پاکستان نو سال بعد لنکا ڈھانے میں کامیاب

پاکستان نو سال بعد لنکا ڈھانے میں کامیاب

پاکستان نے نو سال کے بعد سری لنکا کی سر زمین پر ٹیسٹ سیریز اپنے نا م کرکے جوکارنامہ سر انجام دیا اس کوکرکٹ کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا پاکستان کرکٹ ٹیم کی محنت کی بدولت یہ کامیابی نصیب ہوئی ا س وقت ٹیم کو اس شاندارجیت کی اشد ضرورت بھی تھی پوری ٹیم نے ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا خاص طور پر اگر بات کی جائے باؤلنگ میں عمران خان نے سری لنکن باؤلرز کی دھجیا ں بکھیر دی اور کسی بیٹسمین کو جم کر نہیں کھیلنے دیا جبکہ یونس خان اور شان مسعود نے بیٹنگ میں پاکستانی ٹیم کو بھرپور سہارا دیا پاکستانی ٹیم کا امتحان اس شاندار کامیابی کے باوجود ابھی ختم نہیں ہوا ہے ٹیم کا اب اگلا امتحان میزبان ملک کیلئے ون ڈے سیریز ہے چیمپنئز ٹرافی میں شرکت کا ٹارگٹ ذہین میں رکھتے ہوئے ٹیم کے کھلاڑیوں کو ون ڈ ے سیریز میں بھی ایسے ہی عمدہ کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہے کپتان مصباح الحق نے تو اپنا کردار بہت اچھی طرح سر انجام دیا اور پاکستان کو سری لنکا کے خلاف تاریخی کامیابی سے ہمکنار کروایا اب ون ڈے کپتان اظہر علی کا امتحان ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس طرح ٹیم کو ساتھ لیکر چلتے ہیں اور ون ڈے سیریز میں اپنی کپتانی میں ٹیم کو کامیابی دلوانے سکتے ہیں کہ نہیں پوری ملک میں پاکستان کی جیت کا جشن منایا گیا شائقین کرکٹ کی خوشی قابل دید ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم اگر متحد ہوکر کھیلے تو کسی بھی ٹیم کووہ باآسانی شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ دوسری طرف ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کو سری لنکا پر برتری حاصل ہے اب تک کھیلے گئے دونوں ٹیموں کے مابین 142میچوں میں سے پاکستان نے 81 میچوں میں فتح ‘ 56میچوں میں شکست جبکہ ایک میچ برابر اور چار میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔ قومی ٹیم کے کوچ وقار یونس ٹیسٹ سیریز میں شاندار کامیابی کے بعد پرامید ہیں کہ قومی ٹیم ایک روزہ سیریز میں بھی اپنی کامیابیوں کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے کامیابی حاصل کرے گی۔ دوسری طرف قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ سیریز جیتنے کے بعد کھلاڑیوں کا مورال ہائی ہے۔ ٹیسٹ سیریز کی طرح میزبان کو ایک روزہ سیریز میں بھی شکست سے دوچار کرینگے۔ قومی ٹیم کے قائد اظہر علی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے لئے سیریز جیتنا ضروری ہے اس لئے ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک روزہ سیریز میں جیت کے لئے سرتوڑ کوششیں کریں گے۔ اب تک دونوں ملکوں کے مابین مجموعی طور پر ہونے والی17 سیریز میں سے پاکستان نے 10 سیریز میں لنکن ٹائیگرز کو شکست سے دوچار کیا جبکہ سری لنکا نے 6 سیریز جیتیں اور ایک سیریز برابری پر ختم ہوئی۔ دوسری جانب پاکستان کو سری لنکا میں سیریز جیتنے میں بھی برتری حاصل ہے اب تک سری لنکا میں ہونے والی پانچ سیریز میں سے پاکستان نے تین سیریز جیتیں جبکہ 2012 اور 2014 میں سری لنکا میں ہونے والی سیریز میں قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ایک روزہ میچ 15جولائی کو کینڈی‘ تیسرا ایک روزہ میچ 19جولائی کو کولمبو‘ چوتھا ایک روزہ میچ 22جولائی کو کولمبو ہی میں جبکہ سیریز کا پانچواں اور آخری ایک روزہ میچ 26جولائی کو ہیمنٹوٹا سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ ایک روزہ سیریز کے بعد دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بالترتیب 30جولائی اور یکم اگست کو کھیلے جائیں گے۔ دوسری طرف قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان ہیں۔اٹھارویں ٹیسٹ اورساتویں سیریز میں فتح کے بعد قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے عمران خان اور جاوید میانداد کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔مصباح الحق پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ہیں۔ انہوں نے دوہزارگیارہ میں ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز میں قومی ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی۔ اورمسلسل پانچ سال سے پاکستان ٹیم کی قیادت کے فرائض احسن طور پر انجام دے رہے ہیں۔ سری لنکا کیخلاف پالی کیلے میں پاکستان نے تین سوستتررنز کا پہاڑ سا ہدف صرف تین وکٹیں کھوکر عبورکرلیا اورسات وکٹوں ٹیسٹ ہی نہیں دوایک سے سیریز بھی اپنے نام کرلی۔ یہ انتالیس ٹیسٹ میچوں میں بطور کپتان مصباح الحق کی اٹھارویں فتح ہے۔مصباح کی کپتانی میں پاکستان گیارہ ٹیسٹ ہارا اوردس ٹیسٹ ہارجیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے۔ عمران خان نے اڑتالیس اور جاوید میانداد نے چونتیس ٹیسٹ میں قیادت کرتے ہوئے چودہ چودہ فتوحات حاصل کی ہیں۔مصباح الحق کی کمان میں پاکستان نے پندرہ ٹیسٹ سیریز کھیلیں۔ جن سات جیتیں۔ تین میں قومی ٹیم کوشکست ہوئی۔ جبکہ پانچ سیریز برابری پر ختم ہوئیں۔

مزید : ایڈیشن 1