’’ملی مسلم لیگ !پاکستان کی موروثی سیاست میں ہلچل‘‘

’’ملی مسلم لیگ !پاکستان کی موروثی سیاست میں ہلچل‘‘
’’ملی مسلم لیگ !پاکستان کی موروثی سیاست میں ہلچل‘‘

  

پاکستان کی مذہبی جماعت ،جماعت الدعوۃ نے باقاعدہ ملکی سیاست میں شاندار انٹری کی اور اپنی سیاسی جمات کا نام ملی مسلم لیگ رکھا ہے۔

ملی مسلم لیگ کو پاکستان کے الیکشن کمیشن نے جب بلاعذر بطور سیاسی جمات رجسٹرڈ نہ کیا تو ملی مسلم لیگ نے ’’اللہ اکبر تحریک ‘‘کی حمایت کا اعلان کرکے پاکستان کی موروثی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے پہلی بار قومی وصوبائی نشستوں پر14 خواتین سمیت 260امیداوارکھڑے کئے ہیں۔

پروفیسر حافظ محمد سعید کا کہنا ہے کہ ہم نے صرف اپنی جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان کا الیکشن لڑنا اور دشمن قوتوں کی مداخلت کے راستے بند کرنے ہیں۔ ہم نے مایوسیاں دور کر کے امیدوں کے چراغ جلانے ہیں ۔

ہم نے عام لوگوں، مزدوروں، غریبوں کے حقوق کی جنگ لڑنی ہے۔ ہماری خدمت انسانیت کی بنیاد پر ہوگی۔ اب اس ملک میں بیرونی فیصلے مسلط نہیں ہونگے ۔داخلہ وخارجہ پالیسی آزاد اور وسائل پر اعتماد سے ہی ملک کی کایا ہی پلٹ سکتی ہے۔

سیاستدانوں نے الیکشن کو نفع بخش کاروبار بناکر رکھ دیا ہے ۔ہم نے ہر پاکستانی کے دل ودماغ میں شعور بیدار کرنا ہے، پاکستان کو غلامی سے نجات دلاکر آزاد اور خود مختار بنانا ہے ۔ہم ایک مشن کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ آج پاکستان کے اکثرلوگ سخت مایوسی کا شکار ہیں جو الیکشن ہوتے رہے ہیں ،اسمبلیاں بنتی رہیں حکومتوں نے بہت سخت مایوسیاں پھیلائی ہیں پاکستان عدم استحکام سے دوچار ہوچکا ہے ۔ہم نے عوام کے دلوں سے مایوسیاں دور کرنی ہیں امیدوں کے چراغ جلانے ہیں پاکستان کے حقیقی مسائل کے حل کے لئے کام کرنا ہے۔

آج الیکشن ،سیاست کو نفع بخش کاروبابنا لیا گیا ہے ،ہم نے کاروبار نہیں کرنا بلکہ ہماری خدمت انسانیت کی بنیاد پر ہوگی جماعتیں اپنا الیکشن لڑیں گی اور ملی مسلم لیگ تحریک اللہ اکبر انشاء اللہ پاکستان کی بقا سلامتی کا الیکشن لڑے گی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے جو بھی پارٹی جیت جاتی ہے۔

وہ سب سے پہلے امریکہ کی غلامی کا دم بھرتی ہے اور پاکستان کو غلامی کی زنجیروں میں مزید جکڑتی ہے، قرضتے لیتی ہے اور افسوس کی بات کہ وہ قرضے ملک پاکستان پر خرچ نہیں ہوتے، ان سے یہ حکمران اپنی تجوریاں بھرتے ہیں عیش وعشرت کرتے ہیں۔

سود کی قسطیں غریب عوام کا خون نچوڑ کر دی جاتی ہیں ہم امریکہ کی غلامی سے پاکستان کو آزاد کروانے کے لئے کرسی کا لالچ نہیں، بلکہ قوم کی خدمت ،پاکستان کی تکمیل ،اور ناقابل تسخیر بنانے کے لئے میدان میں آئے ہیں۔ ہم پاکستان کے حقیقی پاسبان بن کر آئے ہیں انشاء اللہ پاکستان کے مسائل حل کریں گے۔

مزدور مہنگائی کے ہاتھوں پریشان نہیں ہوگا ہم ٹیکسوں کے نظام کو ختم کرکے مزدور کو ریلیف دینا ہے ،کسانوں ،تاجروں صنعتکاروں کو بہتر مستقبل کے لئے ماحول مہیا کریں گے اور ہمارا الیکشن پاکستان میں ضرور ہے، مگر ہماری تشہیر بھارت کر رہا ہے بھارت چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ملی مسلم لیگ چھاجانے والی جماعت بن چکی ہے یہ پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے، جس کو رجسٹرڈ ہونے سے پہلے ہی امریکہ نے پابندی لگادی ہے۔

جماعت الدعوۃ نے ہمیشہ بلا امتیاز رنگ ونسل ومذہب انسانیت کی خدمت کی ہے ہمیشہ پاکستان کی بہتری چاہی ہے، مگر افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے کوئی ثبوت نہ ہونے پر بھی بھارت اور امریکہ کے حکم پر جماعت الدعوۃ پر پابندیاں عائد کی ہیں کبھی مجھے بلاوجہ کسی جرم کے بغیر نظر بند کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ملکی مفاد میں ہے میں پوچھنا چاہتا ہوں ،میں حق رکھتا ہوں کہ مجھے ان ملکی مفادات سے آگاہ کیا جائے، جن کے پیش نظر مجھے نظر بند کیا جاتا رہا ہے اور میری جماعت کو دہشت گرد جماعت کہا جاتا رہا۔

ہمارے فنڈز روک دئیے گئے اور جماعت الدعوۃ کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی ایمبولینسز کو پکڑ لیا گیا، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی لگادی گئی ۔الحمدللہ جماعت الدعوۃ کا دہشت گردی کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

جماعت نے ملک بھر میں مخیرحضرات کے تعاون سے وہاں کام کیا ہے جہاں انسانیت دم توڑ چکی تھی تھرپارکر ،چولستان میں جاکر دیکھیں ۔بھارت نے میری جماعت کو ممبئی حملوں میں ملوث کرنے کی کوشش کی، مگر الحمدللہ پاکستان کی عدالتوں نے ہمیں باعزت بری کیا کیونکہ مسلمان کبھی کسی خون آشام کارروائی کا حصہ نہیں ہوسکتا افسوس کہ چند پاکستان دشمن سابقہ حکمرانوں نے جماعت کے کرادار پر انگلیاں اٹھائیں اور پاکستان کو ممبئی حملوں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

میرا قصور یہ ہے کہ پاکستان کی بات کرتا ہوں ،انسانیت کی بات کرتا ہوں دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتا ہوں میں کشمیر کی بات کرتا ہوں۔

ہاں اس کشمیر کی بات کرتا ہوں، جس کے متعلق بانی پاکستان محمد علی جناح ؒ نے فرمایا تھا کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے ۔

ہم نے ملک بنایا کاروبار اور ظاہری ترقی کے لئے نہیں ،ایک نعرہ لگایا تھا پاکستان کا مطلب کیا ،ستر سال حکمرانوں کو دئیے کہ اس نعرہ کو پورا کرو ،لیکن یہ باریاں لگا کر آتے رہے ہیں افسوس اس نعرہ پر کام نہیں کیا ۔سڑکیں بند ہونے والا نظام اب ٹوٹنے والا ہے۔

ملی مسلم لیگ نے کفر کے ایوانوں کے اندر ہلچل مچادی ہے سیاست کرکے دکھائیں گے کہ سیاست کے حقیقی معنی کیا ہوتے ہیں اب عوام باشعور ہوچکے ہیں،پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے لوگ الحمدللہ ہمارے ساتھ شامل ہیں ہم بتائیں گے جمہوریت کی تعریف کیا ہوتی ہے ، لوگوں کی حکومت جو لوگوں کے ذریعے اور لوگوں کی خاطرآج جو حکمران عوام کی خدمت کا نعرہ لگاتے ہیں یقین جانیے، انہوں نے سب سے زیادہ عوام کو لوٹا ہے۔

انہوں اپنے مفادات کی خاطر لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا ہے یہ جو عوام کی خدمت کا دم بھرتے ہیں۔ ان کے اپنے علاج معالجہ تو بیرون ملک میں ہوتے ہیں، مگر یہاں جن کے ووٹوں سے یہ لوگ کامیاب ہوکر آتے ہیں ان لوگوں کو صحت جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں، پاکستان کی بیٹیاں سٹرکوں پر رکشوں پر بچے جنم دیتی ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو بین الاقوامی معیار کی طبی سہولیات سے مزین کردیا ہے ڈوب مرنے کا مقام ہے روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں نے عوام کو جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہوا ہے ۔سمجھ میں نہیں آتا کہ حکمرانوں کوکیوں موت یاد نہیں آتی۔

انہوں نے اپنی تجوریاں بھرتے بھرتے ملک کا دیوالیہ کردیا ہے ۔جماعت الدعوۃ نے بہت سوچ سمجھ کر سیاست کے اندر قدم رکھا اور انشاء اللہ ملی مسلم لیگ پاکستان کی سیاست میں ایک نیا اور تاریخی باب رقم کرے گی اور اس ملک میں اب ہوگا۔ اللہ کا قانون ،نظام مصطفی ؐ اور راج کرے گی، خلق خدا ،اب اس ملک میں کوئی باپ اپنے بچوں کو غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی قسم دیکر زہر نہیں پلائے گا ،کوئی ماں اپنے بچوں کی بھوک کے لئے اپنا جسم فروخت نہیں کرے گی ،کسی معصوم زینب ودیگر بیٹیوں کے ساتھ ظلم نہیں ہوگا۔

ہر طرف امن ہوگا، احکام الٰہی اور حکام مصطفیؐ کا بول بالا ہوگا نوجوان بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر خود کشیاں نہیں کریں گے ،پاکستان مقروض نہیں رہے گا۔

یہاں اس قدر رحمت الٰہی ہوگی کہ عہد حضرت عمربن عبدالعزیز کی یاد تازہ ہوگی کوئی زکوۃ لینے والا نہیں ہوگا، مگر یہ سب اس وقت ممکن ہوگا، جس وقت عوام اپنا قبلہ درست کریں گے، کیونکہ خدانے بھی آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، جسے خود نہ ہو احساس اپنے بدلنے کا۔

مزید : رائے /کالم