مستحکم معیشت کے لئے درآمدات پر قابو پایا جائے،کے آئی اے

مستحکم معیشت کے لئے درآمدات پر قابو پایا جائے،کے آئی اے

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مئی میں مہنگائی کی شرح 4.2فیصد تھی جوجون میں بڑھ کر5.2فیصد ہوگئی۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ کا جہاں برآمدات پر مثبت اثر پڑا ہے اور گزشتہ سال مئی کے مقابلہ میں اس سال مئی میں برآمدات میں 46فیصد اضافہ ہوا ہے، وہاں مہنگائی بڑھنے سے عام آدمی کی قوت خرید متاثر ہونے اور مالی طور پر کمزور افراد کا خط غربت سے نیچے گرنے کا شدید خدشہ ہے ۔گزشتہ 11ماہ کے دوران برآمدات 21.33ارب ڈالر تک پہنچی جو 2016-17کے مقابلے میں ایک ارب ڈالر زائد ہیں تاہم مہنگائی میں روزافزوں اضافہ کاروبار کی لاگت اور مصنوعات میں اضافہ کا باعث ہے جس سے ہر طبقہ متاثر ہوگا۔ آنے والی حکومت کے لئے ضروری ہے کہ درآمدات پر انحصار کم کرکے برآمداتی سیکٹر کو ترغیبات دے اور ویلیوایڈڈ مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لئے نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے تاکہ ملکی معیشت استحکام حاصل کرسکے۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ملکی معیشت کو نئے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آنے والی حکومت بزنس فرینڈلی پالیسیاں متعارف کرائے، حقیقت پسندانہ ایکسچینج ریٹ مقرر کرے،فری ٹریڈ ایگریمنٹس پر نظر ثانی کرے ،خطے میں موجود ممالک کے مقابلے میں ایکسپورٹ سیکٹر کے لئے انرجی کی مسابقتی قیمتیں مقرر کرے اور غیر رسمی سیکٹر کو ترقی کرنے اور برآمدات میں اضافہ کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے بہتر مواقع فراہم کئے جائیں۔ملک میں کام کرنے کی لاگت کم کرنے اور کاروباری مواقع آسان کرنے سے نئی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگاجبکہ موجودہ صنعتوں کے عمودی اور افقی فروغ سے آمدنی میں اضافہ ہونے سے لوگوں کی قوت خرید بڑھے گی۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کو دنیا میں اسکا منفرد مقام دلانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت پانی کی قلت، کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت، مہنگائی اور گلوبل وارمنگ جیسے اہم اور فوری حل طلب مسائل کے لئے فوری اور جلد اقدامات کرے۔ فارن ریزروز کو بڑھانا اور بیلنس آف پیمنٹ کو بہتر کرنے کے لئے ملکی مصنوعات پر انحصاراور ملکی مصنوعات کو دنیا بھر میں جدید انداز میں مارکیٹ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ ملک میں صنعت و تجارت کی ترقی تعلیم، ہنرمندی، صحت، پانی اور انرجی کی فراہمی اور قیمت، کاروبار کرنے کے حالات اور سیکیورٹی حالات پر منحصر ہوتی ہے۔بزنس کمیونٹی آنے والی حکومت اور عوامی نمائندوں کے شانہ بہ شانہ ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لئے فوری اور دیر پا اقدامات کرنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ ملکی مصنوعات پر انحصار کرنے کے لئے تمام پاکستانیوں کو کوشش کی ضرورت ہے، جتنی ملکی مصنوعات عام ہونگی اتناہی ملک ترقی کرے گا اور ملک میں خوشحالی آئے گی۔

مزید : کامرس