تیل کے کنوؤں کی تباہی کے بعد داعش نے پیسے کمانے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا، جان کر یقین کرنا مشکل

تیل کے کنوؤں کی تباہی کے بعد داعش نے پیسے کمانے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا، جان کر ...
تیل کے کنوؤں کی تباہی کے بعد داعش نے پیسے کمانے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا، جان کر یقین کرنا مشکل

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) داعش کے زیر قبضہ تیل کے کنوؤں پر امریکی بمباری کے بعد اس تنظیم کی تیل سے کمائی میں کمی آئی تو اس نے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ ڈھونڈ لیا، لیکن اس نئے ذریعے کو عالمی ورثے کی تباہی کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے۔

’’گلف نیوز‘‘ کے مطابق داعش اپنے زیر قبضہ علاقوں سے ہزاروں سال پرانے قیمتی نوادرات نکال کر بلیک مارکیٹ میں لاکھوں کروڑوں ڈالر کے عوض فروخت کررہی ہے اور اب یہ غیر قانونی کاروبار اس کی کمائی کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ داعش شام اور عراق کے ثقافتی ورثے کو نکالنے اور بیرون ملک غیر قانونی طریقوں سے فروخت کرنے کیلئے ایک خصوصی وزارت بھی قائم کرچکی ہے۔ اس وزارت کا نام تو آرکیو لوجیکل ایڈمنسٹریشن ہے لیکن اس کا کام نوادرات کی چوری ہے۔

مزید پڑھیں:داعش کے متعدد بمبار خطرناک منشیات کے عادی نکلے

’’گلف نیوز‘‘ کا کہنا ہے کہ شام اور عراق کے عجائب گھروں اور تاریخی مقامات سے چرائے گئے نوادرات کو ای بے، فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے گاہکوں کو متعارف کروایا جاتا ہے اور عموماً شام اور عراق سے چرائے گئے نوادرات ترکی اور لبنان کے راستے بلیک مارکیٹ کے تاجروں کو پہنچائے جاتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ داعش متعدد تاریخی مقامات پر کھدائی کا کام کررہی ہے اور اس مقصد کیلئے بڑی تعداد میں بلڈوزر، ٹرک اور افرادی قوت مختص کی گئی ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ داعش اب تقریباً 30 کروڑ ڈالر (تقریباً 30 ارب پاکستانی روپے) کے نوادرات ترکی، لبنان اور اردن کے راستے عالمی مارکیٹ میں بھیج رہی ہے۔

مزید : بین الاقوامی