ترکی چینی نوجوانوں کوداعش اور دیگر تنظیموں کے ہاتھ فروخت کر رہا ہے ، چین کا الزام

ترکی چینی نوجوانوں کوداعش اور دیگر تنظیموں کے ہاتھ فروخت کر رہا ہے ، چین کا ...

 بیجنگ(خصوصی رپورٹ)چین نے الزام لگایا ہے کہ ترکی کے سفارتکار جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں موجود صوبہ سنگیانگ سے تعلق رکھنے والے یغورنوجوانوں کو ترک شناختی دستاویزات دے کر ترکی بھیج رہے ہیں جہاں سے انہیں لڑنے کے لئے داعش اوردیگر تنظیموں کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے۔ چین کی وزارت پبلک سکیورٹی کے کریمینل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈویژن چیف تونگ بیشان نے غیرملکی صحافیوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ یغور نوجوان چین کے باشندے ہیں مگر انہیں ترک شہریت کے حوالے سے شناختی دستاویزات دی جا رہی ہیں۔ ایسے سینکڑوں نوجوانوں کو خصوصاً ملائشیا کے دار الحکومت کوالالمپور میں ترکی کے سفارتخانہ نے دستاویزات مہیا کی ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں انہیں بھرتی کرکے دو ہزار روپے امریکی ڈالر دیتی ہیں جس کے بعد انہیں عراق ، شام اور دیگر ملکوں میں بھیج دیا جاتاہے۔ تونگ بیشان نے کہا کہ ترکی پہنچ کر یغورنوجوانوں کے لئے قانونی طورپر روزگارکمانے کا کوئی موقع نہیں ہوتااس لئے ان میں سے کچھ بالآخر انتہا پسند گروپوں کے پاس چلے جاتے ہیں، ان میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) بھی شامل ہے۔ چین کاکہنا ہے کہ یہ تنظیم علیحدہ ریاست کے قیام کی غرض سے سنکیانگ میں تحریک چلا رہی ہے۔تونگ بیشان نے کہا کہ ترکی لے جائے جانے والے نوجوانوں کو بعض مقامی قوتیں با آسانی کنٹرول کرلیتی ہیں۔ جن میں ای ٹی آئی ایم اور دوسرے دہشت گرد گروپ شامل ہیں۔ یہ تنظیمیں ان چینی نوجوانوں کو منظم کرتی ہیں،ان کی برین واشنگ کرتی ہیں اور پھر جنگجو کے طور پر لڑنے کے لئے لڑائی کے علاقے میں لے جاتے ہیں، اس طرح یہ ن وجوان توپوں کا چارہ بن رہے ہیں اور اپنی جانیں ضائع کر رہے ہیں۔ چینی افسر نے کہا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ اس وقت کتنے یغورنوجوان داعش کے لئے لڑ رہے ہیں تاہم انہوں نے بتایا کہ چینی حکام کو واپس آنے والے کچھ نوجوانوں کے موبائل فونز اورکمپیوٹروں میں سے پراپیگنڈا پرمبنی ویڈیوز اور پیغامات ملے ہیں،ان میں مرنے والے جنگجو ؤں کی تصویریں اور مرنے کے بعد ثمر ملنے کے وعدے پر مبنی پیغامات بھی شامل ہیں۔ اب چینی حکام واپس آنے والے ان نوجوانوں کو تعلیم دے رہے ہیں،ا نکی مدد کر رہے ہیں اوربتا رہے ہیں کہ اصل اسلام کیا ہے، اس سے پہلے وہ انٹرنیٹ پر مواد سن اور دیکھ رہے تھے جو بے ضابطہ اماموں کی طرف سے مہیاکیاجاتاہے۔ تونگ بیشان نے بتایا کہ اس سال ایسے نوجوانوں کے بہت سے گروپوں کو جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں سے واپس بھیجا گیا ہے،ا ن میں اس ہفتے تھائی لینڈ سے آنے والے ایک سو نو افراد بھی شامل ہیں،انہیں واپس بھیجے جانے پر ترکی میں موجود یغور نوجوانوں نے مظاہرے کئے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...