رینجرز، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی:معاملہ کہاں رُکے گا؟

رینجرز، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی:معاملہ کہاں رُکے گا؟
 رینجرز، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی:معاملہ کہاں رُکے گا؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

معاملہ حساس نوعیت کا ہے۔ کراچی میں گزشتہ چند ماہ سے رینجرز کا جو گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ اُس پر اب ایم کیو ایم ہی نہیں، پیپلز پارٹی بھی شدید تحفظات رکھتی ہے اور اپنے سخت ردعمل کا اظہار کر رہی ہے۔ یہ یاد رہے کہ کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات اور شدید عدم تحفظ کا شکار کراچی کے شہریوں کو ان ’’آفات‘‘ اور ’’سانحات‘‘ سے بچانے اور انہیں یہ احساس دلانے کے لئے کہ سیکیورٹی فورسز ابھی موجود اور زندہ ہیں اور یہ کہ وہ مکمل طور پر محفوظ اور قانون نافذ کرنے والی فورسز کے ’’حصار‘‘ میں ہیں۔ یہ گرینڈ آپریشن شروع کیا گیا، جبکہ کراچی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں بشمول ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ کراچی کو فوج یا رینجرز کے سپرد کیا جائے تاکہ شہر میں بڑھتی ہوئی سنگین وارداتوں کا سدّباب ہو سکے، جس پر وفاقی حکومت نے سندھ کی صوبائی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد نہ صرف رینجرز کو ’’کارروائی‘‘ کا حکم دیا، بلکہ انہیں بعض خصوصی اختیارات بھی تفویض کئے، جس میں انہیں جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کا ٹاسک بھی دیا گیا، جبکہ اس ’’خصوصی ٹاسک ‘‘ کو رینجرز نہایت احسن طریقے سے سے نبھا رہی ہے۔ رینجرز نے اب تک مختلف اہداف متعین کر کے جب اپنے ’’آپریشن‘‘ کا آغاز کیا اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تو سب سے زیادہ اعتراض ایم کیو ایم کو پیدا ہوا۔

نائن زیرو اور الطاف حسین کی بڑی بہن کے گھر عزیز آباد میں جرائم پیشہ افراد کی موجودگی اور ناجائز اسلحے کی اطلاعات پر جب چھاپے مارے گئے اور درجنوں جرائم پیشہ افراد جو پہلے ہی سے پولیس کو مطلوب تھے اور اشتہاری قرار دئیے جا چکے تھے۔کو جب گرفتار کیا گیا اور ناجائز اسلحے کی برآمدگی بھی کر لی گئی تو ایم کیو ایم نے واویلاکرنا شروع کر دیا۔ انہیں کسی صورت قبول نہیں تھا کہ رینجرز اُن کے مختلف جرائم میں ملوث کارکنوں اور رہنماؤں پر ہاتھ ڈالے۔ تاہم رینجرز نے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ارکان اور دیگر رہنماؤں کے سخت ترین بیانات کے باوجود کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز اپنا کام جاری رکھا۔ انہوں نے آپریشن کے دوران یہ ’’فرق‘‘ روا نہیں رکھا کہ وہ جس کو پکڑنے جا رہے ہیں، یا پکڑ رہے ہیں۔ اُس کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہے۔ اس میں ایم کیو ایم کے علاوہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بھی کافی افراد مختلف الزامات کے تحت پکڑے گئے تاہم پیپلز پارٹی کو اُس وقت رینجرز پر شدید اعتراض پیدا ہوا۔جب اُس نے کراچی کے بعض سرکاری دفاتر اور اداروں میں کرپشن کی اطلاعات پر اپنا ہدف بنایا اور کئی اہم عہدیداروں اور افسران کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ آصف زرداری اس قدر مشتعل نظر آئے کہ ایک تقریب میں جہاں میڈیا کے نمائندوں کی کثیر تعداد موجود تھی فوج اور رینجرز کے خلاف ایک متنازع بیان دے دیا، جس کے بعد آصف علی زرداری کو لینے کے دینے پڑ گئے۔

پیپلز پارٹی کے مختلف رہنماؤں کی طرف سے اس حوالے سے مختلف وضاحتیں آنے لگیں، لیکن آصف علی زرداری کے اس بیان کی شدت اپنی جگہ موجود رہی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت رینجرز کی کارروائیوں سے اس قدر خوفزدہ نظر آئی کہ اسے یہ بیان دینا پڑا کہ رینجرز صرف اس حد تک ہی کارروائی کرے، جس حد تک اختیارات اُسے سونپے گئے ہیں، یعنی وہ اپنی حدود سے ہرگز تجاوز نہ کرے اور یہ کہ کرپشن کے معاملات میں اُسے کارروائی کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے اس حوالے سے ایک بل بھی صوبائی اسمبلی میں لانے کی بات کی اور کہا گیا کہ رینجرز کو کراچی میں کسی بھی کارروائی کے لئے اُن کے اختیارات میں مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔ تاہم بعد میں رینجرز کے اختیارات میں ایک ماہ کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن میں یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اس کا سندھ اسمبلی سے منظور ہونا ضروری ہے، جبکہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے علاوہ ایم کیو ایم کی اکثریت ہے اور دونوں ہی جماعتیں رینجرز کی کراچی میں موجودگی اور اُس کی جانب سے ہونے والے آپریشن کے خلاف ہیں۔ اگرچہ اس نوٹیفکیشن پر وفاقی حکومت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ممبران کی جانب سے سندھ اسمبلی سیکرٹریٹ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے حوالے سے ایک قرار داد بھی جمع کرا دی گئی ہے، جس پر رائے شماری ہونا باقی ہے۔

تازہ ترین صورت حال یہی ہے کہ رینجرز کی مخالفت میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اکٹھی نظر آتی ہیں اور ایک جیسا مؤقف رکھتی ہیں۔ ایم کیو ایم کو رینجرز کی کارروائیوں پر سرے سے ہی اختلاف ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ رینجرز حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ کرپشن کے معاملات دیکھنا یا سرکاری اہلکاروں کے خلاف اس حوالے سے کارروائی کرنا صرف حکومت کا اختیار ہے۔ صوبائی حکومت کے اس مؤقف یا رینجرز کے خلاف اس ردعمل سے سول سوسائٹی میں پیپلز پارٹی اور اُس کی قیادت کی بہت ’’سبکی ‘‘ ہو رہی ہے اوروہ اپنے دامن میں بدنامیاں سمیٹ رہی ہے۔

مزید : کالم