سالار کنٹریکٹر یا سپہ سالار کنٹریکٹر؟

سالار کنٹریکٹر یا سپہ سالار کنٹریکٹر؟
سالار کنٹریکٹر یا سپہ سالار کنٹریکٹر؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اپنے اپنے ذوق کی بات ہوتی ہے۔ پاکستان کے 22کروڑ کی آبادی میں کم از کم تین چوتھائی لوگ ایسے ہیں جن کی رسائی الیکٹرانک میڈیا (ٹی وی اور موبائل فون) تک عام ہوچکی ہے۔ آدھے ایسے ہوں گے جو اردو پرنٹ میڈیا سے استفادہ کر سکتے ہیں اور کم از کم ہماری ایک چوتھائی آبادی انگریزی زبان کی ابجد سے بھی واقف ہوگی (اس ابجد میں الف سے یائے مجہول تک کے حروف شامل کیجئے)۔ البتہ انگلش الیکٹرانک میڈیا میں پاکستان کا صرف ایک ہی چینل ہے جو ابھی تک سرکاری سرپرستی میں چل رہا ہے۔

چند سال پہلے ڈان نے ایک انگلش چینل شروع کیا تھا جو کمرشل دباؤ کی وجہ سے بند کرنا پڑا۔ آج کی خبر یہ ہے کہ ’’ایکسپریس ٹریبون‘‘ نے ایک نیا انگلش چینل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کیا اس کی پشت پر قومی ڈیمانڈ ہے یا بین الاقوامی تقاضے ہیں؟آئندہ دو ہفتوں میں جو الیکشن ہونے جا رہے ہیں ان کی کوریج کے لئے غیر ملکی مبصروں کی جو ٹیم آ رہی ہے (اور جس کا ایک قابلِ لحاظ حصہ آج بھی پاکستان میں موجود ہے) کیا ان کی موجودگی سے ’’فائدہ‘‘ اٹھانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے؟ یا بیرونی ممالک بالخصوص مغربی بلاک کو اس چینل کے ملکی اور غیر ملکی تجزیہ کاروں اور مبصروں کی آراء کے توسط سے ’’مستفید‘‘ کیا جائے گا؟ ۔۔۔ ان باتوں کا پتہ اس نئے انگلش چینل کے ناظرین کو کچھ دنوں بعد خود ہی ہو جائے گا۔

اس چینل پر کس سیاسی پارٹی کے اشتہارات چلیں گے اور کن سیاسی مبصروں کو ’’دعوتِ کلام‘‘ دی جائے گی، اس کا فیصلہ بھی شاید کیا جا چکا ہو گا۔ اگر ایکسپریس ٹریبون نے ڈان کی طرح کچھ وقت کے لئے آن ائر ہو کر آف ایئر ہو جانا ہے تو اس کی قلعی بھی کھل جائے گی۔ آج کی میڈیا زدہ دنیا اور بالخصوص پاکستان کی میڈم میڈیا جو پہلے گاہ گاہ چلمن کی اوٹ سے تاک جھانک کیا کرتی تھی کیا اب کھل کر منظر عام پر آ جائے گی ؟

دراصل میڈیا کی گفتار و تحریر سے فائدہ اٹھانا ایک ذاتی اور انفرادی معاملہ ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا کہ آنکھوں کا ایک آنسو، لعل و جواہر سے زیادہ بیش قیمت ہوتا ہے:

توفیق با اندازہء ہمت ہے ازل سے

آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

میں آج کے میڈیا پر نظر ڈال رہا تھا تو فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس سننے کو ملی جو امروزہ پاکستان کی سیاسی آویزش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ملٹری ایک غیر جانبدار (حکومت کے ماتحت) ادارہ ہے جس کو آنے والے الیکشنوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ووٹ کی اکثریت سے جو شخص بھی وزیراعظم بنے گا اس کو ملٹری تسلیم کرے گی اور سلیوٹ مارے گی! لیکن ان کے اس بیان پر گزشتہ 48گھنٹوں سے بحث کی جا رہی ہے۔ جو لوگ ساون میں اندھے ہوئے تھے ان کو ہر طرف ہرا ہی ہرا دکھائی دے رہا ہے اور جو چیت بیساکھ (موسم بہار) میں اندھے ہوئے تھے ان کو چاروں طرف سرخ و سفید پھول ہی پھول نظر آ رہے ہیں اور ان کی خوشبو کے لپکے بھی مشامِ جاں کو معطر کررہے ہیں! الیکٹرانک میڈیا کے ٹی وی چینلوں پر اپنے اپنے مالکان نے اپنی اپنی مالی ’’مجبوریوں‘‘ کے مطابق اینکرز اور مبصرین بٹھا رکھے ہیں۔ ہر شام ان کو دعوتِ کلام دی جاتی ہے اور متعلقہ ناظرین و سامعین کو مستفید و مستفیض کیا جاتا ہے۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلّا۔۔۔انہی کی باتیں پاکستانی آبادی کی دوتہائی اکثریت کے رگ و پے میں سرائت کرنے کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔

اردو پرنٹ میڈیا میں بھی آج مجھے وسعت اللہ خان کا ایک کالم نظر آیا جو ادوارِ گزشتہ کی سول ملٹری کشیدگی کی یاد دلا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دیدہ مارشل میں بھی بہت سے کالم نگار نادیدہ قوتوں کے خلاف اپنی تحریروں سے دل کی بھڑاس نکالنے کا ارمان بھی پورا کر لیتے تھے اور ساتھ ہی اپنے چیف ایڈیٹر کی خوشنودی بھی ’’خرید‘‘ لیتے تھے۔ اسی طرح کے حربوں کا استعمال اب پھر شروع ہو چکا ہے۔ وسعت اللہ خان کے کالم کا عنوان ہے: ’’سالار ڈیکوریٹر کی شادی مینجمنٹ‘‘۔۔۔ اس کا افتتاحی پیراگراف دیکھئے:

’’ہو از ہو (who is who?) کو ہر کارے کارڈ پہنچا چکے۔ گھوڑے کی مالش، روغنِ زیتونِ مسلسل ہے۔ دولہے کی شیروانی کی کچی سلائی ہو چکی۔ دلہن کا بھاری بھرکم جوڑا پیک ہو رہا ہے۔ راستے سے تجاوزات کی صفائی آخری مرحلے میں ہے۔ ڈھولکی پر لڑکیوں بالیوں کے گانے زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ دولہا میاں کے سر کے گرد ویل پہ ویل چڑھ رہی ہے۔۔۔ اس قدر ویل کہ نوٹ جمع کرنے والے خواجہ سرا بھی پریشان ہیں کہ ہزار پانچ ہزار کے نوٹوں کی برسات دونوں ہاتھوں پر روکیں یا ٹھمکے لگائیں‘‘۔

اس عبارت میں گھوڑا کون ہے، دولہا کون ہے، تجاوزات کی صفائی کا اصل مفہوم کیا ہے، دولہا کے سر کی ویل اور خواجہ سراؤں کے ٹھمکے کس کس کی یاد دلا رہے ہیں، ان رموز و اسرار کو ڈمی کوڈ کرکے سہل اور آسان اردو میں ترجمہ کرنا کوئی مشکل نہیں۔

ہر پڑھا لکھا قاری وسعت اللہ خان کے اس کالم کے بعد اپنے آپ سے سوال کرے گا کہ کالم نگار کا مطلب یہی ہے کہ: ’’سمجھ تاں گئے ہووگے؟‘‘

اس کوڈڈ (Coded) حاشیہ آرائی کے بعد درجِ ذیل نیم کوڈڈ (Semi-Coded) فقرات پر بھی غور کیجئے:

1۔ تنبو قناتوں، کھانے کا انتظام اور سجاوٹ تو ہر اوندھا سیدھا ڈیکوریشن والا مہنگے سستے کر لیتا ہے لیکن ’’سالار ڈیکوریٹرز‘‘ کی اپنی کلاس ہے!

2۔اگر یقین نہ آئے تو 25جولائی بروز ہفتہ ہونے والی شادی خانہ آبادی کی تقریب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے گا تاکہ اندازہ ہو سکے کہ ہمارے ہاں ایونٹ مینجمنٹ (Event Management) کا کاروبار بفضلِ ’’سالار ڈیکور یٹرز‘‘ کس بین الاقوامی معیار کو چھو رہا ہے۔

3۔اس تاریخی شادی میں شرکت کے بعد کل کلاں آپ کو بھی ’’سالار ڈیکوریٹرز‘‘ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

4۔ ’’جلنے والے کا منہ کالا‘‘۔۔۔ (یہ بددعا نہیں ’’سالار ڈیکوریٹرز‘‘ کا ماٹو ہے)

درج بالا چار فقرات سے آپ کے چاروں طبق روشن ہو جانے چاہئیں کہ بین السطور کیا پیغام دیا اور سنایا جا رہا ہے۔۔۔۔ سالار ڈیکوریٹرز، کی مسلسل تکرار، ایونٹ مینجمنٹ،25جولائی بروز ہفتہ اور ماٹو وغیرہ کے الفاظ سے آپ کے ذہن میں کس ’’ڈیکورٹیر‘‘ کا تصور ابھرتا ہے، یہ کوئی ایسا سوال نہیں جس کے لئے کسی کسوٹی کا اہتمام کرکے کسی افتخار عارف کو بلایا جائے۔

اب انگریزی پرنٹ میڈیا کا کچھ احوال ملاحظہ فرمایئے۔۔۔۔ کل 11جولائی 2018ء کا روزنامہ ’’دی نیویارک ٹائمز‘‘ دیکھئے۔ اس کے صفحہ اول پر ایک کالم شائع ہوا ہے جو عباس ناصر صاحب کے قلم سے ہے۔وسعت اللہ خان تو ڈان ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں بھی روزانہ جلوہ فرما ہوتے ہیں، ساتھ ہی ان کی تحریریں بی بی سی کے اردو پروگرام میں بھی بار پاتی ہیں اور برصغیر کے اردو دان اور اردو خوان طبقے کی اکثریت ان تحریروں اور تبصروں سے مستفید ہوتی ہے جبکہ جناب ناصر عباس بھی روزنامہ ڈان کے ایک سابق ایڈیٹر ہیں۔ اب یہ بین الاقوامی میڈیا میں کالم رقم فرماتے ہیں۔۔۔۔ 11جولائی کو شائع ہونے والے ان کے کالم کے یہ حصے ملاحظہ فرمایئے:

1۔ 25جولائی کے عام انتخابات سے دو ہفتے پہلے پاکستان ایک اور سیاسی طوفان کی زد میں ہے۔

2۔اگر نون لیگ کے ’’سٹار مقررین‘‘(نواز شریف اور مریم نواز) اس الیکشن میں حصہ نہیں لیتے تو نواز شریف اور ان کی بیٹی کی سزا اور ان کی آنے والے دنوں میں گرفتاری، انتخابی موسم کو شکوک و شبہات سے لبریز کر دے گی اور نتائج پر بھی اثر انداز ہوگی۔

3۔ دیکھا جا رہا ہے کہ انتخابی مہم کی میڈیا کوریج کو ملٹری کی طرف سے ڈکٹیٹ کرنے کی پریکٹس کتنے پانی میں ہے۔ ملٹری کو اس نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے کہ وہ عدلیہ کے ساتھ مل کر مسٹر شریف اور ان کی پارٹی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے اور سابق کرکٹر مسٹر خان اور ان کی پارٹی (PTI) کو پروموٹ بھی کر رہی ہے۔

4۔ مسٹر شریف اور ان کی فیملی کے خلاف مبینہ الزامات، جو پانامہ پیپرز سے شروع ہوئے تھے، ان کی تحقیقات کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے اپریل 2017ء میں ایک ٹیم (JIT) تشکیل دی تھی جس میں ’’پُراسرار طریقے‘‘ سے پاور فل آئی ایس آئی (ISI) اور ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے آفیسرز بھی شامل کئے گئے۔

5۔عبوری حکومت کے وزیر قانون (بیرسٹر علی ظفر) نے کہا ہے کہ مسٹرشریف اور ان کی صاحبزادی کو لاہور ائرپورٹ پر اترتے ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔

6۔مسٹر شریف کے حریف مسٹر خان، مذہبی انتہا پسندوں کی حمائت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

7۔ملک کے تین صوبوں(کے پی ، بلوچستان اور سندھ) کی تاریخ اب تک یہی رہی ہے کہ وہ مرکز کے خلاف مزاحمت کرنے کے عادی ہیں اور ملٹری کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن پنجاب نے اس قسم کے رجحان کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ملٹری میں پنجابی افسروں اور جوانوں کی اکثریت ہے۔

8۔مسٹر شریف پنجاب کے وہ پہلے مقبول لیڈر ہیں جو ملٹری کے خلاف مزاحمت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا پنجاب کے مسٹر شریف اور ان کی بیٹی اس تصادم میں پنجاب کا یہ الیکشن جیتتے ہیں یا پنجاب، پاکستانی ملٹری کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں عباس ناصر کا یہ کالم ایک طرح سے کچھ کچھ متوازن بھی ہے۔ مثلاً ان کے اسی کالم کے ان فقرات پر بھی غور کیجئے:

1۔مسٹر شریف کی حکومت نے انتخاب میں حصہ لینے والوں کے لئے حلف نامے میں جو تحریف کی تھی اسے ’’کلرکانہ غلطی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

2۔عجیب اتفاق دکھیئے کہ مسٹر نواز شریف نے 1980ء میں اپنا سیاسی کیرئیر جنرل ضیاء الحق کے سایہ ء عاطفت میں شروع کیا۔ اور اپنی دولت کا زیادہ حصہ اسی عشرے (1980ء تا 1990ء) میں اکٹھا کیا کہ جب وہ بے نظیر اور ان کی پارٹی کو نیچا دکھانے میں پیش پیش تھے۔

اب 11جولائی کے ایک انگریزی روزنامے ڈیلی ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک کالم کا ذکر کرتے ہیں جس کے مصنف واجد شمس الحسن ہیں۔ چونکہ یہ اخبار پی پی پی کا ترجمان تصور کیا جاتا ہے اس لئے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ پی پی پی کے وابستگانِ دامن کا نقطہ ء نظر موجودہ صورتِ حال پر کیا ہے۔ اس کالم کا عنوان ہے: Spies, Soldiers and Academics

اس کے درج ذیل حِصیّ دیکھئے:

1۔ مجھے جنرل درانی سے ملاقات کے چند مواقع ملے۔ ہم دونوں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے تعینات کردہ سفیر تھے۔1993ء کے اواخر اور 1994ء کے اوائل میں، جنرل درانی کو بون (جرمنی) میں اور مجھے برطانیہ میں سفیر مقرر کیا گیا۔

2۔جنرل درانی بڑے دبنگ انسان ہیں۔ لگی لپٹی نہیں رکھتے اور قومی مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔تاہم میرے دل میں ان کا احترام اس وقت عروج کو پہنچ گیا جب انہوں نے بغیر کسی خوف کے ، یہ انکشاف کیا کہ 1990ء کے الیکشنوں میں بے نظیر بھٹو کی لینڈ سلائڈ وکٹری کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور صدر غلام اسحاق خان نے مل کر ایک سازش کرکے روکا تھا۔ اس سے پہلے 1988ء میں بھی جنرل درانی کے پیشرو جنرل حمید گل نے بیگ اور اسحاق سے مل کر اپنے کٹھ پتلی میاں نوازشریف کی قیادت میں IJI بنائی تھی۔

3۔جنرل درانی نے ہر چیز ریکارڈ پر لانی شروع کی اور اس رقم کی تفصیل دی جو نوازشریف اور دوسروں کو بے نظیر کو شکست دینے کے لئے دی گئی تھی۔ مرحوم ائر مارشل اصغر خان اور سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے شور مچانے کا بھی کچھ اثر نہ ہوا۔

4۔یہ ایک خدائی انتقام ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے سیاسی وارث نوازشریف نے جو گناہ 1988ء اور 1990ء کے الیکشنوں میں کئے تھے ان کی سزا ان کو اب کرپشن کی صورت میں مل رہی ہے۔

5۔تاہم آخر میں یہی کہوں گا کہ وہ (نادیدہ قوتیں) جو یہ ساری انجینئرنگ کر رہی ہیں، لوگوں کو بہکا کر بھگوڑا بنا رہی ہیں اور اس طرح کی دوسری چھیڑ خانیاں کر رہی ہیں، ان کے لئے مشکل وقت آ رہا ہے۔ وہ بھی کیا یاد کریں گی کہ کس بھینسے کو انہوں نے مشتعل کر دیا ہے!

قارئین گرامی! اس طرح کی آلودہ اور آتش زیرِپا میڈیائی صورتِ حال میں اگر کوئی کالم نگار غیر جانبداری کا خواہاں ہو تو اس کے لئے غیر سیاسی موضوعات ہی باقی رہ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ میری ترجیح غیر سیاسی اور بالخصوص اپنے خطے کی عسکری صورتِ حال وغیرہ کے بارے میں ہوتی ہے۔

مزید : رائے /کالم