یاد داشت

یاد داشت
 یاد داشت

  

قلمی نام، لالۂ صحرائی، اس کا جنوں خامہ فرسائی، اس کا شوق جادہ پیمائی۔ اس کے ہیرو، سمٹ کر پہاڑ جن کی ہیبت سے رائی۔ اُس کارواں میں شامل، جسے ر ب نے بخشا ہے ذوقِ خدائی۔۔۔ اس کی زندگی درِ محمدؐ کی گدائی۔۔۔

اصلی نام۔۔۔ محمد صادق۔ اُس سے دور منافق و فاسق، وہ اہلِ عزیمت کا مصاحب۔ حکیم محمد عبداللہ کی شراکت اور محبت نے بنا ڈالا حکیم حاذق۔

قد درمیانے سے قدرے نکلتا ہوا۔ جسم چھریرے سے کچھ بڑھتا ہوا۔ فربہی سے دُور ہٹتا ہوا۔ رنگ سانولا، گندمی کو چھوتا ہوا۔ چہرے پر سفید داڑھی کا حاشیہ، اسے طول دینے کی خواہش یا کوشش میں نہ ہوا کبھی مبتلا، شلوار قمیض کو کبھی شیروانی نے ڈھانپا ہوا، کبھی انہیں واسکٹ میں باندھا ہوا۔ سرمیں ٹوپی یا یہ کہیے کہ ٹوپی میں سر، لیکن اُٹھا ہوا۔۔۔ چہرہ مطمئن اور مسرور، ہر دم کھلا ہوا۔ خاموشی میں جہانِ معانی بسا ہوا، مختصر گفتگو، درشت الفاظ سے ناآشنا۔۔۔ چلتے ہوئے زمین پر بوجھ ڈالنے سے انکار ، اپنا بوجھ آپ اُٹھانے پر اصرار۔ دوسروں کا بوجھ اُٹھانے میں پیش پیش، وفا شعار و ایثار کیش۔

فضول خرچی شعار، نہ بخیلی سے سروکار، اپنی چادر میں بھی پاؤں پسارنے سے انکار، کبھی پاؤں پھیلائے نہ ہاتھ۔ اعزا و اقربا کے لئے سراپا ایثار ۔ میٹرک پاس، لیکن علم کا پہاڑ۔مطالعہ بے کنار۔ ازبر، حوالے بے شمار۔ قرآن، حدیث، تاریخ، ادب اور سیاست کے رموز آشکار۔ آپ اپنا شاگرد، آپ اپنا استاد۔ سید مودودی کا خوشہ چین، ان کا جانثار۔

انگریزی پر نظر، اُردو کا غواص، اعلیٰ مترجم، صاحب اسلوب، نثر نگار۔ تحریر سادگی و معنویت کا شاہکار۔ منفرد اس کا لہجہ، اس کا اظہار۔ سفرِ حج کے دوران اُس پر بارشِ انوار۔ عطاء ہوئی شاعری کی سوغات۔ حمد و نعت کے اشعار، برسے موسلادھار، لگ گئے رفعتوں کے انبار، نشانِ رحمت پروردگار۔

وہ پاکستان کا محافظ اُس کے نظریے کا علمبردار، میدانِ قلم کا شہ سوار، اس سے اختلاف نہ بنا، وجۂ عناد۔ ندیم کا ہمدم، صلاح الدین پر نثار۔ دوستوں کا دوست، اُن کا نگہدار۔ اس کی اولاد، اپنی مثال آپ، باپ کی ٹھنڈک، ماں کا قرار۔ اس کے دوست ممتاز، اُس کے لئے بے قرار، مَیں اُس کا ادنیٰ برخوردار، سراپا دُعا بحضور پروردگار۔ ہو جنت میں اُس کا قیام، اعلیٰ ،باوقار۔ وہ صادق کہ پیغمبرِ صادقؐ کا پیروکار، وہ لالۂ صحرائی کہ منزل جس کی سایۂ رب ذوالجلال

؂

کون کہتا ہے کہ مومن مر گیا

وہ تو قید سے چھوٹا اور اپنے گھر گیا

(ممتاز ادیب و شاعر، لالۂ صحرائی14برس پہلے جولائی کے دوسرے ہفتے میں اللہ کو پیارے ہوئے تھے۔

(یہ کالم روزنامہ ’’ دنیا‘‘ اور روزنامہ’’پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم