فلسطینی اتھارٹی کا سیاسی جماعتوں کیساتھ صحافیوں کیخلاف بھی کریک ڈاؤن

فلسطینی اتھارٹی کا سیاسی جماعتوں کیساتھ صحافیوں کیخلاف بھی کریک ڈاؤن

رام اللہ (این این آئی)فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ مغربی کنارے میں سیاسی جماعتوں کیخلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن کیساتھ آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے میں بھی صہیونی ریاست سے ایک ہاتھ آگے نکل گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام جیلوں میں دو جولائی سے جاری آپریشن کے دوران حراست میں لئے گئے پانچ صحافیوں کو بدستور پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔فلسطینی سیاسی کارکنوں کے اہل خانہ پرمشتمل کمیٹی کی جانب سے بتایا گیاہے کہ عباس ملیشیا مغربی کنارے میں سیاسی آزادیوں کو کچلنے کیساتھ آزادی صحافت پربھی حملے کررہی ہے۔ پانچ معتبر صحافیوں کو حراست میں لینے کے بعد انہیں تشدد کا نشانہ بنانا اس بات کا واضح اعلان ہے کہ فلسطینی اتھارٹی آزادی صحافت سے خوف زدہ ہے اور طاقت کے ذریعے صحافتی آزادی کو کچل کرصحافی کارکنوں کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے روک رہی ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا نے پچھلے ہفتے سیاسی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں پانچ سرکردہ صحافیوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

ان میں محمد عبدالعزیز بشارات، عمرو حلایقہ، ھیثم راسنہ، محمد عصیدہ اور مصعب حامد شامل ہیں۔بیان میں صحافیوں کی گرفتاری اور دوران حراست انہیں تشدد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اس کے نام نہاد سیکیورٹی ادارے اسرائیل کی خوش نودی کیلئے سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کوتشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ صحافیوں کی گرفتاری ذرائع ابلاغ پرپابندیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں صحافتی آزادیوں سے خوفزدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے صحافتی اداروں اور کارکنوں پر حملے شروع کردیئے ہیں اور انہیں ان کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی سے روکا جا رہا ہے۔

مزید : عالمی منظر