جبرِ مسلسل سے شعوری انحراف            (1)

        جبرِ مسلسل سے شعوری انحراف            (1)
        جبرِ مسلسل سے شعوری انحراف            (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  گزشتہ کئی مہینوں سے دل پر ”جبرِ مسلسل“ کی پریکٹس جاری ہے۔ دل کے معاملے بھی عجیب ہیں۔ ہمارے مشرقی ادب میں انسانی حواس پر دل کی حکمرانی ہے جبکہ مغربی اقوام دماغ کو اس تختِ طاؤس پر براجمان کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک دماغ انسانی جذبات و احساسات کا بادشاہ ہے جبکہ ہمارے ہاں دل کی بادشاہی کا چرچا ہے۔ہمارے شعراء اور نثرنگار دل کی کیفیتوں کو دوادین کی صورت میں ڈھالتے ہیں اور ایسی نثر نویسی کے مصنف ہیں جس میں دل کا رونا دھونا غزلوں اور نظموں کی بجائے پیراگرافوں کی صورت میں لکھا جاتا ہے۔ یہ جبرِ مسلسل ایک سزا بھی ہے جو آج کل مجھ جیسے بہت سے پاکستانیوں کو بغیرکسی وجہ کے مل رہی ہے۔ شام کی تاریکیوں کی ابتدائی ساعتیں دراز ہو کر شبِ یلدا کی صورت میں ڈھلتی جا رہی ہیں۔ ہمارے کئی شعراء نے اس کے بعد طلوعِ سحر کی نوید دی تھی اور کہا تھا:

رات جل اُٹھتی ہے جب شدتِ ظلمت سے ندیم

لوگ اس وقفہء ماتم کو سحر کہتے ہیں 

نجانے مجھے کیوں احساس ہو رہا ہے کہ شدتِ ظلمت گزر چکی ہے اور سحر طلوع ہونے کے قریب ہے۔ اقبال نے بھی اسی مضمون کو اپنے اس شعر میں ادا کیا تھا:

کٹی ہے رات تو ہنگامہ گستری میں تری

سحر قریب ہے، اللہ کا نام لے ساقی

گزشتہ کئی مہینوں سے دل کو یہی تسلیاں دے دے کر بہلا رہا ہوں کہ ’بس سحر قریب ہے‘۔ تھوڑی دیر اور صبر کر لو۔ میری یہ کالم نویسی بھی دل کی بھڑاس نکالنے کا ایک ذریعہ تھی اس لئے اس بھڑاس کو کبھی شعروں کی تشریح کی شکل میں اور کبھی ماضی کی سہانی یادوں کی صورت میں نکالتا رہا ہوں۔ میرا قاری میرے کالم پڑھ پڑھ کر مجھے کوستا رہا ہوگا کہ یہ ’بے وقت کی راگنی‘ ہے، اسے کون سنتا ہے؟ لیکن ”راگ“ کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ اس کو گانے کے لئے مخصوص اوقاتِ روز و شب مقرر ہیں۔مثلاً بھیرویں کے لئے صبح، دیپک کے لئے رات، میغ کے لئے دوپہر،پہاڑی کے لئے شام اور مالکونس کے لئے نصف شب کے اوقات بہترین خیال کئے جاتے ہیں۔ راگوں کی یاد آئی تو ماضی میں فوجی ملازمت کے دوران بلوچستان میں گزارے ہوئے 5برس بھی یاد آئے۔

بلوچستان میں میری دو دفعہ پوسٹنگ ہوئی۔ ایک بار خضدار میں اور دوسری دفعہ کوئٹہ میں۔خضدار مینگلوں اور زہریوں کا علاقہ ہے۔ وڈھ آج بھی اختر مینگل کا آبائی گھر ہے جو خضدار سے 25،30کلومیٹر دور ہے اور جس میں ہمارے قلات سکاؤٹس کی ایک کمپنی مقیم تھی۔ مجھے وہاں ایک ماہ تک قیام کرنے کا اتفاق ہوا۔ ان ایام میں اختر مینگل کے والد عطاء اللہ مینگل، بلوچستان کے وزیراعلیٰ تھے اور ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ خضدار سے 80میل شمال مشرق میں زہری نام کا ایک قصبہ تھا جس میں ایک دوسری کمپنی (120سپاہی، این سی اوز/ جے سی اوز) مقیم تھی۔ وہاں میر دودا خاں اور ثناء اللہ زہری کے گھرانے تھے۔ میں نے خضدار میں پونے تین سال گزارے۔ پھر تقریباً ایک عشرہ بعد1980ء کی دہائی میں کوئٹہ میں ایک ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں پوسٹنگ ہوئی اور وہاں بھی ساڑھے تین برس گزارنے کا موقع ملا۔ میں طبیعت کے لحاظ سے کوچہ گرد واقع ہوا ہوں۔ بلوچستان کا رقبہ آدھے پاکستان کا رقبہ ہے لیکن اس وسیع و عریض خطے کے طول و عرض میں کوئی ایسا بڑا چھوٹا گاؤں، قصبہ یا شہر نہ تھا جہاں میں نے ورود نہ فرمایا ہو۔ ان برسوں کی یادوں پر پوری ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن جبرِ مسلسل کے ایام میں نہیں!

کوئٹہ میں پوسٹنگ کے دوران وہ مقام دیکھنے کو دل چاہا جہاں قائداعظم نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔یہی جنوری کے ایام تھے کہ ہم زیارت کی زیارت کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ بچے بھی ساتھ تھے۔ برف سے وہ سڑک ڈھپی ہوئی تھی جو کوئٹہ سے زیارت جاتی ہے۔ تمام راستہ بڑا نظر نواز تھا۔ دو اڑھائی گھنٹوں کے بعد آخر زیارت کا شہرنظر آیا لیکن وہاں تمام گھر خالی تھے۔ لوگ سردیوں میں زیارت سے نکل کر سبّی چلے جاتے ہیں۔ سڑک پر صرف ایک کتانظر آیا جس کے کانوں پر بھی برف کے سفید سفید گالے لڑھک رہے تھے۔ ہم بالآخر اس مقام پر پہنچے جو اس دنیائے فانی میں بانیء پاکستان کی آخری آرام گاہ تھی۔ وہاں ایک عمر رسیدہ چوکیدار اور اس کے بیٹے سے ملاقات ہوئی۔ تقریباً ایک گھنٹہ ہم اُس عمارت کو اندر باہر سے دیکھتے رہے۔ اس روز ہوا بند تھی وگرنہ ایک گھنٹہ گزارنا مشکل ہو جاتا۔ چوکیدار نے کہا کہ کوئٹہ سے ایک ہفتے کا فریش اور ڈرائی راشن ہمیں یہاں مل جاتا ہے اور ہم باپ بیٹا اس سے ہفتے بھر پیٹ بھرنے کا سامان کر لیتے ہیں۔

پھر اگلے برس ہمیں کوئٹہ سے چمن تک جانے کی کھجلی ہونے لگی۔ تب بھی یہی سردیوں کا موسم تھا لیکن میں مری، گلگت، ایبٹ آباد اور کوئٹہ کی برف باریوں سے ’سنو پروف‘ ہو چکا تھا، اس لئے کسی برف باری وغیرہ کی پروا نہ تھی۔ چمن تک کا سارا راستہ بھی سفید چادر اوڑھ کر ہمیں دعوتِ نظارا دیتا رہا۔ چمن پہنچے تو وہاں بھی سنسانی اور ہُو کا عالم تھا۔ ایک بڑا سا بازار تھا۔ سڑک کے دونوں طرف بڑی بڑی دکانیں تھیں جو بند تھیں۔صرف ایک آدمی دکان کھولتا نظر آیا۔ ہم اس کی طرف لپکے تو اس نے بتایاکہ چمن میں انگور نہیں ہوتے، آپ اس موسم میں یہاں کیوں آئے ہیں۔ یہاں پرچون خریدار کم آتے ہیں اور تھوک کے خریدار زیادہ ہوتے ہیں جو کوئٹہ اور پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں سے آتے اور یہاں سے بیرونی ممالک کا درآمدشدہ سامان خرید کر بُک کروا جاتے ہیں۔یہ ساری دکانیں جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہ دراصل اسی تھوک مال کے گودام ہیں۔ ہم نے وہاں سے ایک VCR (نیشنل پیناسانک) اور ایک ’تھری ان وَن‘ (Three in one) ڈیوائس خریدی  جس کا سائز VCRسے ذرا سا بڑا تھا۔ اس میں تین بینڈ کا ریڈو، 6انچ سکرین والا ٹی وی اور ایک گراموفون تھا۔ اس کے ساتھ 6عدد ریکارڈ بھی تھے جن کی چوائس خریدار کی صوابدید تھی۔

کوئٹہ واپس آکر ریکارڈ سنے جو بیشتر انڈین بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے تھے۔ یہ ریکارڈ ایران ساختہ تھے۔ ایک پر دونوں طرف چار فلمی گیت ریکارڈڈ تھے جو چاروں فلم ”جہاں آرا“ سے لئے گئے تھے…… ایک سے ایک بڑھ کر فردوسِ گوش اور فریبِ ہوش تھا۔ میں نے نام پڑھا تو چار نام  نظر آئے…… لتا منگیشکر، طلعت محمود، راجندر کرشن اور مدن موہن…… یہ 1964ء میں بنائی جانے والی انڈین فلم تھی جس میں جہاں آراء کی کہانی فلمائی گئی تھی۔

جہاں آراء شاہجہان کی سب سے بڑی بیٹی تھی اور اورنگزیب کی بڑی بہن تھی۔ جب اورنگزیب نے اپنے باپ شاہجہان کو آگرہ کے قلعے میں قید کر دیا تو جہاں آراء نے باپ کی دیکھ بھال کا فریضہ انجام دیا۔ شاہجہان ساڑھے سات برس تک اپنے بیٹے کی قید میں رہا۔ اس دوران جہاں آراء جو ایک شاعرہ بھی تھی کا یارانہ ایک شہزادے سے ہو گیا۔ یہ فلم اسی ’عشق‘ کی کہانی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان میں ان کے خصوصی حکم کے بعد یہ فلم ریلیز کی گئی تھی۔ میں نے 1980ء میں اسے ایبٹ آباد کے ایک سنیما گھر میں دیکھا۔ اس کے گانے ایک سے ایک بڑھ کر تھے۔ مدن موہن موسیقار اور راجندر کرشن اس کا گیت نگار تھا۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -