قوم کو اُردو بطور قومی زبان مبارک!

قوم کو اُردو بطور قومی زبان مبارک!

ملک قائم ہونے کے 67سال بعد قومی زبان اُردو کی سُنی گی اور بان�ئ پاکستان کے فرمان پر عمل کے آغاز کا اعلان کر دیا گیا ہے، وزیراعظم محمد نواز شریف نے6جولائی2015ء کو ایک حکم نامے پر دستخطکر کے تمام عمائدین حکومت کے لئے یہ لازم قرار دیا ہے کہ وہ مُلک کے اندر یا مُلک کے باہر کسی بھی تقریب میں خطاب کریں تو قومی زبان اُردو میں ہو۔ یہ بات مسٹر جسٹس جواد۔ ایس خواجہ کی سربراہی میں نفاذ اُردو کی رٹ درخواست کی سماعت کے دوران فاضل عدالت کو بتائی گئی، اس کے علاوہ نفاذ اُردو کے لئے آئندہ تین ماہ میں کئے جانے والے اقدامات سے بھی عدالت کو آگاہ کیا گیا۔آئین پاکستان کے مطابق قومی زبان اُردو ہے، لیکن عمل درآمد نہیں ہوتا، دُنیا بھر کے عمائدین حکومت کسی بھی تقریب میں جائیں اپنی قومی زبان میں بات اور تقریر کرتے ہیں، چینی ہوں یا عربی سبھی اپنی اپنی قومی زبان کا احترام کرتے ہیں۔ چین کے آنجہانی وزیراعظم چو۔این۔لائی خود انگریزی کے استاد تھے، لیکن انہوں نے کبھی کسی تقریر میں انگریزی زبان استعمال نہیں کی، ان کے ساتھ ہمیشہ مترجم ہوتا تھا اور یہ سلسلہ ابھی تک قائم ہے، لیکن پاکستان کی کسی حکومت نے بان�ئ پاکستان کے فرمان اور آئین پاکستان کی شق پر عمل نہیں کیا،اور اب عدلیہ کے ذریعے ہی یہ مسئلہ حل ہوا ہے۔ دوران سماعت سیکرٹری اطلاعات نے عدالت کو وزیراعظم کے احکام کے بارے میں بتایا اور پھر ایک سرکاری پالیسی سے بھی آگاہ کیا، جس کے مطابق وفاقی حکومت کے تمام شعبہ جات کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ اپنی پالیسی دستاویزات کا اُردو ترجمہ کرا لیں، تمام سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے فارم بھی اُردو میں ہوں گے، جبکہ تمام عوامی مقامات پر نصب معلوماتی بورڈ بھی اُردو میں ہوں گے۔ بجلی، گیس، پانی وغیرہ کے بلوں کے مندرجات سمیت ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ تک بھی اُردو میں اندراجات کے حامل ہوں گے اور یہ سب کام تین ماہ میں کیا جائے گا اور حکومت یہ اہتمام کرے گی کہ انگریزی کے ساتھ ساتھ ہر جگہ اُردو بھی اختیار کی جائے۔اگرچہ یہ مسئلہ عدلیہ میں دائر درخواست سے حل ہوا اس کے باوجود حکومت داد کی مستحق ہے کہ اُس نے باقاعدہ ایک پروگرام مرتب کر کے عدالت کے حوالے کیا ہے اور اس کے لئے مدت بھی تین ماہ کی مقرر کر دی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کو مبارک۔ یہ کام ان کے دستخطی حکم سے ہوا۔ یوں ان کا نام اس حوالے سے بھی تاریخ میں درج ہو گیا۔ اس عمل سے عوامی سطح پر بہت فائدہ ہو گا کہ عام آدمی کی پہنچ انگریزی تک نہیں، جہاں تک سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کا سوال ہے تو ان میں پہلے ہی سے اُردو ترجمے اور اُردو کا رواج ہے۔ اگرچہ بعض دستاویزات جوں کی توں انگریزی میں پیش کر دی جاتی ہیں، لیکن اب ایسے معاملات میں بھی ترجمہ لازم ہو گا، قوم بھی مبارک کی مستحق ہے۔

مزید : اداریہ