، پکڑے جانے پران کی ضمانتیں بھی خود ہی کرواتی، دو نمبر ریکوریاں ہمیشہ سے ان کا وطیرہ رہا۔آخر یہ سب کچھ اچانک کیسے ٹھیک کر دیا گیا،اس کے لیے آئی جی پولیس راؤ سردار علی خان اور سی سی پی او لا ہور فیاض احمد دیو نے مافیا کو پکڑنے سے پہلے پولیس میں موجود مافیا کا خاتمہ کر دیا ہے آج پولیس افسر پراپرٹی کا کاروبار نہیں کرتے۔

رشوت لیکر ایس ایچ او لگوائے اور معطل بھی کروائے جاتے تھے اب ایسا نہیں ہے اب لاہور اورصوبہ بھر کی پولیس جرائم پیشہ کے حصے دار نہیں ہیں پہلے یہ پولیس گھناؤنے کاروبار کو چلانے کی مزدوری لیتی تھی مافیا کا گھیراؤ کرنے سے قبل کرپٹ، سازشی  اور رشوت خور افسروں سے فورس کو پاک کر دیا گیا ہے اب افسرن نے نزرانے لینے چھوڑ دیے ہیں، دنیا کو دکھانے کے لیے جعلی چھاپے جو مارے جاتے تھے اب ختم کر دیے گئے ہیں دراصل جب آپ اپنی فورس کو ٹھیک کرلیں تو نہ میڈیا پر کسی تشدد کی ویڈیو وائرل ہو گی اور نہ پولیس کا مورال ڈاؤن ہو گا ۔وزیراعظم جب بھی پولیس میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے خیال یہی آتا ہے کہ کیا یہ پولیس اور تھانہ کلچر تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ان کی سوچ اور محنت اپنی جگہ درست ہے لیکن تہتر برس سے پاکستان کا تھانہ کلچر اور اس سے جڑی روایات اس قدر مضبوط ہوچکی ہیں کے ان کو تبدیل کرنے کا مطلب پورا نظام تبدیل کرنا ہے۔موجودہ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان اور سی سی پی او فیاض احمد دیو ایک ایماندار پولیس آفیسر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ بی اے ناصر کی تعیناتی سے اب کرپٹ پولیس افسران کی رپورٹس کو چھپایا اور روکا نہیں جاسکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -