نواز شریف کا استقبال

نواز شریف کا استقبال
نواز شریف کا استقبال

نواز شریف کی واپسی ٹارزن کی واپسی سے کم نہیں ، عمران خان نے اپنی زبان میں کہا ہے کہ نواز شریف ایسے آرہے ہیں جیسے ورلڈ کپ جیت کر آرہے ہوں۔

ہم سے پوچھیں تو نواز شریف جس مقصد کے لئے آرہے ہیں وہ ورلڈ کپ جیتنے سے بھی بڑا مقصد ہے، نواز شریف عوام کے حق حاکمیت کا بول بالا کرنے کے لئے آرہے ہیں ، پاکستان میں استبدادی قوتوں کو للکارنے کے لئے آرہے ہیں ، یہ تو اتنا بڑا مقصد ہے کہ خود عمران خان کو بھی ان کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ پر جانا چاہئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے خود سوئے ہوئے شیر کو جگایا ہے اور اب خود ہی درختوں پر چڑھی اسے قابو کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے ، یہی نہیں بلکہ کل جب لوگ نواز شریف کے استقبال کے لئے سیلاب کی طرح نکلیں گے تو لاہور کی انتظامیہ درختوں پر ٹنگی نظر آئے گی ، اہلکار ایک دوسرے سے کہتے نظر آئیں گے کہ بھائی آج درختوں پر ہی رہو ، سڑکون پر نون لیگیئے نکلے ہوئے ہیں۔

لوگ اندازے لگارہے ہیں کہ نواز شریف کے استقبال کے لئے ایک لاکھ لوگ ہوں گے یا دو لاکھ ہوں گے ،کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ لاہور سے کوئی بھی گھر سے باہر نہیں نکلے گا،لیکن اگر اس فضا کے باوجود نواز شریف کی پارٹی الیکشن ہار جائے تو ہمارے انتخابی نظام میں بہت بڑی خرابی ہے ۔ہماری ان اندازہ خوروں سے گزارش ہے کہ وہ جب لوگوں کی گنتی کریں تو گھروں میں ٹی وی چینلوں کے آگے بیٹھے ہوئے ان گنت لوگوں کو بھی شمار کریں کیونکہ آج کل تو ہر شے ٹی وی سکرین پر ہوتی ہے ، لوگ گھروں میں صوفوں پر براجمان اور پلنگوں پر لیٹے گاؤ تکئے لگائے الیکشن لڑ رہے ہیں ، الیکشن دیکھ رہے ہیں ، اب تقریر کوٹ مومن میں ہوتی ہے اور سنتا اور دیکھتا سار اپاکستان ہے۔

نواز شریف کا استقبال اس لئے ضروری ہے کہ دنیا بھر میں ایسے مقاصد کے لئے نکلنے والوں کا استقبال ہوا ہے کیونکہ لوگ اپنے بھلے کے لئے ضرور نکلتے ہیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دنوں ٹی وی پر نواز شریف کو ملنے والی سزا سے زیادہ نواز شریف کی واپسی ڈسکس ہورہی ہے ، ان کی واپسی کے سامنے سزا ہیچ نظر آنے لگی ہے ۔ نواز شریف کا استقبال اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم جو کچھ عوام کے حق حکمرانی کے حوالے سے کتابوں میں ، اخباروں، رسالوں میں اور پارٹی منشوروں میں پڑھتے اور ٹی وی چینلوں پر دیکھتے اور سنتے رہے ہیں ، نواز شریف اسے عملی صورت دینے کے لئے آرہے ہیں ، نواز شریف کی سیاست شروع دن سے ’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘سے عبارت ہے۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ایک تجزیہ کار نے سپریم کورٹ میں ڈائس پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا تھا کہ چیف صاحب ، آپ توہین عدالت کرنے والے نواز شریف کو سزا کیوں نہیں دیتے ، اس پر چیف صاحب نے کہا تھا کہ ضرور دیں گے ، ہمیں مناست وقت کا انتظار ہے۔

لیکن جس وقت یہ مطالبہ ہو رہا تھاتب انہیں اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ نواز شریف کے لئے عدالت سے ملنے والی سزا تو ایک تمغہ ،ایک میڈل اور ایک اعزاز بن جائے گی ، لوگ ایسی سزا کے لئے ترستے نظر آئیں گے ، ہمارا ادراک کہتا ہے کہ خود عدلیہ کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ نواز شریف کو جے آئی ٹی کی بودی تحقیق کی بناپر سزا کا مطلب کیا ہوگا؟.....ہر کوئی سمجھ رہا تھا کہ یہ سزا نواز شریف کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی لیکن نواز شریف نے واپسی کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا اور اب یہ سیلاب بلا سنبھالے نہیں سنبھل رہا ۔

اس سے قبل نواز شریف نے پانامہ کے نام پر اقامہ کی بنیاد پر نکالے جانے پر بھی وزیر اعظم ہاؤس خالی کردیاتھا ، تب بھی جی ٹی روڈ پر لوگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا ، حالانکہ وہ بھی سزا ہی تھی لیکن وہ سزا بھی نواز شریف کے لئے ایک انعام بن گئی تھی ، تجزیہ کار کہتے پائے جاتے تھے کہ نواز شریف کی حکومت بھی ہے اور نواز شریف اپوزیشن میں بھی ہیں۔

عوام میں ان کی بے پناہ پذیرائی کا مظہر تھا کہ ان کی جانب سے مجھے کیوں نکالا کی تکرار ایک نعرہ بن گئی، بغاوت کا علم بن گئی اور آج گھر گھر یہ نعرہ مقبول ہوچکا ہے ۔

یہی نہیں خود نوا زشریف نے ہی مجھے کیوں نکالا کے بعد ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کیا تو آج مخالف بھی پوچھتے پائے جاتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دوکا مطلب کیا ہے؟ ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ اس نعرے کے سامنے عمران خان کے ’دو نہیں ایک پاکستان ‘کے نعرے کی کوئی پذیرائی ہے؟

پاکستانی جمہوریت پسند لوگ ہیں، ان کو جب جب موقع ملا انہوں نے جمہوری قوتوں کو ووٹ کیا ہے ، یہ ایسے قدامت پسند لوگ نہیں ہیں کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو کندھوں پر اٹھائے پھریں، یہ لوگ جانتے ہیں کہ مذہب ان کا ذاتی معاملہ ہے مگر جہاں تک اجتماعی ترقی اور شعور کا تعلق ہے تو وہ بھٹو ہوں، بے نظیر بھٹو ہوں یا پھر نوا زشریف ہوں ، عوام نے ایسے لیڈروں کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔

ہمیں یہ تو علم نہیں کہ لوگ نواز شریف کا کس والہانہ طریقے سے استقبال کریں گے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ عوام میں ان کی ہمدردی کا عالم یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر انہیں قبر پر جا کر بھی ووٹ ڈالنا پڑا تو بھی وہ مہر شیر پر ہی لگائیں گے ۔

بہرحال عوام کو نواز شریف کا استقبال اسی طرح کرنا چاہئے جس طرح انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس سے نکالے جانے پر جی ٹی روڈ پرکیا تھا کہ ایک پتہ بھی نہیں ٹوٹا تھااور نواز شریف چاہتے تو کم از کم پندرہ دن تک جی ٹی روڈ پر گھومتے رہتے اور لاہور نہ پہنچ پاتے۔ اس وقت ہر طرح کی افواہیں سرگرم ہیں ، کچھ کاکہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان استقبال کے لئے نکلنے والوں کی خوب ٹھکائی کریں گے جبکہ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ کچھ حلقے نون لیگ کے مخالف حلقوں کو بھی تیار کر رہے ہیں کہ وہ انڈوں اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر ایئرپورٹ پر پہنچیں اور ایک تصادم کی فضا پیدا کردیں۔

انتخابات سے ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ پہلے ایسی کوئی بھی صورت حال پاکستان میں جمہوریت کے لئے سوہان روح ثابت ہوسکتی ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات سے قبل سیاسی قائدین بھاری بھرکم جلسے نہیں کرتے ہیں، کیا بڑی بڑی ریلیاں نہیں نکالی جاتی ہیں ، اگر یہ درست ہے تو جز بز ہونے کی کیا ضرورت ہے ، اسے محض ایک سیاسی جماعت کی سیاسی سرگرمی سمجھا جائے ، ایک سیاسی جماعت جس انداز سے بھی چاہے اپنے لیڈر کا استقبال کرسکتی ہے ،خواہ اس لیڈرکو دس سال قید ہی کیوں نہ بول گئی ہو۔

اسٹیبلشمنٹ کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس میں اور سیاسی قیادت میں فرق ہوتا ہے ، سیاسی قیادت جھوٹ بول کر بھی سچی رہتی لیکن اسٹیبلشمنٹ سچ بھی بولے تو جھوٹ کا گماں ہوتا ہے کیونکہ کرتوت الفاظ پر بازی لے جاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...