پالیس کی ناقص کارکردگی اور کمزور پراسیکیوشن سالانہ ہزاروں ملزم سزا سے بچنے لگے

پالیس کی ناقص کارکردگی اور کمزور پراسیکیوشن سالانہ ہزاروں ملزم سزا سے بچنے ...

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پنجاب پولیس کی ناقص کارکردگی اور کمزور پراسیکیوشن کے باعث ملزم سزاؤں سے بچنے لگے۔مئی 2014سے مئی 2015تک ایک برس کے دوران صوبے میں مختلف فوجداری مقدمات میں ملوث 31ہزار 9سو ملزم بری ہوئے اور 34ہزار 3سو کو سزادی جاسکی۔ جبکہ اس کے برعکس مئی 2013سے مئی 2014تک ایک برس کے دوران 31ہزار 2سو ملزم بری ہوئے اور 35ہزار 5سو کو سزائیں دی گئیں۔بتایا گیا ہے کہ 80ارب روپے سے زائد سالانہ بجٹ استعمال کرنے والی پنجاب پولیس کی کارکردگی دن بدن سوالیہ نشان کی زد میں آنے لگی ہے۔قتل ، اغوا، ڈکیتی ، چوری، راہزنی، بداخلاقی اور فراڈ سے جرائم کی شرح جوں جوں بڑھنے لگی۔ توں توں مجرموں کو سزادینے کا عمل سست روی کا شکار ہونے لگا۔پنجاب پولیس کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مئی 2014سے مئی 2015تک گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں مختلف فوجداری مقدمات میں ملوث 31ہزار 9سو ملزم بری ہوئے اور 34ہزار 3سو کو سزادی جاسکتی۔ جبکہ اس کے برعکس اگر اس سے پیچھے دیکھیں تو مئی 2013سے مئی 2014تک ایک برس کے دوران 31ہزار 2سو ملزم بری ہوئے اور 35ہزار 5سو کو سزائیں دی گئیں۔صوبے میں جرائم کی شرح اور مقدمات کی نوعیت پر غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ایک طرف تو پنجاب پولیس روایتی ڈگر سے ہٹ نہیں سکی اور شہریوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایسے مقدمات جب عدالتوں میں جاتے ہیں۔تو عدالتیں بے گناہوں کو بری کردیتی ہیں۔تو دوسری طرف جن مقدمات میں پولیس اصل مجرموں تک جاپہنچتی ہے۔ان میں بھی چالان کی تیاری تک خاص دلچسپی نہیں لی جاتی اور بہت سے اہم نقاط اور سقم نظر انداز کردیئے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ملزمان کے وکیل ایسے قانونی نقائص کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان کی ضمانت کروالیتے ہیں یا انہیں با آسانی بری کروالیتے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبے کی انوسٹی گیشن پولیس زیاد ہ تر مقدمات میں ملزمان سے ساز باز کرکے رشوت اور لالچ کے زیر اثر بھی ملزموں کے خلاف کمزور کیس بناتی ہے۔اور پراسیکیوشن کی تمام تر کاوشوں کے باوجود ملزم سزا سے بچ نکلتا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بہت سے تفتیشی افسر اپنے کیسوں کی پیروی ہی ٹھیک طرح سے نہیں کرپاتے جس کا فائدہ ملزم اٹھاتے ہیں۔

پنجاب پولیس

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...