بھارتی پولیس کا کارنامہ، مجرموں کو پکڑنے کی ’کوشش‘ میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی نوجوان لڑکی کا دوسری مرتبہ ریپ کروابیٹھی

بھارتی پولیس کا کارنامہ، مجرموں کو پکڑنے کی ’کوشش‘ میں جنسی زیادتی کا نشانہ ...
بھارتی پولیس کا کارنامہ، مجرموں کو پکڑنے کی ’کوشش‘ میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی نوجوان لڑکی کا دوسری مرتبہ ریپ کروابیٹھی

اورنگ آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست ہونے کے دعویدار بھارت میں جمہور کے حقوق انتہائی بے دردی کے ساتھ پامال کیے جا رہے ہیں، باقی سب تو ایک طرف، خواتین کے خلاف جنسی تشدد بھارت میں گویا ایک رسم بن چکی ہے۔ بھارت سے باقاعدگی کے خواتین سے اجتماعی زیادتی کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک تازہ خبر میں ایک انتہائی کم عمر لڑکی کواجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالا گیا آگے سونے پر سہاگہ پولیس کی جانب سے ملزموں کو پکڑنے کے لئے ایسا جال بچھایا گیا کہ یہ واقعہ ایک ہفتے میں اس کے ساتھ دوسری مرتبہ بھی ہوگیا۔

بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کے مطابق بھارت کے شہر اورنگ آباد کے علاقے جالنا میں ایک کم سن لڑکی کی 20سالہ مرد سے دوستی ہو گئی، دونوں نے ایک رات ملنے کا پروگرام بنایا، لڑکی رات 8بجے اپنے دوست کو ملنے جا رہی تھی کہ راستے میں سنسان جگہ پر اسے 2اوباشوں نے گھیر لیا اور ہراساں کرنے لگے۔ راہ چلتے اکادکامسافروں نے لڑکی کی جان چھڑائی لیکن ملزمان جو پہلے ہی لڑکی کا موبائل فون چھین چکے تھے، ساتھ لے گئے۔ لڑکی اپنی سکوٹی پر واپس گھر آگئی۔ گھر میں سکوٹی کھڑی کرتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ وہی اوباش اس کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچ چکے تھے اور گیٹ کے باہر کھڑے تھے۔ ملزموں نے لڑکی سے کہا کہ اگر وہ اپنا موبائل فون واپس لینا چاہتی ہے تو ان کے ساتھ چلے، جہاں اس سے موبائل چھینا گیا تھا۔ ملزموں نے بہانہ کیا کہ موبائل وہیں پڑا ہے۔ لڑکی ملزموں کے ساتھ ان کے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چلی گئی۔ ملزموں نے ویرانے میں لیجا کر اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسی کے موبائل فون سے اس کی ویڈیو بھی بناتے رہے۔

مزید پڑھیں:بھارت نے ’ریپ ‘میں دنیا کو مات دے دی

لڑکی نے گھر آ کر اپنے والدین کو واقعے کے متعلق بتایا، انہوں نے پولیس میں رپورٹ کر دی۔ پولیس نے مشورہ دیا کہ اگر کسی قسم کی اطلاع ملے تو ان سے رابطہ کیا جائے۔ اگلے دن لڑکی کی والدہ کو فون کال آئی جس میں ملزمان نے لڑکی کا فون واپس کرنے کے عوض 2ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ لڑکی کی والدہ اپنے شوہر کے ہمراہ ملزمان کی بتائی ہوئی جگہ پر گئی لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ پولیس کو اس واقعے کا بتایا گیا تو انسپکٹرنے یقین دہانی کرائی کہ اگلی مرتبہ جانے سے پہلے اسے اطلاع کی جائے تو وہ مجرمون کو پکڑنے میں اپنا کردار اداکرے گا۔ اگلے دن پھر کال آئی لیکن اس بار فون اسی لڑکی نے اٹھایا، پولیس سے رابطہ نہ ہوسکا ،ملزمان نے دوبارہ اسے موبائل فون لینے کا جھانسہ دیا اور لڑکی اکیلی موبائل فون لینے چلی گئی جہاں اسے دوبارہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

دوسری بار لڑکی کی آبروریزی ہونے کے بعد پولیس کو ہوش آیا اور انہوں نے ملزمان کو موبائل فون کے ذریعے تلاش کرکے گرفتار کر لیا۔ دونوں نوجوان جالنا ہی کے رہائشی تھے اور ان کے خلاف مختلف تھانوں میں 20سے زائد مقدمات درج تھے۔ ملزمان نے لڑکی سے زیادتی کی ویڈیو انٹرنیٹ پر بھی ڈال دی تھی جس سے بات پورے ملک میں پھیل گئی اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے مقامی پولیس کی شاندار منصوبہ بندی کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...