سردار عبدالقیوم خان مرحوم

سردار عبدالقیوم خان مرحوم

سردار عبدالقیوم بھی اِس دُنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ طویل عرصے سے بیمار تھے، چارپائی سے لگے ہوئے تھے، لیکن کشمیر کی تحریک آزادی سے غافل نہیں تھے۔ اُن کا دِل اِس کے لیے دھڑکتا تھا، اور آنکھیں اُس دن کی منتظر تھیں جب اُن ہی کا دیا ہوا نعرہ۔۔۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔ ایک حقیقت بنے گا۔ لاریب، وہ تحریک آزادئ کشمیر کے عظیم رہنما تھے۔ عین عالمِ شباب میں اس سے اپنا ناتہ جوڑا، اور91سال کی عمر میں آخری سانس لینے تک اِس کا دم بھرتے رہے۔ چار مرتبہ آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہوئے، وزارتِ عظمیٰ کا منصب بھی سنبھالا، مسلم کانفرنس کو توانائی بخشی اور اس سے توانائی حاصل بھی کی۔ قائد ملت چودھری غلام عباس کے دستِ راست رہے، اور ان کی وفات کے بعد اُن کی جانشینی کا فریضہ ادا کیا۔ آزاد کشمیر کے عوام کا اعتماد ان کو مسلسل حاصل رہا اور وہ بھی ان کی رہنمائی کا حق ادا کرتے رہے۔

سردار عبدالقیوم نے لاہور میں تعلیم پائی، اور لڑکپن ہی میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔ انجینئرنگ کور میں خدمات بجا لاتے ہوئے، جنگ عظیم دوئم کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں مقیم رہے۔ واپس آئے، تو استعفیٰ دے کر آزادئ کشمیر کا خواب آنکھوں میں سجا لیا۔ مہاراجہ کشمیر کے خلاف جہاد کا عَلم بلند کیا، اور نیلا بٹ کی پہاڑیوں میں پہلی گولی چلانے کا شرف اُن کے حصے میں آیا۔ یوں مجاہد اول کا لقب پایا، اور ماہ و سال کی شہادت ہے کہ انہوں نے عمر بھر اِس کی لاج نبھائی۔آزاد جموں و کشمیر کی ریاست کا حصول اِسی جہاد کے ذریعے ممکن ہوا تھا۔

سردار عبدالقیوم نے اپنے آپ کو کشمیری سیاست کے لئے خاص کیے رکھا لیکن پاکستانی سیاست کے اثرات کیونکہ وہاں کی حکومت اور سیاست پر بھی مرتب ہوتے ہیں، اس لیے اپنے آپ کو اس سے بالکل الگ تھلگ نہ رکھ سکے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں چودھری غلام عباس کے ساتھ مل کر اپوزیشن جماعتوں سے ناتہ جوڑے رہے۔ بھٹو صاحب کے خلاف تو اپوزیشن اتحاد کا باقاعدہ حصہ بن گئے۔ پاکستان قومی اتحاد کے نو ستاروں میں ایک ستارہ ان کا بھی تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے خلاف بننے والی ایم آر ڈی کے بھی وہ کنوینر تھے، لیکن طیارہ اغوا ہَوا تو انہوں نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ بھٹو صاحب کے خلاف قومی اتحاد کا پُرجوش حصہ ہونے کے باوجود ان کے اندر کا سیاست دان چوکس و ہوشیار رہا۔ جب ان سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے مذاکرات کی میز کو بچھانے اور سجانے میں کردار ادا کرنے کی ہامی بھر لی، اور بالآخر بات چیت کا آغاز ہو گیا۔ وہ انہیں کامیاب بنانا چاہتے تھے ان کی خواہش اور کوشش تھی کہ بھٹو صاحب اور قومی اتحاد میں معاہدہ ہو جائے، اور جمہوریت کی گاڑی پٹڑی پر رہے، لیکن وہ لوگ جیت گئے جو محاذ آرائی کو ہَوا دینا چاہتے تھے، اور مُلک مارشل لا کی نذر ہو گیا۔

جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا لگا تو سردار عبدالقیوم ابتداً اس سے شیر و شکر نہ ہو پائے۔ بھٹو مرحوم کی نواب محمد احمد خان قتل کیس میں گرفتاری ہوئی، ان پر مقدمہ چلا، لاہور ہائی کورٹ نے اُنہیں موت کی سزا سُنا دی۔ سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کر کے، بھٹو صاحب کی تقدیر کا فیصلہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ہاتھوں میں دے دیا۔ اس عرصے میں سردار عبدالقیوم بے چین و مضطرب رہے۔ بھٹو صاحب سے ان کے تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے تھے۔ انہوں نے سردار صاحب کو زچ کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی تھی، اس کے باوجود دونوں’’سیاسی پرندے‘‘ ایک دوسرے کے لیے دِل میں جگہ بھی رکھتے تھے، اور انہیں یقین تھا کہ سیاست پر قد غن لگے گی، تو وہ چہچہا نہ پائیں گے۔ سردار صاحب بھٹو صاحب کو تخت�ۂ دار پر لٹکانے کے شدید مخالف تھے، اور انہوں نے جنرل ضیاء الحق کو ایک پُر زور خط بھی لکھا تھا، لیکن جرنیلی ضرورتوں نے اس پر کان نہ دھرنے دیئے۔ بھٹو صاحب پھانسی چڑھا دیے گئے اور جنرل ضیاء الحق سردار عبدالقیوم کو اپنے مخالف کیمپ میں دھکیل کر مسرور ہو گئے۔ بہت دِنوں کے بعد دونوں کے درمیان مصالحت ہوئی اور سردار صاحب کو جنرل ضیا اپنا مرشد قرار دینے لگے۔ کشمیر کی تحریک آزادی کے وابستگان کے لیے حکومتِ پاکستان کی مخالفت میں کمر بستہ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ عارضی طور پر تو غصہ اتارا جا سکتا ہے،لیکن مستقلاً یہ رویہ نہیں اپنایا جا سکتا۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد سردار عبدالقیوم اور نواز شریف کے درمیان قربت کا تعلق استوار ہَوا، اور برسوں قائم رہا ۔۔۔ لیکن جنرل پرویز مشرف کے دور میں معاملہ الٹ گیا۔ سردار عبدالقیوم، ان کے فرزندِ ارجمند سردار عتیق احمد خان اور مسلم کانفرنس کو اس کا خمیازہ یوں بھگتنا پڑا کہ نواز شریف اُن سے خفا ہو گئے۔ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) کی بنیاد رکھی گئی، اور مسلم کانفرنس کے ناراض عناصر اس میں شامل ہو کر اپنا تشخص منوا (یا گنوا) بیٹھے۔ اسے سردار عبدالقیوم اور سردار عتیق کی ناکامی قرار دیا جا سکتا ہے یا حالات کے جبر پر اس کی تہمت دھری جا سکتی ہے۔

سردار عبدالقیوم اُردو اور انگریزی کے اعلیٰ پائے کے مقرر تھے، عربی میں بھی مافی الضمیر بیان کرنے پر قادر تھے۔ وہ عالمی رہنماؤں سے مل کر اپنا نقطہ نظر بیان کرتے، اور بین الاقوامی اداروں میں اپنی بات دلیل کی قوت سے آگے بڑھاتے تھے۔ تحریک آزادئ کشمیر کو تحریک پاکستان کا نامکمل ایجنڈا قرار دیتے، اور پاکستان سے الگ ہو کر کشمیر کے مستقبل کا تصور کرنے پر تیار نہ تھے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو ایک یکسر آزاد مملکت بنانے کے تصور کی کبھی حمایت نہیں کی، اور علیحدگی پسندوں کے خلاف سینہ سپر رہے۔ ان کے نزدیک خود مختار کشمیر کا مطالبہ، بھارت کو توانا کرنے کے مترادف تھا کہ اس سے تحریک کشمیر کا سب سے بڑا پشتیبان پاکستان بددل ہو سکتا تھا۔

سردار صاحب کا مشن ہنوز تشن�ۂ تکمیل ہے، کشمیر کا بڑا حصہ بھارت کی غلامی کے خلاف آج بھی مصروف جہد ہے۔ لاکھوں بھارتی فوجی آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک بڑا قید خانہ بنائے ہوئے ہیں۔ ہزاروں افراد ان کی بربریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، لیکن آزادی کا شعلہ سرد نہیں ہو پایا، ہر دن اس کی شدت اور حدت میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔سردار عبدالقیوم اِس دُنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کی یاد دِلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور انشاء اللہ تحریک آزادئ کشمیر کے جانبازوں اور سرفروشوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دے گی۔ کشمیر ایک دن ضرور پاکستان بنے گا، اور سردار صاحب کی قبر پر آزادی کا ترانہ ضرور گایا جائے گا ؂

کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجدؔ

تری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...