اوفا اجلاس ‘پاکستان دہشتگردی پراپنا موقف ثابت کرنے میں کامیاب رہا

اوفا اجلاس ‘پاکستان دہشتگردی پراپنا موقف ثابت کرنے میں کامیاب رہا

اوفا، روس(ڈی این ڈی)روس کے شہر اوفا میں ختم ہو نے والے شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) اور برکس کے اجلاسوں نے پاکستان کے اس نقطہ نظر کو پھیلانے میں بہت اہم کردار کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ پورے خطے میں امن قائم کرنے کے لئے لڑ رہا ہے۔روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق سب سے اہم کامیابی جو پاکستان کو ملی ہے وہ یہ ہے کہ ایس سی او کے تما م ممالک یہ بات تسلیم چکے ہیں کہ دہشت گردوں کے گروہ جو کہ افغانستان میں موجودہیں ان کو بھارت کی طرف سے حمایت مل رہی ہے۔روسی اخبار یوروایشین نیوز میں چھپنے والے ایک مضمون کے مطابق تاجکستان اور ازبکستان نے ایس سی او کی سربراہوں کی میٹنگ میں زور دیا ہے کہ دہشت گرد مسلسل افغان سرحد سے ان کے ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔وسطی ایشیائی ممالک کا یہ بھی کہنا تھا کہ نورستان بدخشاں کے صوبے سے جن دہشت گردوں نے تاجکستان میں گھسنے کی کوشش کی وہ دراصل کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد پاکستان سے بھاگ کر اس علاقے میں آ چکے ہیں۔تحریک طالبان پاکستان اور بھارت کی خفیہ تنظیموں کے درمیان تعلقات پہلے ہی خبروں کا حصہ بن چکے ہیں۔ڈسپیچ نیوز ڈیسک (ڈی این ڈی) نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں پاکستان کے وفد نے برکس اور ایس سی او کے اجلاسوں میں شرکت کرنے والے مندبین کو عندیہ دیا کہ افغانستان کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف وہ اقدامات نہیں اٹھا رہی جس کی ضرورت ہے اور پاکستان سے بھاگنے والے ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغانستان میں آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ بھی ہے جو 55ہزار پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ہے۔ایس سی او کے اجلاس میں بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی سخت دباؤ کا شکار رہے کیونکہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کھل کر بار بار اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں ہیں اور پیوٹن نے وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ملاقات میں بھی پاکستان کے کردار کو بہت سراہا ہے ۔پیوٹن نے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور پاکستان کی افواج کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ روس پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھر پور تعاون فراہم کرے گا اور روس پاکستان کو خطے میں بہت اہم دوست سمجھتا ہے۔روسی اخبارات کا کہنا ہے کہ ایس سی او کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے وزرا ئے اعظم کی ملاقات دراصل ایک سائیڈ لائن ملاقات تھی اور ایسی ملاقاتوں کا مقصد مستقبل میں طے ہونے والی ملاقاتوں سے ہوتا ہے جبکہ سائیڈ لائن میں کی جانے والی ملاقاتیں نتیجہ خیزثابت نہیں ہوتیں۔وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں روسی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے اخبارات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم ایک مسکراہتے چہرے والی شخصیت ہیں جو ایس سی او سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا کر اسلام آباد واپس چلے گئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول