پاکستان کا آئین ۔ پاکستان کے لئے نہیں

پاکستان کا آئین ۔ پاکستان کے لئے نہیں
 پاکستان کا آئین ۔ پاکستان کے لئے نہیں

میرے اس مضمون کے عنوان سے یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ میَں کوئی قانون دان ہوں۔ میَں کروڑوں پاکستانیوں کی طرح ایک Concerned شہری ہوں، جس کی زندگی کا ہر لمحہ پاکستان کے آئین کے تحت گزرتا ہے۔ میرے جیسے بے شمار پڑھے لکھے اور عمر رسیدہ متاثرین آئین پاکستان ہوں گے جو سوچتے ضرور ہوں گے کہ کیا 1973ء کا آئین اپنی اصل شکل میں اور آج تک کی مسخ شدہ شکل میں ، ہم پاکستانیوں کی آرزؤں اور تمناؤں کے مطابق ہے یا نہیں۔ پاکستان جیسے نوزائیدہ ملک کی بدقسمتی یہ رہی کہ مسلمانانِ ہند کا صرف ایک ہی قابلِ زیرک اور معاملہ فہم لیڈر تھا جو قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شکل میں پاکستان کی تخلیق کاباعث بنا۔ ہمارا یہ عظیم رہنما پاکستان بننے سے قبل ہی تبِ دق جیسے موذی مرض سے خاموش لڑائی لڑ رہا تھا۔پاکستان کے وجود میں آنے کے ایک سال بعد ہی ہمارا اکلوتا رہنما چل بسا۔ دوسرے اورتیسرے درجے کے لیڈروں کے ہاتھوں میں پاکستان کی بھاگ ڈور آ گئی۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے جو لیڈر آئے اُن میں نہ کوئی وژن تھا اور نہ ہی اُن میں اتنی اہلیت تھی کہ وہ نوزائیدہ ملک کے مسائل کو دانشمندی اور حکمت سے حل کر سکتے۔ مقامی لیڈر زیادہ تر فیوڈلز تھے، جن کی سیاسی تربیت ڈسٹرکٹ بورڈر سے شروع ہو کر صوبائی اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے تک تھی۔ کسی بھی مُلک کا آئین بنانے کے لئے دُور اندیشی اور تدّبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئین کی تشکیل سے مُلک کی سمت کا ہمیشہ کے لئے تعین ہوتا ہے۔ یہ ایک قسم کا عمرانی معاہدہ ہوتا ہے، جو کسی بھی ملک کے عوام اپنی ریاست سے کرتے تھے۔ آئین کے لئے Constitutional Law کے ماہرین کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ 1947ء سے آج تک ہمارے ملک میں آئینی قانون سازی کے ماہرین دو ہی ہو گزرے ہیں۔ ایک جسٹس منیر جن کو زیادہ اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے دور میں واحد آئینی قانون کے ماہر تھے۔حسین شہید سہروردی ہمارے ملک کے دوسرے قابل آئینی ماہرتھے۔ اُن کی دلچسپی سے اور اُن کے دوسری آئین ساز اسمبلی کے سر گرم رکُن ہونے کی وجہ سے ہمارا پہلا آئین 1956ء میں بن سکا ،جو 1973ء کے آئین سے بہتر تھا،بلکہ ایک طرح سے سیکولربھی تھا، کیونکہ مشرقی پاکستان کے لبرل ممبرانِ اسمبلی آئین کو مذہبیت سے بچانا چاہتے تھے۔

1973ء کا آئین جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا۔ بھٹو صاحب اُس وقت پاکستان کے پہلے سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹر یٹر تھے۔ 1973ء میں مشرقی پاکستان الگ ہو چکا تھا۔ نئے پاکستان کی اسمبلی میں بھٹو صاحب کی پارٹی کی80نشستیں تھیں۔ وہ چاہتے تو پاکستان کے آئین کو زیادہ بہتر بنا سکتے تھے، جناب ایس۔ ایم ظفرجو ہمارے مُلک کے نامور ماہر آئینی قانون دان ہیں (اور ماشااللہ ابھی بھی چاق و چوبند ہیں)۔ اُن کی مشاورت سے 1973ء کا آئین زیادہ مکمل بن سکتا تھا، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ بھٹو صاحب جلد از جلد مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا طوق گلے سے اُتارنا چاہتے تھے اس لئے 1973ء کا آئین چوں چوں کا مرّبہ بن گیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1973ء کا آئین Theocratic بھی ہو گیا اور تضادات کا مجموعہ بھی بن گیا۔ آئین کے آرٹیکل 2 کے ذریعے پاکستانی ریاست کا مذہب اسلام بنا کر پاکستان کے لئے نہ ختم ہونے والی مشکلات پیدا کر دی گئیں۔ پاکستان کے قوانین اَب تک نہ ہی اسلامی بن سکے اور جہاں جہاں آرڈیننس یا عام قانون سازی اسلام کے مطابق کی بھی گئی وہ مزید اُلجھنوں کا باعث بن گئی۔ بغیر سُود کے بینکاری محض ایک نظری دھوکا ہے(Eye wash)۔ کوئی بھی جیدّ عالم ہماری اسلامِک بینکنگ شریعہ کے مطابق نہیں مانتا۔ بھٹو صاحب نے اپنے 4 سالہ دورِ حکومت میں اپنے ہی بنائے ہوئے آئین میں 7 ترمیمیں کر دیں۔ پی این اے کی تحر یک سے خوفزدہ ہو کر جمعہ کی چھٹی کا آرڈیننس پاس کر دیا، جس کی وجہ سے ہم قریباً 20سال تک بین الاقوامی امورِ تجارت میں ہفتہ میں صرف 4 روز کام کرتے رہے۔ جنرل ضیاء نے آکر 1973ء کے آئین کی مزید توڑ پھوڑ کی ۔ پہلے تو آئین کو معطل کیا اور پھر جو بھی آرڈیننس جنرل ضیاء نے جاری کئے یا فوجداری قوانین میں ترمیم کی وہ ملاؤں کو خوش کرنے کے لئے تھیں۔ حدود اورناموسِ رسالت کے فوجداری قوانین کو زیادہ واضح نہیں کیا گیا، جس کے نتیجہ میں ہم بین الاقوامی طور پر ایک تنگ نظر قوم سمجھے گئے حالانکہ برطانیہ اور یورپ کے کئی ممالک میں توہین عیسائیت کا قانون کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے لیکن وہاں یہ قانون ناجائز مقاصد مثلاً انتقام یا بلیک میلنگ کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا۔

ٹی وی پر سیاسی رہنماؤں کا تکرار سے کہا ہوایہ جملہ ’’ پاکستان کے آئین کے تناظر میں فلاں کام نہیں ہو سکتا‘‘ میّں جب سنتا تھا مجھے شوق ہوا کہ میَں اپنے ملک کے آئین کی Critical Study کروں۔ 1973ء کے آئین میں بھٹو صاحب نے مذہبی طبقوں کو خوش کرنے کے لئے ایک اِدارہ بہ اِسم ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ قاتم کیا۔ اس اِدارے کا مقصد پاکستان کے مروّجہ قوانین کی اِسلامی نقطہ نظر سے تطہیرکرنا تھا۔ ظاہر ہے جب پاکستان کو ایک ’’ اسلامی نظریاتی مُلک‘‘ بنا ہی دیا گیا تو پھر انگریز کے بنائے ہوئے قوانین پربھی نظرثانی کرنا ضروری تھا۔ اس نظریاتی کونسل کی سفارشات کو ماننا یا نہ ماننا پارلیمنٹ کی صوابدید پر ہے۔ شروع شروع میں تو اس کونسل کے ارکان جیدّ عالم اور سکالرز تھے، لیکن وقت کے ساتھ اس کونسل کی اہمیت بھی کم ہوتی گئی اور اس کے ارکان کا تقرر سیاسی واسطوں سے ہونے لگا۔ مولانا شیرانی صاحب جو آج کل اِسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ہیں کا خلع کے بارے میں تازہ تازہ بیان تو آپ نے سُنا ہی ہو گا۔ مُلک کے بڑے پائے کے علماء نے کونسل کی اس سفارش سے اختلاف کیا ہے۔ نظریاتی کونسل کی اور بھی بہت سی سفارشیں اختلافی قسم کی ہیں۔ 1973ء کا آئین ایک طرف کہتا ہے کہ تمام قوانین کو قرآن اور سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا اور دوسری طرف ایک کمزور سی اور سیاست زدہ اِسلامی نظریاتی کونسل ہے، جن مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے 1973ء کا آئین بنایا گیا تھا کیا ہم اُن مقا صد کا 10فیصد بھی حاصل کر سکے؟ ایک ایسا ہی اور اِدارہ ہے جو اَب ہمارے آئین کا حصہ ہے وہ ہے۔پاکستان شریعت کورٹ۔ جس شریعت کورٹ کے فیصلے سپریم کورٹ کے ایک اپیلٹ بینچ میں چیلنج ہو سکتے ہوں بھلا اُس شریعت کورٹ کی اسلامی نقطہ نظر سے کوئی توقیر رہ جاتی ہے۔ شریعت کورٹ نے جنرل ضیاء کے زمانے میں رجِم ( سنگ ساری کرنا) کو غیر شرعی قرار دیا جس کے خلاف جنرل ضیاء کی حکومت اپیل میں چلی گئی۔ آج تک اُس اپیل کا فیصلہ نہ حق میں ہوا اور نہ خلاف ۔ یہ ہی کیفیت بینکوں کے سوُدی نظام کی ہے۔ شر یعت کورٹ نے ہر قسم کے سُود بشمول بین الاقوامی قرضہ جات پر سود لینے اور دینے کو خلاف شریعہ قرار دیا،لیکن حکومت اپیل میں چلی گئی اور یہ فیصلہ بھی آج تک معلق ہے، جو آئین اپنے آپ کو منوانہ سکے تو پھر پاکستان ایک اسلامی ریاست کیونکر بنے گا۔ ہمارا آئین جیسا بھی تھا اُسے سنجیدہ لیا ہی نہیں گیا۔ 1973ء کے آئین کو جنرل ضیاء نے تو کاغذ کا چیتھڑا کہا تھا، لیکن ہمارے سیاست دانوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی پاکستان کے آئین کی ریڑھ مارنے میں۔

17 ویں ترمیم جو جنرل پرویز مشرف نے پارلیمنٹ سے اپنی فوجی وردی کے زور پر منظور کروائی تھی وہ تو بالکل ہی غیر آئینی تھی۔ 18ویں ترمیم تو ہے ہی ایک عجوبہ ۔ اس ترمیم کا بڑا مقصد ارکانِ اسمبلی کی ہارس ٹریڈنگ کو روکنا تھا،لیکن داد دیجئے ہمارے ارکانِ پارلیمنٹ کی کوتاہ بینی اور نااہلیت کی ۔ حزبِ اقتدار کی پارٹی کا لیڈر اور حزبِ اختلاف کا پارٹی لیڈر ، دونوں مل کر پاکستان کی جمہوریت کو یرغمالی بنا سکتے ہیں کیونکہ کوئی بھی اسمبلی ممبر اپنے پارلیمانی لیڈر کی مرضی کے خلاف اپنی رائے کا اِظہار پارلیمنٹ میں کرے گا تو اُس کو اپنی نشت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ 18 ویں ترمیم کی وجہ سے تمام پارلیمنٹ کے ارکان اپنے اپنے پارلیمانی لیڈروں کے روبوٹس ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی جعلی جمہوریت حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان مکمل مُک مُکاکی وجہ سے چل رہی ہے۔ کرپشن اور حکومتی نا اہلی کا کتنا چرچہ ہے ،کتنے ہی باضمیر ارکان اسمبلی ہوں گے جو اپنے ضمیر کی آواز پر بولنا چاہیں گے۔ وہ کرپشن اور نااہلی کے خلاف بات کرنا چاہیں گے، لیکن 18 ویں ترمیم نے اُن کی زبانوں پر تالے لگا دئیے ہیں۔

جس آئین کے تحت الیکشن کمیشن صرف حزب اقتدار اور حزبِ اختلاف کی مرضی سے بن سکتا ہو اور ملک کی دیگر پارٹیوں کی مشاورت اُس میں شامل نہ ہو تو یہ آئین جمہوریت کے خلاف ہے، جہاں نگراں حکومت بھی دوسری سیاسی پارٹیوں کی مرضی کے بغیر صرف حزبِ اقتدار مقرر کر سکتی ہو وہاں بھی ہمارا موجودہ آئین جمہوریت کی نفی ہے۔ جو آئین اسلام کے نام پر بنا ہو اور وہ پاکستانی عوام کی اسلامی کردار سازی نہ کر سکے، ایسا آئین ایک فریب ہے، جھوٹ ہے، دھوکا ہے، یہ عوام کے تحفظ کے لئے نہیں ہے۔ یہ آئین پاکستان کی روح کے خلاف ہے اور اسے بدلنا چاہئے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...