بندرگاہوں پر سہولیات کے فقدان سے مسابقت متاثر ہو رہی ہے‘ اکانومی واچ

بندرگاہوں پر سہولیات کے فقدان سے مسابقت متاثر ہو رہی ہے‘ اکانومی واچ

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ پاکستان کی 90فیصد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے مگر سہولیات کے فقدان اور رش سے درامدات اور برامدات مہنگی اور مسابقت کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔ہماری بندرگاہیں تجارت کو ہموار کرنے کے بجائے رکاوٹ کا سبب ہیں جس کے لئے اضافی وسائل اورفوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا جا سکے۔ایل این جی کی درامد کا انقلابی منصوبہ بھی بندرگاہوں پر سہولیات نہ ہونے اور بیوروکریسی کی سازشوں کا شکارہے۔ جدید بندرگاہیں کامیابی کی کلید ہیں جسکے بغیر معیشت کے اہم شعبوں مینوفیکچرنگ، زراعت اور تجارت کی ترقی مشکل ہے۔پاکستان کی سمندری تجارت میں پورٹ قاسم کا حصہ 37فیصد ہے جو منافع کمانے کے باوجوداپنا فرض نہیں نبھا رہی۔پاکستانی بندرگاہیں بمشکل سالانہ گیارہ لاکھ کنٹینرزکو برت سکتی ہیں ۔

جبکہ متحدہ عرب امارت کی صرف علی جبیل کی بندرگاہ سالانہ دو کروڑ بیس کنٹینر ہینڈل کرتی ہے،عمان کی آٹھ بندرگاہوں میں سے صرف ایک سوہارجو گوارد سے صرف سو کلو میٹر دور ہے پندرہ لاکھ کنٹینر ہینڈل کررہی ہے۔سلطان قابوس پورٹ سالانہ دو کروڑ ٹن سے زیادہ کارگو ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ دنیا کی پچاس مصروف ترین تجارتی بندرگاہوں کی فہرست میں شنگھائی پہلے اور سنگاپور دوسرے نمبر پر ہے ہے جبکہ درجہ بندی میں پاکستان کی کسی بندرگاہ کا ذکر تک نہیں۔جنوبی ایشیائی ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر بتیسواں جبکہ سارک میں سب سے آخر میں ہے ۔دنیا میں کارگو جہازوں کی تعداد ایک لاکھ کے برابر ہے بھارت اور ایران کے جہازوں کی تعداد چار سو سے زیادہ ہے جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن جسکے پاس کبھی ستر جہاز تھے چند جہازوں سے کام چلا رہی ہے۔پاکستان کے قرب میں واقع دنیا کی جدید اور مصروف ترین بندرگاہوں کی موجودگی میں ہمارا کارگو وہاں منتقل ہو جاتا ہے جس سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔ بیان بازی کے بجائے عملی اقدامات کئے جائیں۔

مزید : کامرس