رینجرز کے اختیار ات پر وفاق اور سندھ میں کوئی اختلاف نہیں ، پرویز رشید

رینجرز کے اختیار ات پر وفاق اور سندھ میں کوئی اختلاف نہیں ، پرویز رشید

 لاہور (آئی این پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا نیب صرف لوگوں پر الزام لگا دے اورلوگ 20،20سال دھکے کھاتے پھریں‘احتساب کا ادارہ کیسا ہونا چاہیے اس کافیصلہ پارلیمنٹ کرے گی‘(ن) لیگ کی حکومت نے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیاہے کراچی میں امن کے لیے سب مل کر کام کر رہے ہیں‘رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر وفاق اور سندھ میں کوئی اختلاف نہیں‘ آصف زرداری پاکستانی ہیں وہ جب آنا چاہیں جب یہاں رہنا چاہیں ان کو آزادی حاصل ہے‘ اگر مشرف حکومت کا تختہ نہ الٹے تو آج پاکستان نہ تو دہشت گردی کا شکار ہوتا ، نہ معاشی طور پر کمزور ہوتا اور مسئلہ کشمیر بھی حل ہو چکا ہوتا‘پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات میں تمام متنازعہ امور پر بات چیت ہوئی ،سارک کانفرنس میں بھارتی وزیر اعظم کو دعوت کا مقصد مسائل کو حل کرنا ہے۔ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں افطار ڈنر میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران تمام حل طلب مسائل پر بات ہوئی اور کون نہیں جانتا کہ کشمیر انہی حل طلب مسائل میں سے ایک ہے ۔ملاقات میں مسئلہ کشمیر ، سیاچن اور پانی کے مسئلے سرفہرست تھے ۔مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مضبوط اور مستحکم پاکستان ضروری ہے ۔ وزرائے اعظم کے اعلامیے کے ذریعے ہی ہم ان تین مقاصد کو حاصل کر سکتے ہیں اور آئندہ بھی جب پاک بھارت وزرائے اعظم مذاکرات ہوں گے تو تمام حل طلب مسائل پر گفتگو ہو گی ۔ وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی ، اقوام متحدہ ، قومی سلامتی کونسل اور پوری دنیا میں ہر سطح پر اٹھایا ہے اور آئندہ بھی جب دونوں وزرائے اعظم کے مابین ملاقات ہو گی تو مسئلہ کشمیر اور دیگر تمام معاملات پر لازماً گفتگو ہو گی اورپوری دنیا بھی جانتی ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر اس خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی طور پر کمزور کرنے کا واحد ذمہ دار پرویز مشرف تھے انہی کے اقدامات کی وجہ سے ہی جدوجہد آزادی کشمیر کو نقصان پہنچا کیونکہ لاہور میں طے شدہ اعلامیے کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جانا تھا ، جب واجپائی لاہور آئے تو انہوں نے 1999ء کو مسئلہ کشمیر کے حل کا سال قرار دیا تھا اگر مشرف حکومت کا تختہ نہ الٹے تو آج پاکستان نہ تو دہشت گردی کا شکار ہوتا ، نہ معاشی طور پر کمزور ہوتا اور مسئلہ کشمیر بھی حل ہو چکا ہوتا۔ مشرف کی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑا ۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری پاکستانی ہیں ، یہ ان کا وطن ہے وہ جب آنا چاہیں جب یہاں رہنا چاہیں ان کو آزادی حاصل ہے اور وہ ہر طرح کی سیاسی سرگرمیاں بھی کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں آپریشن وفاقی اور سندھ کی تمام جماعتوں کی متفقہ رضا مندی کے ساتھ شروع کیا گیا تھا ، اس میں قومی سلامتی کے تمام اداروں نے انتہائی محنت سے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے کراچی کو پر امن بنایا ہے ۔ وہاں شرپسندوں کے خلاف کارروائیوں میں بہت سے کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ، کراچی میں وفاق اور سندھ کے تمام ادارے مل جل کر کام کر رہے ہیں اور رینجرز کے اختیارات کے معاملے میں میں کوئی اختلافات نہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اب پاکستان پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہے ۔ دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے جس کا سہرا پولیس ، فوجی جوانوں اور خفیہ ایجنسیوں کے سر ہے ۔ ہمارے فوجیوں نے ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کر دیا ۔ نیب میں 150کیسز کے حوالے سے سوال کے جواب میں سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ احتساب کا عمل جاری رہنا چاہیے ، احتساب کے اداروں کو آزاد ، خودمختار ، توانا اور طاقتور ہونا چاہیے لیکن اس میں اگر کوئی کمی اور کوتاہیاں ہیں تو ان کو بھی دور کرنا چاہیے وہ جس پر الزام لگائیں اسے جلد از جلد عدالت میں لاجانا چاہیے تاکہ اس کا گناہ اور بے گناہی ثابت ہو سکے ۔ یہ نہیں کہ صرف لوگوں پر الزام لگا دیا جائے اور وہ 20،20سال دھکے کھاتے پھریں ۔احتساب کا ادارہ کیسا ہونا چاہیے اس کافیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔پرویز مشرف کی جانب سے سیاستدانوں کو اکٹھا کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں پرویز رشید نے کہا کہ پرویز مشرف جب اپنی پوری طاقت میں موجود تھے ، سپریم کمانڈر تھے ، صدر تھے تو تب انہوں نے ایک مسلم لیگ بنائی تھی اس کا کیا حال ہوا سب جانتے ہیں ، انہوں نے میرے ایک مرحوم دوست کے ذریعے آبپارہ میں بنائی اور آبپارہ میں بننے والی وہ سیاسی جماعت اب پارہ پارہ ہو چکی ہے ۔قبل ازیں سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ کشمیر، سیاچن اور سر کریک متنازعہ امور ہیں ۔پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات میں تمام متنازعہ امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کا عمل خطے میں پر امن ماحول پیدا کرنے کیلئے خوش آئند ہے ۔ بھارت میں بھی انتہا پسند موجود ہیں جو اپنے لوگوں کو جھوٹی تسلیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو تنہا کرنے کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کیا تھا لیکن چین سمیت دیگر ملکوں نے بھارتی موقف کی حمایت نہیں کی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہتا ہے۔ سارک کانفرنس میں بھارتی وزیر اعظم کو دعوت کا مقصد مسائل کو حل کرنا ہے ۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...