بھارت کے اپنے وجود کوخطرہ لاحق ہو گیا ،خالصتان تحریک آزادی زور پکڑ گئی

بھارت کے اپنے وجود کوخطرہ لاحق ہو گیا ،خالصتان تحریک آزادی زور پکڑ گئی
بھارت کے اپنے وجود کوخطرہ لاحق ہو گیا ،خالصتان تحریک آزادی زور پکڑ گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

امرتسر(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں خالصتان کی آزادی کی تحریک زور پکڑ گئی ہے جس کے باعث بھارت کو اپنے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیاہے ،بھارت کے سکھوں پر مظالم کے نتیجے میں سکھوں کی ریفرنڈم کروانے کی تحریک زور پکڑ گئی ہے جو کہ اب پوری دنیامیں پھیل چکی ہے اور بھارت کو خطرہ لاحق ہے اگر تحریک خالصتان مزید تیزی پکڑ گئی تو اس کی دیگر ریاستوں میں چل رہی تحریکیں جو کہ اب ختم ہونے کے قریب ہیں وہ بھی زور پکڑ جائیں گی۔

بھارت کی حکومت، فوج اور خفیہ ایجنسی الزام عائد کرتی ہے کہ خالصتان تحریک زندہ کرنے میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ مودی جس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں.اسی گروہ کے رہنما ایم ایس گول والکرجو ڈاکٹر ہدگیوار کے بعد 1940ءمیںراشٹریہ سیوک سنگھ( آرایس ایس ) کا سربراہ بنا ، اپنی کتاب”ہم اور ہماری قومیت“ میں لکھتاہے:

” اس منحوس دن سے جب مسلمانوں نے ہندوستان میں قدم رکھا آج تک ہندو قوم ان کے خلاف بہادری سے جنگ کر رہی ہے، قومیت کا احساس جاگ رہاہے، ہندوستان میں ہندو رہتے ہیں اور ہندو رہنے چاہیں،باقی سب غدار ہیں اور قومی مشن کے دشمن ہیں۔ اور سادہ لفظوں میں : احمق ہیں۔ ہندوستان میں دوسری قومیں ہندوقوم کے ماتحت رہنی چاہیں۔ بغیر کوئی حق مانگے، بغیر کوئی مراعات مانگے، بغیر کوئی ترجیحی برتاﺅ مانگے اور نہ ہی کوئی شہری حقوق۔ اپنی قوم اور کلچر کے تشخص برقرار رکھنے کے لئے جرمنی نے یہودیوں سے ملک کو پاک کرکے دنیا کو حیران کردیا، قومیت کا فخر وہاں پیدا کردیاگیاہے۔ ہندوستان میں ہمارے لئے یہ بڑا اچھا سبق ہے“۔

بھارت نے تقسیم کے وقت سکھوں کو سبزباغ دکھا کر اورجھوٹے وعدے کرکے اپنے ساتھ ملایا تاہم سکھوں کو بہت جلد احساس ہوگیا کہ پنڈت نہرو اور سردار پٹیل نے ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیاہے۔چنانچہ سکھ رہنما ماسٹرتاراسنگھ نے 28مارچ1953ءکو کہا:” انگریزچلاگیالیکن ہم آزاد نہ ہوسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی نہیں ، صرف آقا تبدیل ہوئے ہیں۔ پہلے سفید تھے اب کالے آگئے ہیں۔جمہوریت اور سیکولرازم کا ڈھونگ رچا کر ہمارے پنتھ، ہماری آزادی اور ہمارے مذہب کو کچلا جا رہا ہے۔“

دنیا جانتی ہے کہ اندراگاندھی نے اپنے دور میں آپریشن بلیوسٹار کے تحت سکھوں کے انتہائی مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کی ، اس میں 10ہزارسکھ زائرین کو ہلاک کردیاگیاتھا۔ جبکہ31اکتوبر 1984ءکو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کی حکمران جماعت ’انڈین نیشنل کانگریس‘ نے سکھوں کی نسل کشی کی منظم مہم شروع کی گئی۔ اس مہم میں سکھوں کو جانی نقصان کا سامنا بھی ہوا، ان کے گھر بار تباہ وبرباد کردئیے گئے، ان کی جائیدادوں پر قبضے کئے گئے ، ان کی عبادت گاہوں پر حملے کئے گئے۔ہزاروں سکھ قتل کردئیے گئے، ایک اندازے کے مطابق اس مہم میں 30ہزار سے زائد سکھ قتل کئے گئے۔ان میں سے زیادہ تر بے بس تھے جن کو اپنے گھر والوں یا محلے والوں کے سامنے زندہ جلادیاگیا۔ 

مغربی ذرائع ابلاغ بھی سکھوں پر ہونے والے ظلم وستم پرخاموش نہ رہ سکے۔شواہدموجود ہیں کہ سکھوں کے خلاف ڈیتھ سکواڈز کی قیادت وفاقی وزیر کمل ناتھ، ارکان پارلیمان سجن کمار، جگدیش ٹیٹلر، للت میکن، دھرم داس شاستری، ایچ کے ایل بھگت، ارون نہرو، ارجن سنگھ، حتیٰ کہ بالی ووڈ سٹار امیتابھ بچن کررہے تھے۔ اپنی ماں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی نے سکھوں کی نسل کشی کی ان الفاظ کے ساتھ حمایت کی تھی کہ جب ایک بڑا درخت گرتاہے تو ساری زمین پر لرزہ ضرورطاری ہوتاہے۔

بھارت میں سکھوں کو لگائے گئے زخموں پر مرہم نہیں رکھاگیا۔ آپریشن بلیوسٹار کو غلطی قرار دیاگیا لیکن اس غلطی کا مداوا نہیں کیاگیا۔ اس کے بعد ہونے والے ”فسادات“ کے لئے بھی تحقیقاتی کمیشن قائم کئے گئے لیکن انھیں اختیارات حاصل نہیں تھے۔ اب بھارت کو زخم لگانے اور پھر ان پر نمک چھڑکنے کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا۔

خالصتان کے قیام کیلئے پنجاب کی آزادی کی مہم پوری دنیا میں پھیل رہی ہے ، زیادہ سے زیادہ سکھ اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ سکھ ایک دوسرے کو ’ریفرنڈم 2020ء‘ کا پیغام پھیلانے کے لئے بلا رہے ہیں۔ اس تحریک کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ حق خودارادیت جس طرح ہر انسان کا قانونی حق ہے، اسی طرح سکھوں کا بھی حق ہے۔ سکھ قوم اس یقین کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے کہ وہ 2020ءمیں بہرصورت حق خودارادیت حاصل کرے گی۔

سن80ء اور90ءکے عشروں میں بھارتی حکومت کے ظلم و ستم سے تنگ آکر 90 فیصد سکھوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا رخ کیاتھا، بعدازاں انھوں نے اپنے گھرانے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلا لیا۔ بعدازاں وہ سکھ نوجوان بھی یہاں آگئے جنھیں بھارت میں بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیاجارہاتھا۔ چنانچہ وہ اپنی زمینیں اور جائیدادیں فروخت کرکے بیرون ملک مقیم ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اب بیرون ملک مقیم یہ سکھ پورے جوش وخروش سے ’ریفرنڈم2020ء‘ کے لئے تحریک چلارہے ہیں۔

خالصتانی تحریک کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ سکھ ازم دنیا کا پانچواں بڑا مذہب ہے۔ پوری دنیا میں اس کے ماننے والوں کی تعداد دوکروڑ 80 لاکھ ہے۔ دنیا میں اس قدر بڑی آبادی ہونے کے باوجود سکھوں کی تعداد بھارت کی آبادی کا محض 1.8فیصد ہے۔جن کا زیادہ تر حصہ پنجاب میں آباد ہے۔ خالصتان تحریک کے ذمہ داران اپنے وڑن اور اہداف میں بہت واضح ہیں۔ انھوں نے خالصتان کا مکمل نقشہ تیار کرلیاہے ، اس کے قیام کے بعد ممکنہ چیلنجز کا بھی انھیں احساس ہے اور ان کا حل بھی سوچ لیاہے۔ انہیں احساس ہے کہ خالصتان چہار اطراف سے خشکی میں گھرا ہوا ایک ملک ہوگا۔

ممکنہ مملکت خالصتان کے ساتھ سمندر نہیں لگتا، ایسے میں اس کی معیشت کا کیاہوگا؟ خالصتانی ذمہ داران کاخیال ہے کہ پنجاب ایک مضبوط معیشت کا حامل ملک ہوگا۔ سمندرکا کنارا کامیاب ریاست کی ضمانت نہیں بن سکتا اور سمندر کا کنارا نہ لگنے کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ وہ ریاست ناکام ہوگی۔ سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا ایسے دو ممالک ہیں جنھیں کوئی سمندر نہیں لگتا تاہم وہ نہایت کامیاب ریاستیں ہیں۔ دوسری طرف ایسے یورپی ممالک بھی ہیں جنھیں سمندر کا کنارا لگتاہے لیکن وہ کامیاب ریاستیں نہیں ہیں۔ اس حوالے سے دو نام قابل ذکر ہیں: پولینڈ اور یوکرائن۔

خالصتان تحریک کے ذمہ داران کا کہناہے کہ مملکت خالصتان میں کسی بھی ایسے فرد کو کوئی عہدہ نہیں دیاجائے گا جو سکھوں کے قتل عام میں بلاواسطہ یا بلواسطہ شریک رہاہو یا سکھوں پر ظلم وتشدد کا حامی رہاہو۔اس کے بجائے انھیں گرفتارکرکے ان کے جرائم پر مقدمہ چلایاجائے گا۔خالصتان کے قیام سے بھارت کا ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ ازخود ختم ہوجائے گا کیونکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان واحد راستہ خالصتان سے ہی گزرتا ہے۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیر میں موجود سکھ تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ممکنہ مملکت خالصتان میں مسلمان خالصتان تحریک کا ساتھ دے رہے ہیں

مزید : بین الاقوامی