پاک بھارت مذاکرات شروع ہوں گے تو کشمیر اور را کی مداخلت بھی زیر بحث ہوگی

پاک بھارت مذاکرات شروع ہوں گے تو کشمیر اور را کی مداخلت بھی زیر بحث ہوگی

تجزیہ چودھری خادم حسین

وزیراعظم محمد نوازشریف کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات پر تجزیئے، تبصرے اور تنقید جاری ہے کہ ملاقات میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور کشمیر کے حوالے سے بات نہیں کی گئی اور اعلامیہ میں ذکر نہیں حالانکہ خبر موجود ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے مودی سے را کی ریشہ دوانیاں بند کرنے کے لئے کہا، البتہ کشمیر والی بات اپنی جگہ تاہم اعلامیہ میں مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے تمام امور اور معاملات پر بات کے لئے کہا گیا ہے تو ان امور میں بہرحال کشمیر اور بھارتی مداخلت والے مسئلے بھی شامل ہیں۔اس پر بہرحال بحث چلتی رہنا ہے۔ ہم نے تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی یقین دہانی کو غور سے سنا کہ بلوچستان میں جو لوگ ہتھیار ڈال کر ملک سے وفاداری کا اعلان کریں گے ان کو قومی دھارے میں لانے کی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں گی۔ اس سے قبل دو صوبائی وزراء نے بعض باغیوں سے ہتھیار رکھوائے اور عام معانی دی تو معترض اس پر بھی نکتہ چینی کرنے لگے تھے کہ عام معافی کیوں؟ اور یہ بھی تاثر دیا جا رہا تھا کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف مصروف جہاد جوانوں کا مورال متاثر ہوگا لیکن جنرل راحیل شریف نے اس پالیسی پر مہر ثبت کر دی اور اعتراضات والوں کے بھی منہ بند کر دیئے۔ بریفنگ کے بعد جنرل راحیل شریف نے اطمینان کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی حالت بہتر ہوئی اور مزید ہو جائے گی، یہیں انہوں نے ہتھیار ڈالنے والوں کے لئے بھی عام معافی کے اصول کی توثیق کر دی۔ یوں حکومت اور فوج کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔اب کشمیر کے مسئلہ پر بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا ہے کہ اس سے سیاسی اور عسکری قوتوں کے درمیان اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن اندازہ یہی ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا البتہ مشاورت ہوگی اور وزیراعظم شنگھائی کانفرنس کی تفصیل بھی بتائیں گے۔

وفاقی حکومت کے محترم وزیرخزانہ لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکلوانے کے لئے جو چور راستے اختیار کر چکے ان کی وجہ سے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ جن کو حل کرنے کے لئے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کو مداخلت کرنا پڑتی ہے اور انہی کی وجہ سے فلور ملز مالکان کا مسئلہ حل ہوا اور ان کی کوشش سے تاجروں کے وفد سے بھی بات کی گئی لیکن یہاں مسئلہ بن گیا۔ وفد میں نمائندہ تنظیموں کی عدم موجودگی سے اختلاف رائے ہو گیا۔ وفدمیں شامل حضرات کے مطابق ٹیکس کی شرح نصف کر دی گئی اور گوشواروں کی پابندی لازم کر دی گئی ہے ۔ وہ اپنی دھن کے پکے ہیں، اب دوسرے گروپ نے جو انجمن کے بااثر اور زیادہ حمایت والے ہیں، فیصلہ کیا کہ عید کے بعد تحریک شروع کی جائے گی، اسے بھی حل کیا جا سکتا تھا چہ جائیکہ اس پر کشمکش شروع ہو جائے۔

مزید : تجزیہ