افغانستان میں امریکی درون حملہ، حافظ سعید اور کزئی 30ساتھیوں سمیت ہلاک

افغانستان میں امریکی درون حملہ، حافظ سعید اور کزئی 30ساتھیوں سمیت ہلاک

 کابل(اے این این)افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کیلئے داعش کا امیر حافظ سعید اورکزئی 30ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا ۔ افغان انٹیلی جنس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈرون طیارے نے سعید خان کو ننگرہار کے جنوبی علاقے میں نشانہ بنایا،ڈرون حملہ اس وقت کیا گیا جب داعش کا اجلاس جاری تھا ۔حافظ سعید خان اورکزئی کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے تھا اور وہ اس سے قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر تھا تاہم بعد میں اس نے ٹی ٹی پی چھوڑ کر داعش میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔حافظ سعید خان کو رواں برس 27 جنوری کو پاکستان اور افغانستان کیلئے داعش کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا ۔حافظ سعید افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی داعش کا امیر تھا۔وہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان کے موجودہ سربراہ ملا فضل اللہ کے ساتھ اختلافات کے باعث طالبان کو چھوڑ رکر داعش میں شامل ہوا تھا۔افغان انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حافظ سعید پر ڈرون حملہ کب ہوا تھا۔ افغان اسلامک پریس نے ملک کے خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حافظ سعید اورکزئی کو صوبہ ننگرہار کے ضلع آچن میں ہونے والے میزائل حملے میں مارا گیا۔ننگرہار پولیس کے ترجمان حضرت حسین مشرقی نے کہا ہے کہ غیر ملکی افواج کے ڈرون طیارے نے آچن میں ششپارپیخی کے علاقے میں گذشتہ روز حملہ کیا جس میں 30 شدت پسند ہلاک ہوئے۔اے آئی پی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جمعے کو ہوا مگریہ واضح نہیں کہ اس میں اور کتنے شدت پسند ہلاک ہوئے۔پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والا سعید خان ماضی میں اس علاقے میں تحریکِ طالبان پاکستان کا امیر تھا اور اس نے گذشتہ برس اکتوبر میں ہی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔اسے اس شدت پسند تنظیم نے خراسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔تحریکِ طالبان چھوڑنے والوں میں شاہد اللہ شاہد کے علاوہ سعید خان، فاتح گل زمان، دولت اللہ، مفتی حسن اور خالد منصور شامل تھے۔دو روز قبل ننگر ہار میں ہی ایک ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سابق مرکزی ترجمان اور افغانستان میں دولت اسلامیہ میں تیسرا بڑا رہنما شاہد اللہ شاہدمارا گیا تھا۔یہ ہلاکتیں ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہیں جب ایک طرف افغانستان میں طالبان اور دولت اسلامیہ کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے تو دوسری جانب افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان پاکستان میں بات چیت ہو رہی ہے۔سعید خان دولتِ اسلامیہ کا حصہ بننے والے پانچ پاکستانی طالبان رہنماؤں میں سے وہ رہنما تھا جس کے دولتِ اسلامیہ میں جانے کو پاکستانی طالبان نے بڑا نقصان قرار دیا تھا۔ان شدت پسند رہنماؤں کی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے وقت کہا گیا تھا کہ منحرف ہونے والے افراد کو افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر کی امارت پر شک تھا۔

جنوبی وزیرستان (مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں دہشتگردوں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے جواب میں فورسز نے کارروائی کی، اس جھڑپ میں 8شدت پسند ہلاک جبکہ 4سیکیورٹی اہلکار شہید اور 4زخمی ہو گئے۔سیکورٹی ذرائع کا کہناہے کہ دہشتگردوں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا،اس دوران میں سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کاتبادلہ ہوا جس سے 8دہشتگرد مارے گئے جبکہ باقی دہشتگرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ،فائرنگ کے تبادلے میں چار سیکیورٹی اہلکار شہید بھی ہوئے ہیں اور زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو طبی امداد کیلئے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیاہے۔سیکیورٹی نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیاہے۔

مزید : صفحہ اول