کیا مسئلہ کشمیر کا کوئی ایسا حل ممکن ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو ؟

کیا مسئلہ کشمیر کا کوئی ایسا حل ممکن ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو ؟

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا ایک ایسا حل تلاش کرنا چاہیئے جس سے پاکستان بھارت اور کشمیری تینوں فریق مطمئن ہوں، کہا جاتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے پس پردہ کوششیں جاری تھیں اور ان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، بھارتی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں اور مذاکرات کر رہے تھے جن میں مسئلہ کشمیر کا ایسا قابل قبول حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی جو سب فریقوں کے لئے قابل قبول ہو یہ پس پردہ کوششیں جار ی تھیں کہ جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس کو اپنے گھر (آرمی ہاﺅس راولپنڈی) بلا کر ان سے استعفا طلب کیا۔ چیف جسٹس نے انکار کر دیا اس وقت کئی دوسرے جرنیل بھی آرمی ہاﺅس میں موجود تھے۔ جمعۃ  المبارک کا روز تھا، اور تھوڑی دیر بعدنماز کا وقت بھی ہونے والا تھا، چنانچہ وہ جاتے ہوئے باقی جرنیلوں سے کہہ گئے کہ ان سے استعفا لے لیں، غالباً ان کا خیال ہو گا کہ وہ جمعہ پڑھ کر واپس آئیں گے تو استعفا ان کی میز پر دھرا ہو گا۔ اب اگر ان کے سامنے سکندر مرزا یاغلام محمد بلکہ خود فیلڈ مارشل ایوب خان کے استعفوں کے معاملات تھے تو لگتا ہے انہوں نے صورت حال کا درست ادر اک نہ کیا تھا، جسٹس افتخار محمد چودھری انکار کر کے واپس آئے تو بدلا ہوا زمانہ تھا، جو لوگ ان کے یمین ویسار میں ان کی حفاظت پر مامور تھے ان میں سے ایک نے ان کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا ( یا گھسیٹنے کی کوشش کی) اس موقع پر انہیں اچھی طرح اندازہ ہو گیا ہو گا کہ آنے والے دور میں ان کے ساتھ کیا کچھ بیت سکتی ہے۔ یہ کہانی لمبی ہے اور خود چیف جسٹس ان دنوں کے واقعات کی روداد قلم بند کر رہے تھے، معلوم نہیں کہاں تک پہنچی اور کب منظر عام پر آئے گی تاہم اب وقت ہے کہ وہ تاریخ کی یہ امانت پوری دیانت داری کے ساتھ تاریخ کے سپرد کر دیں، بلکہ خود جنرل پرویز مشرف کو بھی” ان دی لائن آف فائر“ کی دوسری جلد لکھ دینی چاہیئے تاکہ پتہ چل سکے ہماری تاریخ کے نازک ترین لمحات میں پس پردہ کیا کھیل کھیلے جا رہے تھے۔ اب تو بہت سے جرنیل اپنی اپنی داستان کا کوئی نہ کوئی حصہ سنا رہے ہیں۔جن میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھی بھی شامل ہیں سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کی کتاب کے اقتباسات بھی منظر عام پر آ رے ہیں انہوں نے بھی اگر اپنی کتاب میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کا حصہ تحریر کیا ہے تو یہ جلد منظر عام پر آنا چاہیئے۔

چیف جسٹس کے خلاف جنرل پرویز مشرف کی کارروائی کے بعد حالات نے جو رخ اختیار کیا اور وکلا نے جس طرح تحریک کا آغاز کیا اس کے بعد ان کے اقتدار کے نیچے سے قالین کھسکنا شروع ہو گیا، اب تک جنرل مشرف کے خلاف سیاستدانوں کی کوئی تحریک کامیاب نہ ہو سکی تھی، نواز شریف کو انہوں نے محروم اقتدار کر کے پہلے زندان کے حوالے کیا، پھر ان پر زمین پر بیٹھ کر ایسے طیارے کے اغوا کا مقدمہ چلایا جو فضاﺅں میں تھا۔ اور جس میں جنرل صاحب سری لنکا سے کراچی آ رہے تھے۔ یہ دنیا میں اغوا کا انوکھا واقعہ تھا جس میں اغوا کار زمین پر تھے، اور ”مغوی “ طیارے کے اندر سے پائلٹ اور زمین پر اپنے ساتھیوں کو کنٹرول کر رہا تھااس مقدمے میں نواز شریف کو عمر قید کی سزا ہو گئی، سزا کے بعد سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی مداخلت پر نواز شریف کو سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا۔ بے نظیر بھی خود ساختہ جلا وطنی پر مجبور کر دی گئی تھیں۔

باقی تمام سیاستدان حکومت کے ساتھ تھے۔ ایسے میں وکلاءکی تحریک نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کی چولیں بلا دیں تو بھارت نے مذاکرات کے سلسلے کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے سے انکار کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ اب رکے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ اگلی حکومت کے آنے پر ہی جوڑا جائے گا۔ پرویز مشرف کے استعفے کے بعد آصف علی زرداری صدر بن گئے اس سے پہلے یوسف رضا گیلانی پرویز مشرف کے عہد صدارت میں وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا کر حکومت کر رہے تھے۔ اس سارے دور میں بھارت کے ساتھ کوئی سنجیدہ مذاکرات نہیں ہوئے اس سارے عرصے میں بھارت میں کانگریس حکمران تھی اور من موہن سنگھ وزیر اعظم تھے۔

اب جنرل پرویز مشرف کہتے ہیں کہ تمام فریقوں کے لئے قابل قبول حل تلاش کرنا چاہیئے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا امرت دھارا قسم کا حل کون سا ہے یا ہو گا جو ہر کسی کو مطمئن کر دے۔ یہاں تو یہ صورت حال ہے کہ اوفا میں وزیر اعظم نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات کو ہر کسی نے اپنی اپنی عینک سے دیکھا ہے، کشمیری رہنماﺅں کا زاویہ نظر بھی اپنا اپنا ہے اس ماحول میں جنرل پرویز مشرف کی تجویز کے مطابق ” سب کے لئے قابل قبول حل“ تک پہنچنا آسان نہیں ہو گا۔ وہ اپنے دور صدارت میں پاکستان کے طے شدہ سرکاری موقف سے ہٹ کر کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کشمیر کو انہوں نے چار زونز میں تقسیم کرنے کی بات کی تھی۔ ان کو بنانا چاہئیے کہ کیا ان کی تجویز اب بھی قابل عمل ہے اور جن تجاویز پر وزرائے خارجہ کی خفیہ بات چیت جاری تھی کیا واقعی اس کا کوئی نتیجہ نکلنے والاتھا؟ یا پھر ان کے خیال میں مسئلہ کشمیر کا ایسا حل کون سا ہے جس پر اتفاق رائے ممکن ہے۔بظاہر تو نہیں لگتا کہ ایسا کوئی حل سامنے ہے۔ جو تینوں کے لئے قابل قبول ہو۔اب وقت ہے کہ جنرل پرویز مشرف اور خورشید قصوری خفیہ مذاکرات کی پوری کہانی کھل کر بیان کر دیں۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...