حکومت غیر رجسٹرڈ افراد کو سپلائی پر عائد 2فیصد ٹیکس کو واپس لیں‘ خواجہ خاور رشید

حکومت غیر رجسٹرڈ افراد کو سپلائی پر عائد 2فیصد ٹیکس کو واپس لیں‘ خواجہ خاور ...

لاہور(کامرس رپورٹر) وفاق ایون ہائے تجارت وصنعت کی قائمہ کمیٹی برائے امن وامان کے چےئرمین و ایگزیکٹو کمیٹی ممبر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری خواجہ خاور رشید نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت غیر رجسٹرڈ افراد کو سپلائی پر عائد 2فیصد ٹیکس کو وآپس لیں،حکومت نے اس ٹیکس کو ایک فیصد سے بڑھا کر 2فیصد کر دیا ہے جس سے مینوفیکچرنگ کی لاگت میں اضافہ ہو گا۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ غیر رجسٹرڈ افراد ٹیکس نہیں دیتے ہیں جو مینو فیکچرر کو ہی برداشت کر نا پڑتا ہے ،حکومت اس ٹیکس کو ختم کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم کرکے سنگل ڈ یجٹ پر لے کر آئے،گیس ٹیکس واپس لیا جائے ، کم از کم تنخواہ کا ہدف 15ہزار مقرر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں سیلز ٹیکس بڑھا دیا ہے جس سے عام آدمی پر متاثر ہوتا ہے۔حکومت نے گیس اورٹیکس چوروں کو نہیں پکڑا اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے اگر عوام کو فائدہ پہنچانا ہے تو مہنگائی کم کریں،ایف بی کو غیر سیاسی اور خود مختار ہونا چاہیے اس کے بغیر ایف بی آر ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں ہو سکتا ہے۔انہوں نے بجٹ میں خیبرپختونخوا کی صنعت کو ٹیکس چھوٹ دینے کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے وہاں کی کاروباری سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا حکومت نے ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے سیلز ٹیکس کی زیرو فیصد تجویز تسلیم نہیں کی ہے جس سے صنعتکاروں اور برآمدکنندگان کے مسائل کم نہیں ہو گے۔ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے حکومت کو ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان کرنا چاہیے تھا جبکہ لاجر سکیل مینو فیکچرنگ میں اضافے کیلئے بھی خصوصی اقدامات کرنے کا اعلان بھی ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں فارماسیوٹیکل شعبے کو نظر انداز کیا گیا ہے اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز کم کرکے ڈائریکٹ ٹیکس میں اضافے کیلئے خصوصی اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو توانائی بحران کی وجہ سے بیمار صنعتوں کیلئے کسی قسم کی مراعات کا اعلان نہیں کیا ہے،تاجربرادری نے اربوں روپے کے ریفنڈ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے برآمدات پر زیرو فیصد سیلز ٹیکس کا مطالبہ تسلیم نہ کرکے ملکی برآمدات کے اضافے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیوایف بی آر کے جو ضلع اور تحصیل کی سطح پر آفسز ہیں اس کے عملے کو چھوٹے تاجروں اور فیکٹروں کے مالکان جو ٹیکس ادا نہیں کر رہیں ان کے پاس جا کر ان کو خلوص سے ٹیکس ادا کرنے کے فوائد بارے آگاہی دینی چاہیے۔ تاجروں اور صنعت کاروں پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے۔اسمگلنگ ہماری معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے،اسکی روک تھام کیلئے حکومت آہنی اقدام کرئے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت میں کمی،ملازمتوں کے نئے مواقع اور صنعتکاروں کا عمل تیز کرنے کیلئے ہمیں جی ڈی پی گروتھ کو موجودہ 4% سے بڑھا کر مسلسل کئی سال7%تک لے کر جانا ہو گا جیسا کہ بھارت اور چین گزشتہ کئی سالوں سے اپنی جی ڈی پی گروتھ 7%سے زیادہ حاصل کر رہے ہیں۔ہمیں بھی اتنی گروتھ حاصل کرنے کیلئے ملک میں انرجی کا بحران اور امن وامان کی صورتحال پر جلد از جلد قابو پانا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اشیاء جو سمگل ہو کر پاکستان غیر قانونی طور پر آتی ہیں ان پر سختی کی جائے اور اشیاء پر ڈیوٹیاں کم کی جائیں تاکہ قانونی طریقے سے یہ مال امپورٹ ہواور سرکاری خزانے میں بھی کروڑوں روپے وصول ہوں ۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...