گیس پراجیکٹ توبند پڑے ہیں پھرگیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس کیوں وصول کیا جارہا ہے ،ہائی کورٹ میں درخواست

گیس پراجیکٹ توبند پڑے ہیں پھرگیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس کیوں وصول کیا ...
گیس پراجیکٹ توبند پڑے ہیں پھرگیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس کیوں وصول کیا جارہا ہے ،ہائی کورٹ میں درخواست

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی )صارفین سے بجلی کے بلوں میں گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی )کی مد میں 11 ارب روپے کی وصولی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیاگیا ہے۔یہ درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے چیئرمین اظہر صدیق نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے غریب صارفین سے گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کی مد میں 11 ارب روپے وصول کرنے کیلئے بجلی کے بلوں میں 72 پیسے فی یونٹ سرچارج عائدکردیا ہے۔جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 کی دفعہ 4 کے ذریعے وفاقی حکومت یہ ٹیکس وصول کررہی ہے جبکہ پاک ایران گیس پائپ لائن اور پاکستان ، افغانستان اور ترکمانستان گیس پائپ لائن اور ایل این جی کی تعمیر کی مد میں 2001 سے وصولی کی جارہی ہے مگر ابھی تک کسی بھی پراجیکٹ پر کام شروع نہیں کیا گیا اور ایل این جی منصوبہ پر 194 ارب روپے ضائع کردیا گیا ہے ،جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 سے متصادم ہے ،عدالت اس کو کالعدم قرار دے۔مسٹرجسٹس شاہد مبین کل 13جولائی کواس کیس کی سماعت کریں گے ۔

مزید : لاہور