ایڈ ہاک اور کنٹریکٹ پالیسی نے محکمہ صحت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا : پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی

ایڈ ہاک اور کنٹریکٹ پالیسی نے محکمہ صحت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا : ...

لاہور( جاوید اقبال) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا ہے کہ سابق حکومتوں کی ایڈہاک اور کنٹریکٹ پالیسی نے محکمہ صحت کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے رہی سہی کسر محکمہ پنجاب کی دو حصوں میں تقسیم کرنے سے پوری ہو گئی ہے انتخابات 2018ء میں کسی سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں صحت اور تعلیم کو پہلی ترجیح نہیں دی جس سے لگتا ہے کہ ’’جانے اور آنے‘‘ والوں کی ترجیحات میں ’’صحت‘‘ شامل نہیں ہے اشرف نظامی نے کہا کہ میڈیکل ایجوکیشن کی بربادی کی بڑی وجہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی کمرشلائزیشن پر مشتمل ہیلتھ پالیسی ہے میرٹ کا قتل عام یعنی صحت کے شعبہ کی بربادی کی بڑی وجہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ’’پاکستان‘‘ کو اپنے انٹرویو میں کیا انہوں نے کہا بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں مریضوں کا بوجھ ہیلتھ ڈلیوری سسٹم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ان ہسپتالوں پر مریضوں کا غیر ضروری بوجھ اور رش کم کرنے کے لئے پالیسی بنانا ہوگی جس کے لئے پنجاب میں محکمہ سوشل سیکیورٹی میں موجود ہیلتھ ماڈل کو اپنانا ہوگا اور بنیادی مرکز صحت، ڈسپنسریوں تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو آباد کرنا ہوگا اور صحت کا سب سے بڑا بجٹ ٹیچنگ ہسپتالوں پر لگانے کی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے آگاہی مہم اور اس کے بعد پرائمری سطح پر لگانا ہوگا اور ہسپتالوں کے زون بنانے ہوں گے ایک زون کا مریض جب کوئی ہسپتال اپنے سر سے بوجھ اتارنے کی خاطر کسی دوسرے زون کے ہسپتال میں منتقل کرے گا تو ایسے مریض پر جو خرچ آئے گا جس نے علاج کیا ہوگا وہ ہسپتال ریفر کرنے والے ہسپتال سے بل وصول کرنے کا پابند ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں پروفیسر اشرف نظامی نے کہا کہ سابق حکومت نے پنجاب میں محکمہ صحت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے بربادی کی بنیاد رکھ دی اس طریقہ کار کے تحت کوئی بہتری نہیں آئی اخراجات میں اضافہ ہوا سپیشلائزڈ ہیلتھ اور پرائمری سیکنڈری ہیلتھ میں اخراجت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ریٹائرڈ ایسے لوگوں کو لاکھوں روپے ماہانہ پر بھرتی کیا جو اپنے دور اقتدار میں کچھ نہیں کر سکے درجنوں کے حساب سے پرائیویٹ دفاتر آباد کئے گئے جن سے فنڈز کا خاتمہ ہوا عملی طور پر بہتری کوئی نہ آئی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن میں بھی میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں 70 سالہ بوڑھے کو چیئرمین لگا دیا گیا اور خواتین میں پھر چیف ایگزیکٹو کا عہدہ رکھا گیا تھا اس پر من پسند ڈاکٹر اجمل کو غیر قانونی طور پر لگانے کے لئے عہدہ میں تبدیل کر دیا اور اس کا نام چیف آپریٹنگ آفیسر رکھ دیا ، اس ادارہ نے 12 سالوں میں صرف فنڈز کھائے عملی طور پر وہ نہیں کیا جس کے لئے اسے بنایا گیا تھا۔ اب جب چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے ایکشن لیا تو سالہا سال سے سویا ہوا ادارہ جاگ اٹھا ہے انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی بربادی کی ذمہ دار یونین اور ڈاکٹرز تنظیمیں نہیں ہیں ۔ پی ایم اے ہسپتالوں میں ہڑتالوں کے خلاف ہے ایک اور سوال کے جواب میں پروفیسر اشرف نظامی نے کہا کہ جب سندھ میں پہلا پرائیویٹ میڈیکل کالج بنا تو پی ایم اے نے اس کی مخالفت کی کہ جہاں ایک ایک کروڑ لے کر ڈاکٹر بنایا جائے وہاں کمرشل ازم پروان چڑھے گا اور امریکہ کی طرز پر جہاں کے ڈاکٹر مریض کو کلائنٹ کا درجہ دیں گے مگر اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی اکثریت میں میڈیکل تعلیم کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے صحت تعلیم کی مفت اور معیاری فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے پھر مفت ہیلتھ کارڈ کا نظام لانا کرپشن کو بڑھانے کے مترادف ہے کے پی کے میں عمران خان اور پنجاب سب نوازشریف کی طرف سے ہیلتھ کارڈ سسٹم کرپشن کے سوائکچھ نہیں ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1