خاتون کو بانجھ کرنیوالے میاں بیوی ڈاکٹر زکیخلاف چیف جسٹس کو درخواست

خاتون کو بانجھ کرنیوالے میاں بیوی ڈاکٹر زکیخلاف چیف جسٹس کو درخواست

لاہور(نامہ نگار خصوصی )ڈاکٹر میاں بیوی نے آپریشن کرکے میری بیوی کو بانجھ بنا دیا ہے،یہ الزام ضلع ننکانہ کے ایک معذور شہری شاہد محمود نے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس ناصر الملک کو بھیجی گئی ایک درخواست میں عائد کیا ہے ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چند سال قبل ایک حادثہ میں درخواست گزار کی دونوں ٹانگیں ناکارہ ہو گئی تھیں،اس کی بیوی صباء شاہد2014ء میں حاملہ ہوئی تو اسے ریگولر چیک اپ کے لئے یاسمین ہسپتال کالج روڈ شاہ کوٹ لے جایا جانے لگا ۔ یہ ہسپتال میاں بیوی ڈاکٹر ز ، ڈاکٹر یاسمین اشرف اور ڈاکٹر محمد اشرف چلاتے ہیں ۔12ستمبر2014ئکو یاسمین ہسپتال میں آپریشن کے ذریعے اس کی بیوی نے ایک بیٹے کو جنم دیا ۔ دونوں نا اہل ڈاکٹرز نے دوران آپریشن خاتون کا کوئی نازک حصہ کاٹ دیا جس سے اسے پیشاب اور پاخانہ اکٹھا آنے لگا ۔ ڈاکٹرز میاں بیوی نے اپنی نااہلی اور اس ظلم پر پردہ ڈالنے کیلئے اسے تین ہفتے تک اپنے ہسپتال میں داخل کئے رکھا تاہم طبیعت خراب سے خراب تر ہوتی گئی جس پر درخواست گزاراپنی بیوی کو فیصل آباد کے ایک بڑے پرائیوٹ ہسپتال لے گیا ۔ وہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ یاسمین ہسپتال کے ڈاکٹروں نے میری بیوی کی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ میں ایک غریب آدمی ہوں میرے پاس جو بھی جمع پونجی تھی میں نے اپنی بیوی کے علاج پر خرچ کر دی ہے ۔ میری بیوی کی صحت ابھی تک خطرے میں ہے اور ڈاکٹرز نے بتایا ہے کہ شاید اب وہ کبھی دوبارہ ماں نہ بن سکے ۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ یاسمین ہسپتال کالج روڈ شاہ کوٹ کے میاں بیوی ڈاکٹرز ، ڈاکٹر یاسمین اشرف اور ڈاکٹر محمد اشرف کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ان کے میڈیکل پریکٹس کرنے کے لائسنس منسوخ کئے جائیں اور ان کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ وہ میری بیوی کی طرح کسی دوسری حاملہ خاتون کی زندگی اور صحت سے نہ کھیل سکیں ۔

ڈاکٹر،درخواست

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...