’مجھے 2 لوگوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اس کے بعد گھر واپس آرہی تھی تو راستے سے دوبارہ اُٹھالیا گیا اور۔۔۔‘ نوعمر لڑکی کے ساتھ ایسا ظلم کہ پوری انسانیت کانپ اُٹھے

’مجھے 2 لوگوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اس کے بعد گھر واپس آرہی تھی تو ...
’مجھے 2 لوگوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اس کے بعد گھر واپس آرہی تھی تو راستے سے دوبارہ اُٹھالیا گیا اور۔۔۔‘ نوعمر لڑکی کے ساتھ ایسا ظلم کہ پوری انسانیت کانپ اُٹھے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چھندوارا(نیوز ڈیسک)جنسی جرائم کے حوالے سے بھارت دنیا کا بدنام ترین ملک ہے۔ ایسا بلاوجہ نہیں ہے، کیونکہ اس ملک میں واقعی ایسے ایسے لرزہ خیز جنسی جرائم ہو رہے ہیں کہ جن کے بارے میں جان کر انسان کی روح تک کانپ اٹھتی ہے۔ ریاست مدھیا پردیش میں پیش آنے والے تازہ ترین واقعے کو دیکھ لیجئے جہاں ایک نوعمر لڑکی کو چند گھنٹوں کے دوران دو بار اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا گیا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق 6 جولائی کی شام اس 14 سالہ لڑکی کو موہت بھردواج اور راہول بھونڈے نامی اوباش نوجوانوں نے اغواء کیااور رات بھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اگلی صبح ان بدمعاشوں کے چنگل سے نجات ملی تو بدقسمت لڑکی اپنے گھر جانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اسی دوران تین اور اوباشوں کی اس پر نظر پڑ گئی اور اسے ایک بار پھر اغواء کر لیا گیا۔ بنٹی، امیت اور انکیت نامی ان غنڈوں نے بھی اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد اسے ایک ویران سڑک پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 8 جولائی کے روز یہ لڑکی نیم پاگل پن کی حالت میں ایک سڑک پر چلتی پائی گئی۔ پولیس کے پاس لڑکی کی گمشدگی کی رپورٹ پہلے ہی درج ہو چکی تھی۔ جلد ہی تصدیق ہو گئی کہ یہ وہی بدقسمت لڑکی ہے جو دو روز قبل لاپتہ ہوئی تھی۔ پولیس نے اس کی اجتماعی عصمت دری کے مرتکب تمام پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس