سعودی حکومت نے ملک میں مقیم افراد کو خبردار کردیا، سخت وارننگ دے دی

سعودی حکومت نے ملک میں مقیم افراد کو خبردار کردیا، سخت وارننگ دے دی
سعودی حکومت نے ملک میں مقیم افراد کو خبردار کردیا، سخت وارننگ دے دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) رمضان المبارک میں بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوجانا پاکستان ہی کا مسئلہ نہیں ہے، تقریباً ہر اسلامی ملک ماہ مقدس میں پیشہ ور بھکاریوں کی یلغار کا شکار ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں اس حوالے سے سخت حکومتی اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس ماہ رمضان کے آغاز میں سعودی حکومت نے اپنے شہریوں کو سختی سے تنبیہہ کی تھی کہ بھکاریوں کو قطعاً خیرات نہ دیں حتیٰ کہ ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی نہ کیا جائے، تاکہ وہ اس لعنت سے نجات پا کر محنت سے رزق حلال کمانے کی طرف راغب ہو سکیں۔ سعودی وزارت داخلہ نے ایک بار پھر اپنے اس وارننگ کا اعادہ کرتے ہوئے شہریوں کو وارننگ دی ہے کہ بھکاریوں کو خیرات دینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:اس عرب بھکاری کےپاس اتنی دولت ہے کہ آپ کتنی ہی کوشش کر لیں یقین نہیں آئے گا

سعودی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق کہا گیا ہے کہ بھکاری سڑک پر سفر کرنے والے کارسواروں، پیدل چلنے والوں اور دکانداروں کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ بھیک دینے، کسی کو اس کام کے لیے اکسانے اوربھیک مانگنے والوں کو گرفتار کر لیا جائے گا اور ان میں جو تارکین وطن ہوں گے انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا جبکہ مقامی باشندوں کو ان کے آبائی علاقوں تک محدود کر دیا جائے گا۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والے بھکاریوں میں تقریباً85فیصد تارکین وطن ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقی ممالک سے ہے۔

مزید : بین الاقوامی