نواز شریف کو گرفتار کرنے کیلئے ٹیم تشکیل دیدی گئی، سربراہ کسے مقرر کیا گیا ہے؟ رات کے اس پہر بڑی خبر آ گئی

نواز شریف کو گرفتار کرنے کیلئے ٹیم تشکیل دیدی گئی، سربراہ کسے مقرر کیا گیا ...
نواز شریف کو گرفتار کرنے کیلئے ٹیم تشکیل دیدی گئی، سربراہ کسے مقرر کیا گیا ہے؟ رات کے اس پہر بڑی خبر آ گئی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی جمعہ کو وطن واپسی کے موقع پر گرفتاری کیلئے 16 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔اس ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر قومی احتساب بیورو (نیب) امجد علی اولکھ کریں گے، ٹیم میں نیب کے 9 افسران اور باقی پولیس افسران شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”نواز شریف کو ائیرپورٹ کے اس حصے سے گرفتار کیا جائے گا“ عبوری وزیر داخلہ پنجاب کے اعلان نے ’کھلبلی‘ مچا دی، (ن) لیگی رہنماءاور کارکن حیران پریشان رہ گئے 

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق یہ ٹیم نواز شریف اور مریم نواز کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کرے گی جبکہ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم تمام کارروائی کی نگرانی کریں گے۔نیب آفس میں سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایات کی گئی ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب نے دو ہیلی کاپٹرز کا انتظام کر لیا ہے اور کابینہ ڈویژن کی جانب سے دو ہیلی کاپٹرز جمعہ کے روز نیب کو مختص کر دئیے ہیں۔

ایک ہیلی کاپٹر لاہور اور دوسرا اسلام آباد ایئرپورٹ پر کھڑا کیا جائے گا، کسی بھی ایئرپورٹ پر اترتے ہی نواز شریف اور مریم نواز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ نیب نے ہیلی کاپٹرز کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست کی تھی اور وزارت داخلہ کے پاس ہیلی کاپٹر نہ ہونے کے باعث کابینہ ڈویڑن نے وزیر اعظم کے لیے مختص ہیلی کاپٹر دے دیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف بحیثیت وزیراعظم جو ہیلی کاپٹر استعمال کرتے رہے وہی انہیں اڈیالہ لے جائے گا۔

خیال رہے کہ 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم کو مجموعی طور پر 11، مریم نواز کو 8 اور کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کو ایک برس قید کی جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔اس سلسلے میں نواز شریف کے داماد محمد صفدر کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے تاہم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی لندن میں موجودگی کی وجہ سے ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /لاہور