جب کشمیری قوم نے خون جگرسے جرأت وبہادری کی لازوال داستان رقم کی

جب کشمیری قوم نے خون جگرسے جرأت وبہادری کی لازوال داستان رقم کی

  



تحریک آزادی کشمیر میں 13 جولائی 1931ء کادن بڑی اہمیت کاحامل ہے ۔یہ وہ دن ہے جب 21کشمیری اذان کی تکمیل کرتے کرتے جام شہادت نوش کرگئے تھے ۔بلاشبہ تاریخ میں شعائراسلام کے ساتھ محبت کایہ اپنی نوعیت کامنفردواقعہ ہے ۔13جولائی کے دن سری نگرجیل کے سامنے لاکھوں کامجمع تھااتنے میں اذان کاوقت ہوگیاایک نوجوان اذان کہنے کے لئے دیوارپرچڑھا ابھی اس نے اذان کاپہلا کلمہ۔۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔۔ ہی اداکیا تھا کہ مجسٹریٹ نے بغیر کسی انتباہ کے نشانہ باندھ کر اس کے سینے پرگولی ماری جوان گولی کھاکرنیچے گرپڑاتڑپنے لگااورجام شہادت نوش کرگیا۔یہ سخت آزمائش کا وقت تھا اب مسلمانوں کے پاس دو ہی راستے تھے ایک یہ کہ وہ اذان کی ادھوری ونامکمل صدا چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرجائیں یا پھر سینوں پر گولیاں کھاکر اذان کی ابدی صدا کو مکمل کریں۔ چنانچہ جس جگہ کھڑے ہو کر پہلے نوجوان نے اذان کے دو جملے کہے تھے اسی دیوار پر ایک دوسرا نوجوان اچھل کر کھڑا ہوا اور پہلے نے جہاں سے اذان چھوڑی تھی اس سے آگے اذان شروع کردی ۔مجسٹریٹ نے اسے بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا اور وہ بھی شہید ہو گیا۔چنانچہ یکے بعددیگرے21لوگ شہیدہوئے لیکن برستی گولیوں اورمیدان کارزار میں بھی اذان مکمل کرگئے۔اذان کی تکمیل کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوں میں 19سال کے بچے سے لے کر75سال کے بزرگ شامل تھے۔اس طرح سے اہل کشمیرنے اپنے خون سے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ واقعتا سب سے بڑا ہے، بزرگ ہے، بلند ترہے، عزت و شان والا ہے اوراللہ کے نام پرمسلمان اپنی زندگی کی سب سے بڑی متاع یعنی۔۔۔۔۔جان بھی پیش کرکے سمجھتاہے کہ

حق تویہ کہ حق ادانہ ہوا

مہاراجہ ہری سنگھ کے وزیراعظم ویکفیلڈ نے اس واقعہ کے متعلق اپنی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ 13جولائی کو جتنے بھی کشمیری مسلمان شہید ہوئے سب کی چھاتیوں پر زخم تھے ان میں ایک بھی ایسا نہ تھا کہ جس کی پشت پر گولی لگی ہو۔اہل کشمیر نے سینوں پر گولیاں کھا کر ثابت کر دکھایا کہ مسلمان اپنے نبیؐ،قرآن اور شعائر اسلام کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔آج اس واقعہ کو88 برس بیت چکے ہیں کشمیری مسلمان آج بھی اسلام،قرآن،رب رحمان کے نام پرجوانیاں لٹارہے اورجام شہادت نوش کررہے ہیں۔88سال پہلے کشمیری مسلمانوں نے صرف اسلام کے نام پرجانیں قربان کی تھیں اب وہ پاکستان کے نام پربھی گولیاں کھارہے ،پاکستان زندہ بادکے نعرے لگارہے اورپاکستانی پرچموں میں دفنائے جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔کبھی ہم نے سوچا کہ اہل کشمیر کے پاکستان کے نام پرجانیں قربان کرنے کی کیاوجہ ہے۔۔۔۔۔۔؟وجہ صرف ایک ہے کہ کشمیری قوم پاکستان کواسلام کاگھر،اسلام کاقلعہ اوراسلامی پاکستان سمجھتی ہے۔کشمیری قوم سمجھتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہمارادین اورایمان کارشتہ ہے جودنیاکے تمام رشتوں سے مضبوط اورافضل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل کشمیرنہ اسلام کی توہین برداشت کرسکتے ہیں اورنہ پاکستان کی۔اسی بناپراہل کشمیرنے1947ء کے موقع پرقیام پاکستان کی تحریک میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیاتھا۔امرواقع یہ ہے کہ ہماری آزادی میں اہل کشمیر کی قربانیاں بھی تاریخ سازہیں۔ ہم تو1947ء کے وقت آزادی کی نعمت سے ہمکنارہوگئے لیکن کشمیری ابھی تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ کہاجائے توبے جانہ ہوگا کہ مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارتی قبضہ ڈوگرہ راج کا تسلسل ہے۔ڈوگرہ راج کی ابتدا 16مارچ 1846ء کو اس وقت ہوئی تھی جب جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ نے انگریزوں سے ساز باز کر کے تاوان جنگ کے طور پر کشمیر کو اس کے باشندوں اور وسائل سمیت صرف75لاکھ نانک شاہی روپوں،چند بھیڑوں اور کمبلوں کے عوض خرید لیا تھا۔یہ سودا ’’چوروں کے کپڑے اور ڈانگوں کے گز ‘‘ والی بات تھی۔کیونکہ کشمیر جنت نظیر کی سرزمین ’’14پیسے‘‘ فی ایکڑ کے حساب سے فروخت کر دی گئی تھی۔دنیا میں آج تک کسی خطے کو انسانوں سمیت اتنے حقیر سودے کے عوض فروخت کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ڈوگروں سے پہلے سکھ جموں کشمیر کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔کشمیری مسلمانوں کو ظلم وستم کی چکی میں پیسنے میں سکھ بھی کم نہ تھے۔لیکن جو ظلم ڈوگروں نے اپنے دور میں روا رکھا اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ڈوگرہ دور مسلمانوں کی محکومی اور غلامی کا بدترین دور تھااس دور میں مسلمانوں پر ایسے ایسے وحشیانہ اور بہیمانہ مظالم ڈھائے گئے جن کی تفصیل پڑھ کر اور سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔بلاوجہ زندہ انسانوں کی کھال اتروانا جموں کشمیر کے مہاراجہ گلاب سنگھ کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔معاشی پابندیاں اور سختیاں بھی انتہا کو پہنچ چکی تھیں اس کے ساتھ مذہبی پابندیاں بھی عائد کی جانے لگیں۔جن میں29اپریل1931ء کوخطبہ عید کی بندش،4جون1931ء کوتوہین قرآن کاواقعہ۔ توہین قرآن مجید کی وجہ سے گویا بغاوت کی سی کیفیت پیدا ہو گئی اب حکومت کے خلاف احتجاج کا لاامتناہی سلسلہ شروع ہو گیاریاست جموں کشمیر کے ہر گاؤں ہر گلی اور کوچے میں احتجاج پھیل گیا۔جموں کی ا س تحریک کے روح رواں چوہدری غلام عباس تھے تو وادی کشمیر میں اس تحریک کی قیادت میر واعظ مولانا محمد یوسف اور شیخ عبداللہ کے ہاتھ میں تھی۔وادی کشمیر میں اس تحریک کے دوبڑے مرکز تھے یعنی جامع مسجد سری نگر اور خانقاہ معلی۔ سری نگرکی جامع مسجد کا منبر میر واعظ خاندان کے پاس تھا ۔ توہین قرآن کا واقعہ ایسا نہ تھا جس پر مسلمان خاموش رہ جاتے یا دب اور ڈر جاتے۔جب احتجاج اپنے عروج پر پہنچا تو مہاراجہ ہری سنگھ نے توہین قرآن کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا اور مہاراجہ کا وزیر اعظم ویکیفلڈ بذات خود تحقیقات کیلئے جموں آیا ۔ویکیفلڈ نے بعد از تحقیق یہ بات تسلیم کر لی کہ قرآن مجید کی توہین ہوئی ہے لیکن ویکیفیلڈ نے یہ پخ بھی ساتھ لگادی کہ قرآن مجید کی توہین کا ارتکاب دانستہ نہیں کیا گیا۔ویکیفلڈ کی یہ پخ بالکل ہی خلا ف حقیقت اور خلاف واقعہ تھی اس لئے کہ ریاست جموں کشمیر کے ڈوگرہ حکمران ابتدا ہی سے اسلام ،شعائراسلام کی توہین مسلمانوں کی تذلیل کرتے چلے آرہے تھے۔ ویکفیلڈ نے ایک طرف مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ وفد کی صورت میں مہاراجہ سے ملیں اور اپنے مطالبات پیش کریں دوسری طرف ویکفیلڈ نے یہ عیاری کی کہ ہندؤوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں کھڑا کر کے فرقہ وارانہ فسادات شروع کروا دیئے ۔

بعد ازاں مہاراجہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے غیر جانبدار رہنے کا مصنوعی بھرم قائم کرنے کے لئے اعلان کردیں کہ مہاراجہ نے جس طرح ہندؤوں کے وفد سے ملنے سے انکار کر دیا ہے ایسے ہی وہ مسلمانوں کے وفد سے ملنا نہیں چاہتے یہ اعلان مہاراجہ کی صریحاََ جانبداری تھی۔اس لئے کہ ریاست کا مظلوم ترین طبقہ مسلمان تھے جبکہ ہندو مظلوم اور محکوم نہیں بلکہ ظالم اور حاکم تھے۔ بہرحال مہاراجہ کے اس اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ لہٰذا مسلمانوں کے جذبات مزید بھڑک اٹھے اور اشتعال پھیل گیا ۔چنانچہ خانقاہ معلی میں ایک وسیع جلسے کا اہتمام کیا گیا اس جلسہ میں ایک غیر ریاستی باشندہ عبدالقدیر خان بھی موجود تھا۔عبدالقدیرخان کے بارے میں متعدد روایات ہیں ایک روایت یہ ہے کہ اس کا تعلق سرحد سے تھا،دوسری روایت کے مطابق وہ کسی سیاح کے ساتھ بطور گائیڈ آیا تھابہرحال وہ جو بھی تھا اس نے سٹیج پر کھڑے ہو کر نہایت ہی غضبناک پرجوش ا ور مدلل قسم کی تقریر کی اس کی تقریر نے مجمع میں آگ لگادی اس نے کہا’’مسلمانو ! اب وقت آگیا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے جب تک ہم ایسا نہیں کریں گے توہین قرآن مجید کا سلسلہ نہیں رکے گا۔‘‘جلسہ کے اختتام پر ریاستی پولیس نے عبدالقدیر خان کو گرفتار کر لیا وہ چونکہ کشمیری عوام کے حق میں آواز اٹھانے کی وجہ سے گرفتار ہواتھالہذا کشمیری عوام کو اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔(جاری ہے)

مزید : کالم