سیب کی کثیر اقسام 1350 میٹر کی بلندی سے 2250 میٹر کی بلندی تک کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہیں، ماہرین زراعت

سیب کی کثیر اقسام 1350 میٹر کی بلندی سے 2250 میٹر کی بلندی تک کامیابی سے کاشت کی ...

اسلام آباد(آن لائن)سیب خالص ٹھنڈے علاقے کا پھل ہے اس کی کثیر اقسام 1350 میٹر کی بلندی سے 2250 میٹر کی بلندی تک کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہیں۔ ایسا علاقہ جہاں موسم سرما میں شدید سردی، موسم گرما میں کم گرمی (21-240C) مگر وافر مقدار میں سورج کی روشنی میسر ہو اور درجہ حرارت میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ نہ ہو۔ موسم بہار کورے سے پاک ہو، موسم بہار سے قبل (وسط دسمبر سے وسط مارچ) سے قبل خوابیدگی توڑنے اور پھول لانے کے لیے اس پودے کو 7 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت کے 1000 سے 1500گھنٹے (Chilling hours) درکار ہوتے ہیں۔ کم بلندی پر سردی کا مطلوبہ دورانیہ ممکن نہ ہونے کی وجہ سے پھول نہیں آتے لہٰذا پھل بھی نہیں بنتا۔ اَنا اور این شیمر سیب کی ایسی اقسام ہیں جن کو کم بلندی پر کاشت کیا جاتاہے۔ جن کو لوچلنگ ورائٹی (Low chilling varieties) کہا جاتا ہے۔ سیب کو مجموعی طور پر100 سے 125 سم سالانہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر بارشوں کا سلسلہ اگر پھول آنے، بارآوری کے دوران اور پھل پک جانے کے بعد جاری رہے تو پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ بارآوری کے دوران تیز ہوائیں، ابرآلود موسم، سردی کی اچانک لہر اور لمبے عرصے تک خشک سالی پھل کی پیداوار کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ پیداوار میں کمی کا ایک اور اہم عنصر ژالہ باری بھی ہے جس سے نہ صرف پھول اور پھل بلکہ پودوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...