پاکستان سے پوزیشن ہولڈرطلباء وطالبات کا یورپ کی درسگاہوں کا مطالعاتی دورہ

پاکستان سے پوزیشن ہولڈرطلباء وطالبات کا یورپ کی درسگاہوں کا مطالعاتی دورہ
 پاکستان سے پوزیشن ہولڈرطلباء وطالبات کا یورپ کی درسگاہوں کا مطالعاتی دورہ

  

تعلیم کی اہمیت و افادیت ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حصول علم کے بغیر نہ تو کوئی قوم بام عروج حاصل کرسکتی ہے اور نہ ہی معاشی طور پر مضبوط و توانا ملک کے طور پر ابھرسکتی ہے۔کسی بھی ملک کے سیاسی نظام میں استحکام، جمہوری اداروں کی مضبوطی ، معاشی ، معاشرتی، ثقافتی ترقی صرف اور صرف تعلیم ہی کی مرہون منت ہے۔تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح و نصرت حاصل ہوئی تو بہت سے کفار کو قیدی بنالیا گیا۔ قیدیوں کے مقدرکا فیصلہ کرنے کے لئے حضور اکرم ﷺ کی سربراہی میں صحابہ کرامؓ جمع ہوئے تو کسی نے کہا کہ ان کو قتل کردو، کسی نے کہا کہ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دو مگر آقائے دوجہاں رحمت اللعالمین نے فیصلہ سنایا کہ جو قیدی پڑھا لکھا ہے وہ مسلمانوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کرے تو اس کو معاف کردیا جائے گا۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاکستا ہے کہ اسلام میں علم کی کیا حیثیت ہے کیونکہ حضور اکرم ﷺ جانتے تھے کہ تعلیم حاصل کئے بغیرنہ تو انسان باشعور ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ قوم دنیا پر حکمرانی کا تصور کرسکتی ہے ایک اور جگہ ہے کہ ’’ گود سے لے کر گور تک علم حاصل کرو۔‘‘

اگرترقی یافتہ قوموں کی تاریخ پرنظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان قوموں نے اپنی تمام ترتوانائیاں اور وسائل کو حصول علم کے لئے وقف کردیا جس کی بدولت آج وہ دنیا پر حکمرانی کررہی ہیں۔پاکستان کو دنیاکے نقشے پر ابھرے 69سال ہوگئے ہیں مگر کوئی بھی حکومت جامع اور ٹھوس پالیسی مرتب نہیں کرسکی صرف اور صرف ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اپنائی۔ جو بھی حکومت برسراقتدار آئی اس نے جانے والی حکومت کی پالیسی کو یکسر ختم کرکے اپنی پالیسی دی جس کی وجہ سے ملک تعلیمی لحاظ سے دوسری قوموں کی نسبت پیچھے رہ گیا۔اگر ہم اپنے اردگرد کے ہمسایہ ممالک کی شرح خواندگی پر نظر ڈالیں تو پاکستان سب سے نیچے ہے۔حتی کہ سری لنکا جیسے ملک کی شرح خواندگی 99فیصدہے۔ جس کو ایک مدت سے خانہ جنگی کا سامنا رہا ہے۔

وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف تعلیم کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے گزشتہ اور موجودہ دور اقتدار میں تعلیم کو ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے اور ایسے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں جن کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔انہوں نے مستحق ہونہار طلبہ کے لئے پنجاب ایجوکیشنل فنڈ کا اجراء کیا اس کے علاوہ پوزیشن ہولڈر طلباوطالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے نقدانعامات ، ذہین طلبا کے لئے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی سکیم، سولر پینل کی تقسیم، پسماندہ علاقوں کے یتیم بچوں کے لئے دانش سکول سسٹم کا قیام جیسے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔شرح خواندگی میں اضافہ کے لئے پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب اور نئے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ دنیا بھر کی اعلی یونیورسٹیوں میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے لئے شہباز شریف میرٹ سکالرشپ سکیم متعارف کرائی جارہی ہے ۔ حکومت پنجاب نے نئے مالی سال میں گزشتہ سال کی نسبت 47فیصد اور سکول ایجوکیشن کے ترقیاتی بجٹ پر71فیصدزائد فنڈز مختص کئے ہیں۔ سکول ایجوکیشن کے لئے مجموعی طور پر 256ارب روپے جبکہ ہائرایجوکیشن کے لئے 46ارب86کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی ہے۔

وزیراعلی کی ہدایت پر حکومت پنجاب نے پوزیشن ہولڈرطلبا و طالبات میں خوداعتمادی کو پیدا کرنے اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے تعلیمی نظام سے آگاہی کے لئے بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے مطالعاتی دوروں کا آغاز کیا۔ان مطالعاتی دوروں میں صرف پنجاب کے پوزیشن ہولڈرز کوہی شامل نہیں بلکہ پاکستان کی تمام اکائیوں سمیت گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر اور اسلام آباد بورڈ کے بچے بھی شامل ہیں۔اسی طرح وزیراعلی پنجاب نے تعلیم کو بنیاد بنا کر تمام صوبوں کے بچوں کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے جس سے بچوں میں قومی یک جہتی ، اتحاد ، یگانگت اور بھائی چارے کے جذبات پروان چڑھ رہے ہیں۔ یہ پروگرام 2009 میں شروع کیاگیا تھا اور ابتک 300کے قریب پاکستان بھر سے پوزیشن ہولڈڈرز کو یورپ کی معروف یونیورسٹیوں کے دورے کروائے گئے ہیں۔ 2009 میں20 ، 2010 میں50، 2011 میں 26 ، 2012میں 40، 2013میں40 ، 2014میں 41 ، 2015میں41اور2016میں 42بچوں کو لے جایا گیا۔ 3جون کو پاکستان بھر سے 41رکنی وفد یورپ کے دورے پر روانہ ہوا۔ صوبائی وزیرہائرایجوکیشن ذکیہ شاہنواز نے بچوں کو الوداع کیا۔ایئرپورٹ پر پوزیشن ہولڈر کو پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ یہ وفد عید الفطر سے ایک دن قبل واپس لاہور پہنچا ہے۔

وفد جب لندن پہنچا تو اسے شہر کا دورہ کرایا گیا۔ٹور گائیڈ نیک کی رہنمائی میں لندن شہر کے قدیمی محل جیمز پیلس میں گارڈز کی تبدیلی کی تقریب کے بعد بکنگھم پیلس کا رخ کیا اورطلبہ کو سینٹ پال کیتھیڈرل لندن کی بلندترین عمارت کا دورہ کیا۔ کانووینٹ گارڈن ‘ نیشنل ہسٹری میوزیم‘ ٹریفالگر سکوائر‘ مے فیئر پارک لین‘ کی گوتھک طرز تعمیر طلبہ کے لئے خاصی دلچسپی کا باعث تھی۔ بعدازاں وفد نے دریائے ٹیمز کا دورہ کیا۔ واپسی پر طلبہ کی معروف صحافی سہیل وڑائچ اور عامر غوری سے الگ الگ مطالعاتی نشستوں کا اہتمام کیا جہاں سہیل وڑائچ نے طلبہ کے سوالوں کے جوابات دیئے۔ پاکستان کے ’’واکنگ ایمبیسیڈر‘‘ نے 800سال قدیمی لندن کی معروف یونیورسٹی آف کیمبرج کا دورہ کیا۔ یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف انجینئرنگ پہنچنے پر ایلن سویلس نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا اور انہیں یونیورسٹی امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی سے ملحقہ 159 یونیورسٹیاں اور 21 کالجز موجود ہیں جہاں 12ہزار سے زائد انڈرگریجویٹ طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ 2000اوورسیز طلبا میں سے صرف 40 کا تعلق پاکستان سے ہے۔ پاکستانی طلبہ کے وفد کو کیمبرج یونیورسٹی میں زیرتعلیم پاکستانی نژاد طلبہ سے بھی تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ یہ امر دلچسپی کا باعث ہے کہ علامہ اقبال بھی ٹرینٹی کالج کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ دریائے کیم کی سیر کے بعد ہاؤس آف لارڈز کا دورہ کرایا گیا۔ بعد ازاں پاکستانی وفد نے آٹھویں پاکستان اچیومنٹ ایوارڈز انٹرنیشنل لندن کی تقریب میں شرکت کی جہاں لارڈ قربان حسین میزبان تھے۔ پاکستانی وفد کا تقریب میں پرجوش خیرمقدم کیا گیا۔ وفد کے اراکان نے تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ پوزیشن ہولڈر طلبہ کے لئے یورپ کے مطالعاتی دورے کی قابل تقلید مثال قائم کرنے پر وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف قابل تحسین ہیں۔طلبہ نے لندن کے مضافاتی قصبے گلڈفورڈ میں یونیورسٹی آف سرے کا دورہ بھی کیا جہاں انٹرنیشنل ایڈمیشن آفیسر یونیورسٹی آف سرے نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا اور انہیں یونیورسٹی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ بعدازاں پاکستانی طلبہ کے وفد کو یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا گیا۔ طلبہ کو ڈاکٹر ٹم براؤن نے فورجی ٹیکنالوجی کے بارے میں بریفنگ دی۔

وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے پروگرام کے تحت ملک بھر پوزیشن ہولڈرز کے طلبہ کے وفد’’واکنگ ایمبسیڈر آف پاکستان‘‘ نے سکاٹ لینڈ میں مختلف مقامات پر دورہ کیا۔یونیورسٹی آف سٹرلنگ میں پہنچنے پر یونیورسٹی حکام نے اینڈریو ملربلڈنگ میں ادارے کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ یونیورسٹی آف سٹرلنگ میں میڈیکل اور انجینئرنگ کی روایتی تعلیم کی بجائے ’’ایکوا کلچر‘‘کریمنالوجی میرین بائیو ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں انڈ ر گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایش کورس کروائے جاتے ہیں۔یونیورسٹی سٹرلنگ کا شمار یورپ کی 60 بہترین یونیورسٹیوں میں کیا جاتا ہے۔ طلبہ نے سکاٹ لینڈ کی مشہور لوچ لومونڈ نامی تازہ پانی کی جھیل کی سیر کی اور چھوٹے بحری جہاز کے سفر سے محظوظ ہوئے۔پوزیشن ہولڈرز طلبہ نے ایڈن برگ یونیورسٹی اور سکاٹ لینڈ پارلیمنٹ کابھی دورہ کیا۔ایڈن برگ یونیورسٹی میں زیر تعلیم44فیصد طلبہ کا تعلق بیرونی ممالک سے ہے۔یونیورسٹی کو 20نوبل پرائز جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔یونیورسٹی کے ریلشن آفیسر روبل ویلس نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایڈن برگ یونیورسٹی میں 250 سے زائد کلب اور سوسائٹیاں کام کررہی ہے۔بعدازاں پاکستانی طلبہ کا وفد گلاسکو میں پاکستان کے قونصلیٹ پہنچ گیا جہاں قونصل جنرل احسان رضا شاہ نے طلبہ کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا۔طلبہ نے تقریب میں پاکستانی کمیونٹی ،مقامی حکام سے تبادلہ خیال کیا۔گلاسکو میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے پوزیشن ہولڈرز طلبہ کے اعزاز میں افطار ڈنر کی شاندار ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوزیشن ہولڈرز طلبہ نے یورپ کے مطالعاتی دورے کو وزیراعلی محمد شہباز شریف کا شاندار ویژن قرار دیا۔طلبہ نے تقریب کے آخر میں میزبان کو سوینئر پیش کیا۔قبل ازیں طلبہ نے یونیورسٹی آف مانچسٹر کا دورہ کیا اور اس کے مختلف شعبہ جات کا جائزہ لیا۔ یونیورسٹی آف ریلشن آفسر لیزا گرین نے پاکستان نژاد طلبہ کے ساتھ وفد کا پرجوش استقبال کیا۔یونیورسٹی کو برطانیہ کی پانچویں بڑی یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر سے 40 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔25 سے زائد نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں کا تعلق اسی یونیورسٹی سے ہے۔وفد کو مانچسٹرمیوزیم کا بھی دورہ کرایا گیا۔مانچسٹر میں پاکستان کے قونصل جنرل کی طرف سے طلبہ کو خوش آمدید کہا گیا۔

وفد نیجرمنی کے دارالحکومت برلن میں انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل ڈپلومیسی آئی سی ڈی کا دورہ کیا جہاں میزبان پروفیسر کشور چکرا بورٹے نے دیگر حکام کے ساتھ ان کا پرجوش خیرمقدم کیا اور تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ پروفیسر چکرا بورٹے نے بتایا کہ ادارہ انٹرنیشنل ریلیشنز اور کلچرل ڈپلومیسی‘ گلوبل گورننس اور انٹرنیشنل اکنامکس جیسے مضامین میں تعلیم کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ طلبہ نے ٹیکنیکل یونیورسٹی برلن کا دورہ کیا۔ جہاں یونیورسٹی حکام نے ادارے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ 1770ء میں قائم ہونے والے ٹیکنیکل کالج کو 1940ء میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیااور اب ٹیکنیکل یونیورسٹی جرمنی کی تیسری بڑی ٹیکنالوجی یونیورسٹی ہے جہاں سائنس انڈسٹری کے اشتراک کار سے تحقیقاتی کام جاری ہے۔ یونیورسٹی کا سٹاف 336 اساتذہ اور 2120 سٹاف پر مشتمل ہے۔ یونیورسٹی میں کلائمیٹ ریسرچ لیب‘ سکول آف میومینٹیز‘ سکول آف میتھمیٹکس‘ سکول آف پراسس سائنس‘ سکول آف مکینیکل انجینئرنگ قائم ہے۔ پوزیشن ہولڈر طلبہ کے وفد نے برلن میں یوریشیا انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان ایمبیسی کا بھی دورہ کیا۔ طلبہ کے وفد کو کولون بزنس سکول میں خصوصی بریفنگ بھی دی گئی اور بتایا گیا کہ ادارے میں انٹرنیشنل ٹورازم سے میڈیا سٹڈی تک مختلف کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ طلبہ کے وفد کو بعد ازاں برلن میں پاکستانی سفارتخانے میں پاکستانی سفیر جوہر سلیم نے تفصیلی بریفنگ دی۔

حکومت پنجاب نے غریب مگر ذہین طلبا و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ کا اجراء کیا ہے اور 2ار ب روپے سے شروع ہونے والے فنڈ کا حجم 20ارب تک پہنچ گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا تعلیمی فنڈ ہے۔ ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ سے ایک لاکھ سے زائد کم وسیلہ خاندانوں کے ذہین اور مستحق طلبا و طالبات میں تقریبا 6ارب روپے کے وظائف تقیم کئے جاچکے ہیں۔اس سے نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ، بلوچستان ، کے پی کے ، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر ، فاٹا کے ذہین بچے مستفید ہورہے ہیں۔

اسی طرح حکومت پنجاب نے پوزیشن ہولڈر طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے نقد انعامات دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سکیم میں دوسرے علاقوں کے بچوں کو بھی شامل کیاگیا ہے۔اب تک ہزاروں طالب علموں کو ایک ارب روپے سے زائد کے تعلیمی انعامات دیئے جاچکے ہیں۔ حکومت نے قوم کے معماروں کو جدید علم سے آراستہ کرنے کے لئے لیپ ٹاپس دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور دو مراحل میں حکومت نے ساڑھے آٹھ ارب روپے مالیت کے لیپ ٹاپ ہونہار طلبہ میں تقسیم کئے ہیں۔ نئے مالی سال میں بھی اس پروگرام کے تحت 4ارب روپے کی لاگت سے 4لاکھ ذہین طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے جائیں گے۔مزید برآں منکیرہ اورتونسہ میں 4مزید دانش سکول قائم کرنے کے لئے 3ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 6000ہائی سکولوں میں کمپیوٹرلیب قائم کرنے کے علاوہ ایک کروڑ 50لاکھ بچوں میں مفت نصابی کتب تقسیم کی گئی۔ایک لاکھ 35ہزار اساتذہ کی میرٹ پر تعیناتی کی گئی۔

مزید :

کالم -