بے موسمی پھل اور دماغ

بے موسمی پھل اور دماغ
بے موسمی پھل اور دماغ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میراٹھی کی مثال ہے کہ ریچھ کو بالوں کی کیا کمی ! تحریک انصاف کو حکومت کے خلاف دھاندلی کے ثبوتوں کی کیا کمی ؟ ان کی جانب سے دعووں اور وعدوں کا کال کہاں ۔اس نادرۃ الارض اور عجائب الدھرمیں ہی ممکن ہے کہ کپتان ایک ہی سانس میں سو سو الزامات کی بھر ماراور تکرار تو کریں، لیکن کوئی سچے جھوٹے ثبوت فراہم نہ کریں ۔وہ ایک ہی بات کو بار بار دہراتے اور پھر اس کو اتنا طول دیتے ہیں کہ برصغیر کے قصہ گومبلغ بھی ان کی طوالتِ بیانی پررشک کریں ۔داغ نے ناصح سے تو فقط اس کی زبان ہی لینی چاہی تھی۔وہ تو نہ لے سکے البتہ میانوالی کے پٹھان نے ضرور لے لی ۔

ملے جو حشر میں،لے لوں زباں ناصح کی

عجیب چیز ہے یہ طولِ مدعا کے لیے

کل تک خان صاحب کا 35پنکچروں کا تراشیدہ اسطورہ تھا ،اس میں جان ڈالنے کے لئے پوٹھوہاری کالم نویس اور ایک زوال زدہ میزبان نے پر شور اور پاپی پروپیگنڈامدتوں جاری رکھا ۔اب بات 35 پنکچروں سے 70پنکچروں تک آن پہنچی کہ کس کے منہ میں دانت ہیں خاں صاحب سے اس الزام کے کوئی حقیقی ثبوت مانگے ۔انہوں نے تو جوشِ جنوں اور طیشِ دوراں میں کچھ نہ کچھ کہنا ہے اور پھر ’’مستند ہے ان کا فرمایا ہوا‘‘۔حیرت ہے !حیرت سی حیرت ہے کہ خان صاحب کو اپنی بے معنی گفتگو اور باطل تاویل پر بعد میں بھی ذرہ بھر ندامت اور شمہ بھر شرمندگی نہیں ہوتی۔وہ شان بے نیازی سے بعد میں کہا کئے۔۔۔یار وہ تو سیاسی بیان تھا۔واہ حضور والا!

کوئی جان سے گیا اور آپ کی ادا ٹھہری

کار زارِ حیات اور کارخانہ قدرت میں بے موسم کے پھل ہی نہیں پائے جاتے ،دماغ بھی اُگ آتے ہیں ۔گاہ گاہ ایسا بھی ہونے لگتا ہے کہ ناوقت کی فصلوں کی طرح نا وقت کی طبیعتیں بھی ظہور پذیر ہوا کئے۔نا وقت کے پھلوں اور فصلوں کی مانند یہ طبیعتیں بھی اصولوں اور ضابطوں کے لیے اجنبی ہوتی ہیں ۔پھر جس طرح ہر موسم اپنے مزاج کی خاص نوعیت و کیفیت رکھتا ہے ،بعینہٖ بے موسمی دماغ بھی خاص معنوی مزاج رکھا کئے ۔حیات کے جس مرحلے اور مقام پر لوگ سیاست کرنے کے لیے کمر باندھتے ہیں ،کپتان کھول رہے ہیں ۔

کام تھے عشق میں بہت،پرمیر

ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے

وقت یا تو انہیں مٹا دے گا جیسا کہ ہمیشہ مٹاتا چلاآیا ہے،یا پھر محفوظ رکھے گاجیسا کہ ہمیشہ محفوظ رکھتا آیا ہے ۔کپتان جوشِ جنوں میں وقت کی منزل سے اتنے دورہورہے کہ جب بھی پلٹ کر دیکھیں گے تو گردِراہ کے سوا انہیں کچھ دکھائی نہ دے گا۔۔۔ اور یہ گرد بھی اپنی ہی تیز رفتاری کی اڑائی ہوئی۔وہ زمانے کے ساتھ تو نہیں چل سکے ،انہوں نے بھی چاہا کہ وہ زمانے کے اوپر سے تو گزر جا سکتے ہیں۔۔۔سو بے نیازانہ گزرنے چلے ہیں ۔

شاہ محمود قریشی ،شیریں مزاری ،اسد عمراور جہانگیر ٹائپ لوگوں نے بار ہا چاہا اور بیشتر سوچا کہ تصادم ہو اور قریہ قریہ ،چپہ چپہ احتجاج کا جادو سر چڑھ کر بولے۔حکام کا صبر کا پیمانہ چھلکے اور چپ کا روزہ ٹوٹے کہ ان کے احتجاج کے لئے فضا اورسماں سازگار ہو۔پلان اے سے لے کر زیڈ تک واللہ بااللہ کن کن ناموں پر ریاستی طاقت کو چیلنج کیا گیا کہ حکمرانوں کو بھی اپنی ناک کے بچاؤ کے لیے میدان میں کودنا پڑے ۔شعلہ بیانی کے الاؤ دامن کو جا لیں اورانا کے چولہے کے ا نگارے سب کو جلا کر خاکستر کر دیں ۔ چاہنے والوں نے تو یہ بھی چاہاکہ تحریک انصاف کے دیوانے اور ن لیگ کے متوالے الجھتے وجھپٹتے رہیں اور ان کی ہوس و حرص کی بھٹی کا ایندھن چلتا رہے ۔کیا یہی تھا ان کا تدبر اور حکمت ؟ کہ محروم اور مظلوم آپس ہی میں ٹکرا جائیں اور یہ سب دور کھڑے تماشا دیکھا کئے ۔

بعض معاملات اور حالات سطح پر سے ہی دیکھ لیے جا سکتے ہیں ،مگر متعدد معاملات و حالات مخفی ہوتے ہیں اورانہیں تہہ میں اتر کر دیکھنا اور ڈھونڈنا پڑتا ہے ۔آنے والے ایام بھی سونامیوں کی سنسنی و ہیجان سے خالی نہیں ۔نہیں معلوم کہ یہ جنوں کا سلسلہ کہاں تک دراز رہے اور ظلمت کی شبِ تیرگی کب تک صبح کی تازگی کو روکے رکھے ۔لیڈر اور قائد کی تو پہچان ہی یہ ہوا کئے کہ وہ نا مساعد اورکٹھن حالات میں بھی تصادم سے بچے ،جبر کے سمے میں بھی اپنے کارکنوں اور جانثاروں کو آبگینے کی طرح سینت و سنبھال رکھے ۔نا ممکنات میں سے ممکن کا راستہ تراشے اوراپنی منصوبہ بندی و حکمتِ عملی میں جان ومال کے اتلاف پرگہری نگاہ رکھے کہ ہونے نہ پائے یا پھر ہو تو کم سے کم ہواور ہاں اخلاقی برتری کی مال و متاع کو تو جاں سے بھی عزیزرکھے ۔ وادریغا!کپتان نے تو اپنی اخلاقی برتری کا بالکل لحاظ نہیں کیا۔یہاں تو الٹی ہی گنگا بہہ رہی کہ کارکنوں کا جذباتی استحصال زوروں پر ہے اور سیاسی واعظ اور قصہ گو اسے مزید مہمیز کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔حکومت دامن بچائے بھی تو سونامی کے علمبردار اور تبدیلی کے نقیب گرم رہنے کے بہانے الجھنے اور جھپٹنے لگتے ہیں ۔کسی وزیر یا مشیر کی لے تھوڑی سی اونچی ہو جائے تو پھر سونامی اور اس کے حامی دونوں کی چیخیں نکلنے لگتی ہیں۔

کپتان کے دل میں انتخابی دھاندلی کے شک کا کوبرا اور کالا ناگ کنڈلی مار ے بیٹھا ہے کہ ہو نہ ہو شریف برادران نے ان کی وزارتِ عظمیٰ ہتھیالی ہے ۔جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ شک کا یہ کانٹا کہاں سے اڑا اور ان کے دل میں تیر کی طرح ترازو ہو گیا ،واقفانِ حال با خبر کہ یہ چنگاری کس انگیٹھی سے اٹھی ۔ہم اس مسجد یا مزار کو کہاں پائیں جہاں کپتان کی ماہیتِ قلب کے لیے ہاتھ اٹھائیں اور لب ہلائیں کہ وہ یکایک اندھیرے سے نکل کر اجالے میں آن کھڑے ہوں ۔ان کا ہر سوال اپنا جواب پا لے ،ان کے ہرتقاضے کی طلب پوری ہو اور ان کی پیاس کو سیرابی عطا ہو ۔آخر وقت یا زمانے کے پاس کوئی تو کنجی ہو جو بے موسموں کے دماغوں کے الجھاؤ اور اٹکاؤ کا قُفل کھولے ۔

مزید : کالم