کراچی میں امن کیسے قائم ہوگا؟

کراچی میں امن کیسے قائم ہوگا؟
 کراچی میں امن کیسے قائم ہوگا؟

  

یہ درست ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی، لیکن معاشرتی پرتوں کے اندر چھپے ہوئے دہشت گرد اور انتہا پسند ابھی آزاد ہیں اور جب چاہتے ہیں کوئی نہ کوئی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دہشت گرد منصوبہ بندی کے تحت منظم طریقے سے آگے بڑھتے ہیں ،جبکہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں صوبہ سندھ کی باگ ڈور ہے، وہ اتنے منظم نہیں ہو پا رہے کہ دہشت گردی کا سد باب کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کم تو ہوئی ہے،لیکن مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکی۔ بھتہ خوری کا زور بھی ٹوٹا ہے، لیکن تاجر پیشہ کمیونٹی کو ان سے مکمل نجات نہیں دلائی جا سکی، نو گو ایریاز تو ختم کئے گئے ہیں،لیکن دہشت گردوں کا مکمل قلع قمع نہیں ہو سکا۔ انتظامیہ کی جانب سے بچگانہ فیصلے کئے جاتے ہیں اور یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ عوام مطمئن ہو گئے اور حق حکمرانی بھی ادا ہو گیا۔

کیا سانحہ صفورہ گوٹھ کے واقعہ کے بعد علاقے کے ایس ایچ او کو معطل کر دینا اس مسئلے کا حل ہو سکتا تھا؟ لیکن ماضی کی طرح اس بار بھی ایسا ہی کیا گیا۔ ایسے واقعات کے سد باب کی ذمہ داری پوری نہ کرنے والے افراد کے خلاف کوئی کارروائی کی جانی چاہئے، لیکن محض دکھاوے، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے نہیں،بلکہ اصلاح احوال کے لئے۔۔۔ مقصد اگر حالات کی گرد بیٹھنے کے بعد ان افراد کو بحال کر دینا ہو تو ظاہر ہے کہ حالات میں بہتری کی توقع بھی نہیں کی جانی چاہئے۔ اسی طرح بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی سانحہ کے سد باب میں کامیاب نہ ہونے والے پولیس افسر کو ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔ ایں چہ معنی دارد؟ ایسے افراد جیسی نا اہلی کا مظاہرہ ایک پولیس سٹیشن پر کرتے ہیں، ویسا ہی دوسری جگہ بھی کریں گے، تو اصلاح احوال کیسے ہو گی؟

بلا شبہ کراچی میں رینجرز اور پولیس کے تعاون سے جاری آپریشن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو جب بھی موقع ملتا ہے، وہ کوئی نہ کوئی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف آپریشن میں تیزی لائی جائے۔۔۔ جس کا حکومتی سطح پر ہونے والے اعلیٰ اجلاسوں میں بجا طور پر اعلان بھی کیا گیا ہے۔۔۔ بلکہ قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کے ذمہ دار اداروں میں تطہیر کا عمل بھی شروع کیا جائے تاکہ ان میں چھپے مختلف مافیاز اور سیاسی گروہوں کے گماشتوں کو نکال باہر کیا جاسکے، جو مخبریاں کر کے آپریشن کی کامیابی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد میں بھی اسی بات کا تقاضا کیا گیا، قرارداد میں سانحہ صفورہ چورنگی میں 45بے گناہ افراد کے قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسماعیلی کمیونٹی کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی ظاہر کی گئی۔ قرارداد میں وفاقی اور سندھ، دونوں حکومتوں سے تقاضا کیا گیا کہ اس سانحہ کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں اور نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ واضح اور دو ٹوک قرار داد کے بعد بھی اگر کراچی میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جا سکے تو پھر عوام کا کوئی پُرسان حال نہ ہوگا۔سانحہ صفورہ چورنگی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بتایا ہے کہ سانحہ کی منصوبہ بندی میں ملوث گرفتار کئے گئے چار ملزمان نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ واقعہ کا ماسٹر مائنڈ بہاولپور سے پکڑا گیا ہے۔ اس کامیابی پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا واضح ہو گیا، قانون نافذ کرنے والے ادارے ٹھیک کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بالکل درست فرمایا، لیکن اس کارکردگی کو مزید بہتر بھی بنایا جا سکتا ہے ،وہ اس طرح کہ یہ ادارے ایسی منصوبہ بندی کریں کہ دہشت گرد اپنے کسی مذموم منصوبے کی تکمیل میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں ایسی ایک فورس یا ادارہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا، جس سے وابستہ افراد کسی سانحہ کے رونما ہونے سے پہلے ہی اسے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ غالباً اس حوالے سے معاملات زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ سکے، اسی لئے قومی سطح پر ایسے کسی ادارے کا وجود نظر نہیں آتا۔ ہمیشہ کوئی واقعہ رونما ہونے کے بعد ہی ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بہر حال یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے ذریعے ان بڑے گروہوں تک پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے، جو ملک کا امن تباہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جہاں تک ’’را‘‘کے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا تعلق ہے تو اپنے پچھلے کالم میں، مَیں نے اس پر تفصیلی بات کرتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ اس ایشو کو عالمی سطح پر اُٹھایا جائے تاکہ پوری دنیا پر بھارت کا اصل چہرہ واضح ہو جائے ،پھر عالمی برادری بھارتی قیادت پر دباؤ بڑھائے کہ وہ دہشت گردی کو فروغ دینے کے مذموم عزائم سے باز آ جائے۔

مزید : کالم