ریڈار خراب ، محکمہ موسمیات محض رسمی کارروائی کا ادارہ بن گیا

ریڈار خراب ، محکمہ موسمیات محض رسمی کارروائی کا ادارہ بن گیا
ریڈار خراب ، محکمہ موسمیات محض رسمی کارروائی کا ادارہ بن گیا

  

اسلام آباد(ڈی این اے )قدرتی آفات کا قبل از وقت پتہ چلانے والا قائم محکمہ موسمیات محض رسمی کارروائی کا ادارہ بن گیا ، کراچی ، اسلام آباد کے موسمی ریڈار خراب ہوگئے۔پاکستان میں قدرتی آفات کا قبل از وقت پتہ چلانے والا قائم محکمہ موسمیات محض رسمی کارروائی کا ادارہ بن گیا ہے ۔ کراچی میں 25 سال قبل نصب کردہ موسمیاتی تغیرات مانیٹر کرنے والا ریڈار اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے ، ریڈار ناکارہ ہونے کی وجہ سے تازہ ترین موسمی صورتحال کے بارے میں تمام معلومات اسلام آباد میں 24 گھنٹے کام کرنیوالے ریڈار سے ہی حاصل کی جاتی ہیں جبکہ اسلام آباد میں لگا ریڈار بھی خراب پڑا ہے ۔

حال ہی میں پشاور میں محکمہ موسمیات کا کوئی موثر سسٹم نصب نہ ہونے کی وجہ سے طوفانی بارشوں کی وجہ سے بروقت اطلاعات اور اقدامات نہ ہونے کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع سمیت بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ موسمیات کے پاس موجود سسٹم اپ ڈیٹ نہیں ہے ۔ پاکستان میں اس وقت 7 مقامات لاہور، سیالکوٹ، منگلا، رحیم یار خان، ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد اور کراچی میں ریڈار موجود ہیں جن کی مالیت ڈیڑھ ارب روپے سے زائد ہے ۔ موسمی حالات اور سیلاب کی صورتحال بتانے والے ایک ریڈار کی قیمت 25 کروڑ روپے سے زائد ہے جس میں لگے میگنٹ ٹران کی لائف پانچ سے چھ ہزار گھنٹے ہوتی ہے ، مسلسل چلنے سے میگنٹ ٹران کی قوت میں کمی ہو جاتی ہے ۔

حیران کن امر یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل نیپال، بھارت اور بنگلہ دیش کے بعض حصوں میں آنیوالے زلزلے کے جھٹکے پاکستان میں لاہور سمیت مختلف شہروں میں بھی محسوس کئے گئے تاہم محکمہ موسمیات کے پاس حساس اور جدید سسٹم نہ ہونے کے باعث پاکستان میں زلزلے کے جھٹکوں کی شدت کو ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔

مزید : اسلام آباد