سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گردوں سے تفتیش مکمل ، ملزموں نے اعتراف جرم کر لیا

سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گردوں سے تفتیش مکمل ، ملزموں نے اعتراف جرم کر لیا

 کراچی(اے این این)سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گردوں سے تفتیش مکمل،مرکزی دہشت گرد طاہر عرف سائیں نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے دوران انکشاف کیا کہ اس نے صفورا بس واقعہ میں20 سے زائد افرادکو فائرنگ کے ہلاک کیا ،عبداللہ عرف عبدالعزیر نے طاہر عرف لمبا کو اسماعیلیوں کی بس پر حملے کا حکم ،منصوبہ بندی طاہر عرف لمبا نے کی ،سانحہ میں استعمال ہونے والی پولیس وردیاں لنڈا بازار سے خریدی گئیں ، دہشتگردوں کے خرچے کیلئے بحرین سے ماہانہ 5لاکھ روپے آتے تھے۔ تفصیلات کے مطابق ۔ سانحہ صفورا میں گرفتار دہشت گردوں سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقات مکمل کرلیں ۔ تفتیش کیلئے بنائی جے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے تمام دہشت گردوں کو قصوروار ٹھہرا دیا گیا۔ ۔ تحقیقاتی ٹیم نے گرفتار ملزمان کو قصوروار قرار دیا جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم ( جے آئی ٹی) میں حساس اداروں ٗ سی ٹی ڈی ٗ رینجرز اور دیگر اداروں کے افسران شامل تھے ۔ تمام دہشت گردوں کا جھوٹ پکڑنے والی مشین سے ٹیسٹ کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق مرکزی دہشتگردی نے بتایا کہ 1999 میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ وہ اس سے قبل کشمیر جہاد میں بھی حصہ لے چکا ہے ملزم نے2000 افغانستان میں کلاشنکوف ، دستی بم ، راکٹ فائر اور دیگر اسلحہ چلانے سمیت زمینی لڑائی کی تربیت لے کر مہارت حاصل کی تھی ، دہشت گرد طاہر عرف سائیں نے مزید انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کے صوبے قندھار میں الفاروق ٹریننگ کیمپ میں اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سے ملاقات بھی کی تھی ۔ملزم حیدر آبادکا رہائشی تھا اور تربیت حاصل کرنے کے بعد واپس اپنے گھر حیدر آباد آگیا تھا اور پہلی بار ہندو تاجر گنیش کمار کو اغوا اور قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا تاہم ڈھائی سال بعد وہ رہا ہوگیا تھا ۔ دہشت گرد طاہر عرف سائیں نے انکشاف کیا کہ گروپ چلانے کیلئے بحرین سے5 لاکھ روپے ماہانہ آتے تھے جس سے گروپ میں شامل دیگر دہشت گردوں کا خرچہ چلتا تھا ۔ دہشت گرد نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے 2013 میں الیکشن کے دوران کراچی میں برنس روڈ پر متحدہ کے سیکٹر آفس ، لانڈھی میں الیکشن کیمپ ، عائشہ منزل اور کامران چورنگی گلستان جوہر میں امام بارگاہوں ، نیپا چورنگی پر پولیس موبائل اور قیوم آباد کے قریب رینجرزکے اعلی افسر کے قافلے کونشانہ بنانے کا بھی اعتراف کیا ہے ۔اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کمزورہوگئی تھی جس کے بعد ان کا گروپ داعش کی جانب راغب ہوگیا تھا ، دہشت گرد طاہر عرف سائیں نے فرسٹ ایئر تک تعلیم حاصل کی اوروہ 2 بچوں کا باپ ہے اس کا ایک بھائی ڈاکٹر اور دو بہنوئی گجرات پولیس میں ملازم ہیں ۔تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ شام سے عبداللہ عرف عبدالعزیر نے طاہر عرف لمبا کو اسماعیلیوں کی بس پر حملے کا حکم دیا تھا حملے کی مکمل منصوبہ بندی طاہر عرف لمبا نے کی ۔ عبداللہ عرف عبدالعزیر پہلے کراچی میں ہوتا تھا گروہ میں اختلافات کے بعد شام جاکر داعش میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔ عبداللہ عرف عبدالعزیر کے بعد طاہر لمبا نائب امیر تھا سانحہ صفورا میں استعمال ہونے والی پولیس وردیاں لنڈا بازار سے خریدی گئیں ۔

مزید : صفحہ اول