شیخوہپورہ کرکٹ اسٹیڈیم، انتر نیشنل سطح کا گراؤنڈ بنیادی ضروریات کی تکمیل کا منتظر

شیخوہپورہ کرکٹ اسٹیڈیم، انتر نیشنل سطح کا گراؤنڈ بنیادی ضروریات کی تکمیل کا ...

پاکستان میں کرکٹ سٹیڈیمز کی تعمیر و آرائش کی بہت زیادہ ضرورت ہے کھیلوں کے لئے زیادہ سے زیادہ سٹیڈیمز ہی کھلاڑیوں کی نمائند گی کا سبب بنتے ہیں اور اس سے کھیلوں کوبھی پروان چڑھنے میں مدد ملتی ہے پاکستان میں واقع ہر شہر میں قائم سٹیڈیم اپنا کردار بخوبی سر انجام دے رہے ہیں شیخوپورہ میں قائم کردہ کرکٹ سٹیڈیم بھی اپنی پہچان میں منفرد مقام رکھتا ہے اور یہاں پر اب تک انٹرنیشنل کرکٹ میچز بھی کامیابی سے منعقد ہوچکے ہیں ۔سابق ڈی سی شیخوپورہ و سابق وفاقی سیکرٹری شفقت نغمی کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت بنائے گئے سڈنی طرز کے شیخوپورہ کرکٹ سٹیڈیم میں شروع ہونے والا تزئین و آرائش اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا کام سٹیڈیم ٹرسٹ کے سابق چیئرمین علی جان کے تبادلہ اور تعمیراتی کام میں مبینہ طور پر پائی جانے والی بد انتظامی کی وجہ سے کئی ماہ سے رکا ہوا ہے جو کہ علی جان کے بعد آنے والے سٹیڈیم ٹرسٹ کے دو نئے چیئرمینوں راشد کمال الرحمان اور کرن خورشید کے دور میں بھی شروع نہ ہوسکا ہے ،بتایا گیا ہے کہ سابق چیف سیکرٹری پنجاب نوید اکرم چیمہ,سی او او پی سی بی سبحان احمد ،سابق وفاقی سیکرٹری شفقت نغمی اور شیخوپورہ سٹیڈیم ٹرسٹ کے ممبر رانا علی سلمان کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے سابق ڈی سی او شیخوپورہ علی جان نے شیخوپورہ سٹیڈیم کی بدحالی کا نوٹس لیتے ہوئے سٹیڈیم کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے بھاری فنڈز منظور کیئے تھے اورباقاعدہ کا م بھی شروع کروادیا تھا لیکن سٹیڈیم کے فوری ضرورت کے کاموں کو پہلے کروانے کی بجائے دیگر کاموں کو پہلے شروع کروادیا تھا ۔سٹیڈیم کے منی پویلین اور سٹیڈیم کے انکلوزرز میں تماشائیوں کے باتھ روم کو ٹھیک کروادیا گیا۔سٹیڈیم کے باہر سڑک کو بہتر بنادیا گیا۔سٹیڈیمز کی گراؤنڈ کے ارد گرد پائپ بچھایا گیا لیکن سٹیڈیم کی گراؤنڈ اور وکٹ کو پانی دینے کے لئے نیا پائپ نہیں خریدا گیا جس کی وجہ سے گراؤنڈ کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے بارش پر انحصار کیا جاتا ہے۔ شیخوپورہ سٹیڈیم ٹرسٹ کے ممبر رانا علی سلمان ایم پی اے ،کرکٹر فراز امتیاز ،عتیق الرحمان اور محمد سلیم نے بتایا کہ پچوں کو ڈھانپنے کے لئے کووورز کے نہ ہونے سے میچ کے دوران ہونے والی بارش سے میچ متاثر ہوتا ہے ۔ ٹیموں کے مین پویلین کے باتھ رومز کی حالت کو بہتر نہیں بنایا گیا ۔باتھ روموں کو پانی کی سپلائی دینے والے 20سالہ پرانے پائپ کو تبدیل نہیں کیا گیا اور اس کا کنکشن سٹیڈیم کے اندر کے پائپ سے کرنے کی بجائے سٹیڈیم کے باہر کی ٹینکی سے کیا گیا جس کہ وجہ سے پانی کی فراہمی میں دشواری ہوتی ہے ۔باتھ روموں میں کھلاڑیوں کے نہانے کے لئے شاور نہیں ہیں جبکہ باتھ روموں کے پانی کا نکاس نہ ہونے کی وجہ سے سیوریج کا گندہ پانی دوبارہ واپس آتا ہے جس کی وجہ سے بدبو کو ختم کرنے کے لئے میچز کے دوران اگر بتیوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ گراؤنڈز میں گھاس کانٹے کی میشینیں نہیں ہیں۔ سائڈ سکرین کو ٹھیک نہ کروانے کی وجہ سے اس کو حرکت میں نہیں لایا جاسکتا ۔پچوں کی مٹی کو گزشتہ 8سال سے تبدیل نہیں کیا گیا ۔بلدیہ کا ڈرائیو جہانگیرر سٹیڈیم کے قائم مقام کیئر ٹیکر کے فرائض سر انجام دیتا ہے ۔سٹیڈیمز کی متعدد لائٹس نہیں ہیں۔ منی پویلین کے بجلی کے میٹرکو عدم عدائگی کی وجہ سے واپڈا والے اتار کر لے گئے ہیں۔ سٹیڈیم ٹرسٹ کے سابق چیئرمین علی جان کے بعدنئے چیئرمین راشد کمال الرحمان نے چارج سنبھالا لیکن انہوں نے بھی سٹیڈیم کے رکے ہوئے کام کو شروع نہ کروایا اور ا ن کے تبادلے کے بعد نئی چیئرمین کرن خورشید نے سٹیڈیم ٹرسٹ کے چیئرمین کا چارج سنبھالا لیکن ابھی تک ان کے دور میں بھی کام شروع نہیں کیا گیا ہے ۔سٹیڈیمز کے اندر ڈومیسٹک کرکٹ میچز کھیلنے والی متعدد ٹیموں نے سٹیڈیمز کی ناگفتہ بہ حالت کی شکایات کی ہے جبکہ ایک ٹیم نے تو آئندہ سٹیڈیم میں میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ تماشائیوں کے باتھ روموں کو ٹھیک کروانے کی بجائے پہلے کھلاڑیوں کے ڈریسنگ روم کے باتھ روموں کو ٹھیک کروانا چاہئے تھا کیونکہ ڈومیسٹک کے میچز کے دوران تماشائی تو نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں لیکن کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں نے تو باتھ رومز استعمال کرنا ہوتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1