اے این پی کے رہنما انتخابی دہشت گردی کا پہلا شکار

اے این پی کے رہنما انتخابی دہشت گردی کا پہلا شکار

پشاور کے علاقے یکّہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے انتخابی جلسے کے دوران خودکش بم دھماکے سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور سمیت 15افراد شہید اور 47 زخمی ہوگئے، خودکش دھماکہ اس وقت ہوا جب ہارون بلور کارنر میٹنگ میں پہنچنے کے بعد کارکنوں سے گلے مل رہے تھے، اس سے پہلے جب وہ جلسہ گاہ میں پہنچے تو کارکنوں نے نعروں اور آتش بازی سے ان کا استقبال کیا۔ پولیس کا خیال ہے کہ دہشت گرد کارنر میٹنگ میں ان کی آمد سے پہلے ہی موجود تھا اور ہدف ہارون بلور ہی تھے، 2012ء میں ان کے والد بشیر بلور بھی ایسے ہی ایک خودکش حملے میں شہید ہوگئے تھے۔

انتخابی مہم میں سیاستدانوں کو سکیورٹی کے حوالے سے جو خدشات درپیش ہیں اور جن کا تذکرہ حال ہی نیکٹا کی جانب سے بھی ہوا ہے پشاور میں دہشت گردی کے اس واقعے نے ان خدشات کو درست ثابت کردیا، اتفاق کی بات ہے کہ چھ سال قبل ہارون بلور کے والد بشیر بلور بھی دہشت گردی کے ایسے ہی واقعہ میں جاں بحق ہوگئے تھے، بلور فیملی کے لئے یہ تازہ صدمہ نہ صرف اس کے پرانے زخم ہرے کرگیا ہے بلکہ یہ بات بھی بڑی حد تک درست ثابت ہوگئی ہے کہ سیاستدانوں کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں، یہ درست ہے کہ جس انداز سے دہشت گردی کی یہ واردات ہوئی ہے، اس کی روک تھام آسان نہیں ہوتی کیونکہ جو دہشت گرد اپنی جان دینے اور دوسرے بے گناہوں کی جان لینے پر تلا ہوا ہو اور اس کی تیاری کرکے نکلاہو اس کے ارادوں کو اسی صورت ناکام بنایا جاسکتا ہے جب وہ چیکنگ کے دوران پکڑا جائے، لیکن عمومی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے اجتماعات میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آنے والے حاضرین سب کے سب میزبانوں کے حامی ہیں لیکن انہی میں کوئی دشمن بھی چھپا ہوتا ہے جو موقع ملتے ہی واردات کر ڈالتا ہے جیسا کہ ہارون بلور کے ساتھ ہوا وہ جلسہ گاہ میں آنے کے بعد اپنے کارکنوں سے مل رہے تھے، ایسے ہی موقع سے فائدہ اٹھا کر دہشت گرد نے واردات کر ڈالی اور ایک خونچکاں سانحہ رونما ہوگیا جس نے نہ صرف ایک سیاستدان کی جان لی بلکہ ان کے ساتھ 14دوسرے کارکن بھی شہید ہوگئے اور شدید زخمیوں میں سے بھی بہت سے شاید جانبر نہ ہوسکیں۔

اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کو انتخابی مہم کے دوران زیادہ بہتر سکیورٹی انتظامات کی ضرورت ہوگی چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان نے بھی اس کی ضرورت پر زور دیا، اتفاق سے وزیر داخلہ بھی اسی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، معلوم نہیں انہوں نے منصب سنبھالنے کے بعد کوئی ایسا ایکشن پلان تیار کیا ہے، جس سے سیاستدانوں کو لاحق خطرات کم ہوسکیں، اگر اب تک نہیں ہوا تو یہ بہت ضروری ہے کہ فوری طور پر ایسے انتظامات کئے جائیں کہ اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

ہارون بلور کو رواں انتخابی مہم کا پہلا بڑا شہید قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ واحد امیدوار ہیں جو اس طرح کی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں، اس واردات میں ان کے بیٹے بھی زخمی ہوئے ہیں، اتفاق کی بات ہے کہ جب 2012ء میں بشیر بلور دہشت گرد ی کا نشانہ بنے تھے تو ہارون بلور اس وقت بھی اسی طرح زخمی ہوئے تھے جس طرح اب ان کے بیٹے ہوئے ہیں۔

پشاور کا بلور خاندان ایک نامور سیاسی اور کاروباری خاندان ہے اس وقت خاندان کے بزرگ سیاستدان حاجی غلام احمد بلور کئی بار وفاقی وزیر رہے۔ اس خاندان کے دوسرے افراد بھی عوامی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ ہارون بلور اعلیٰ تعلیم یافتہ، مہذب اور سلجھے ہوئے سیاستدان تھے اور پشاور کے ناظم بھی رہ چکے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی سیاست میں ضرورت ہے لیکن دہشت گرد انہیں نشانہ بنا کر پاکستان کی سیاست کو تشدد کے راستے کی جانب لے جا رہے ہیں۔

قبل ازیں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ بیرون ملک سے انتخابات کو سبوتاژ کیا جا سکتا ہے۔ ایسے لگتا ہے ان کا یہ خدشہ بالکل درست تھا کیونکہ پشاور میں دہشت گردی کے جو واقعات ہوئے ہیں ان میں سے زیادہ تر کی منصوبہ بندی افغانستان میں بیٹھے ہوئے دہشت گرد گروہ کرتے ہیں حالیہ برسوں میں صوبے اور پشاور میں دہشت گردی کی جتنی بھی وارداتیں ہوئی ہیں ان کے ڈانڈے افغانستان سے ہی ملے ہیں اس لئے بعید نہیں کہ اس واردات کی منصوبہ بندی بھی وہیں ہوئی ہو، یہ تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ دہشت گرد کا تعلق کس گروہ سے تھا اور وہ کہاں سے آپریٹ کرتا ہے لیکن ایسی وارداتوں کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کئے جائیں نہ صرف انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار ان کی سیاسی جماعتیں اور کارکن خود یہ انتظامات کریں بلکہ حکومت بھی سیکیورٹی کے ماحول کو بہتر بنائے کیونکہ اگر ایسی ہی چند وارداتیں اور ہو گئیں تو انتخابات سے پہلے خوف و ہراس کی ایسی فضا پیدا ہو جائے گی جس میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا۔ عین ممکن ہے اس دہشت گرد کا تعلق بھی کسی ایسے گروہ سے ہو جو اے این پی کو انتخابی مہم سے روکنا چاہتا ہو اور ایک اہم امیدوار کو راستے سے ہٹا کر یہی پیغام دیا گیا ہو کہ پارٹی کے باقی امیدوار بھی خوفزدہ ہو جائیں۔ 2013ء کے انتخابات میں بھی اے این پی کو ایسے ہی حالات کا سامنا تھا لیکن پارٹی کی جرأت مند قیادت اس سے خوفزدہ نہیں ہوئی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس دہشت گرد کے سرپرستوں نے انتخابی نتائج کے حوالے سے بھی اپنا کوئی پلان بنا رکھا ہو اور ایسی وارداتوں کو وہ اپنی کامیابی کے لئے ضروری خیال کرتے ہوں اس لئے ایسی وارداتوں کا سد باب ضروری ہے۔ ادارہ پاکستان بلور فیملی کے لئے دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ اظہار تعزیت کرتا ہے اور ان کے شہدا کی مغفرت کے لئے دعا گو ہے۔

مزید : رائے /اداریہ