دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں تیز ، معاون اور سہولت کاروں کو بھی منطقی انجام تک پہنچائیں گے : شرجیل میمن

دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں تیز ، معاون اور سہولت کاروں کو بھی منطقی انجام ...
دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں تیز ، معاون اور سہولت کاروں کو بھی منطقی انجام تک پہنچائیں گے : شرجیل میمن

  

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے سندھ ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اجلاس میں قومی ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا اس اجلاس میں دہشت گردوں ، بھتہ خوروں اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف کاروائیاں تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایپکس اجلاس میں سندھ کے امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور کراچی سمیت سندھ بھر میں جرائم اور دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی کے باعث رینجرز اور پولیس کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا ہے ۔ انہوں نے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بتایا ہے کہ دہشت گردں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت ’سب اچھا ہے ‘ بول کر بیٹھ جائے ایسا ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ رینجرز اور پولیس مل کر کالعدم تنظیموں ، بھتہ خوروں ، دہشت گردی کی جانب راغب کرنے والے مدرسوں اور فرقے کے نام پر ہونے والی دہشت گردو ختم کریں گے اور ان کے خلاف کاروائیاں تیز کی جائیں گے ۔

سندھ کے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو کہیں نہ کہیں سے تو بارودی مواد ، جیکٹس اور گولیاں گراہم کی جاتی ہیں اور ایپکس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے معاون ، سہولت کاروں اور پیسے دینے والوں کے ہمیشہ کے ختم کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں عارضی امن کی بجائے مستقل امن پر اتفاق کیا گیا ہے اور کراچی آپریشن کو تیز کر کے کاروائیاں بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ شرجیل میمن نے عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کو ختم کرنے تک سندھ حکومت سانس نہیں لے گی اور ان کے خلاف اپنی کاروائیاں جاری رکھے گی ۔

یاد رہے اس سے قبل سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ زیر بحث تھا اور رینجرز کے اختیارات ختم ہونے کے 20 گھنٹوں بعد اختیارات میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے گزشتہ روز بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ رینجرز کے اختیارات میں سندھ اسمبلی سے منطوری لیں گے۔

دوسری جانب آج ہونےو الے ایپکس اجلاس سے قبل ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر ، کور کمانڈر کراچی نوید مختار ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ملاقات کی تھی ۔جس کے بعد اجلاس میں سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کی موجودگی میں آپریشن اور کاروائیوں میں تیزی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ حکومت رینجرز کو اضافی اختیارات دینے کے لیے رضا مند ہو چکی ہے ۔

مزید : کراچی /اہم خبریں