یونان کی پارلیمان نے معاشی اصلاحات کی حمایت کر دی

یونان کی پارلیمان نے معاشی اصلاحات کی حمایت کر دی

ایتھنز(آئی این پی )یونان میں ارکانِ پارلیمان نے معاشی اصلاحات کی ان تجاویز کی حمایت کر دی ہے جو کہ ملک کے قرض خواہوں سے قرضے کے بارے میں تیسرے ’بیل آوٹ‘ پیکج کے حصول اور یورو زون سے نکلنے کے خطرے کو ٹالنے کے لیے بھیجی گئیں۔ان معاشی اصلاحات میں پینشن میں تبدیلیاں اور ٹیکسوں میں اضافے جیسی تجاویز بھی شامل تھیں جن کو وزیر اعظم ایلکسس تسپیراس کی طرف سے کرائے گئے ریفرنڈم میں رد کر دیا تھا۔پارلیمان میں ہونے والی بحث کے دوران وزیر اعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پارٹی کی طرف سے کٹوتیوں کے بارے میں جو وعدے کیے گئے تھے یہ تجاویز ان سے مطابقت نہیں رکھتیں۔انھوں نے کہا لیکن لوگوں کو زندہ رکھنا اور یورو زون میں رکھنا ایک قومی فریضہ ہے۔یونان کی پارلیمان کے تین سو ارکان کی اکثریت نے ان تجاویز کی حمایت کی لیکن کئی حکومتی ارکان اور وزراء نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ہ

یا انھوں نے اس کی مخالفت کی۔یورپی یونین اور دیگر قرض خواہ ان اصلاحات کا اتوار کے سربراہی اجلاس سے پہلے جائزہ لے رہے ہیں۔فرانس اور اٹلی نے ان اصلاحات کا خیر مقدم کیا ہے لیکن جرمنی نے جو سب سے بڑا قرض دینے والا ملک ہے کہا ہے کہ سمجھوتے کی بہت کم گنجائش موجود ہے۔ تسپیراس نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ ان کی جماعت کو وہ اقدامات کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو اس کے پروگرام میں شامل نہیں تھے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ اتوار کے ریفرنڈم نے ووٹروں نے یور زون سے نکلنے کی منظوری نہیں دی ہے۔ ۔

مزید : عالمی منظر