قاضی کا عہدہ ملازمت نہیں، جذبے، سرشاری اور کیفیت کا نام ہے، جسٹس محمد انوالحق

قاضی کا عہدہ ملازمت نہیں، جذبے، سرشاری اور کیفیت کا نام ہے، جسٹس محمد انوالحق

لاہور(نامہ نگار خصوصی )قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد انوالحق نے کہا ہے کہ قاضی کا عہدہ ملازمت یا نوکری نہیں ہے ،یہ ایک جذبے، سرشاری اور کیفیت کا نام ہے اور یہی جذبہ اور سرشاری کی کیفیت قاضی صاحبان اپنے اوپر طاری کر کے مقدمات کے فیصلے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے جوڈیشل اکیڈمی میں بلوچستان ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں نئے تعینات ہونے والے 14 قاضیوں کی 6روزہ پری سروس ٹریننگ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ انصاف کی فراہمی کے عمل میں قاضی کی عدالت وہ ابتدائی عدالت ہے جو مقدمے کی پہلی بنیاد فراہم کرتی ہے اور یہ بنیاد جتنی مضبوط ہو گی عمارت اتنی ہی پائیدار ہوگی۔قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ چاروں صوبوں کی اکیڈیمیز کے ڈائریکٹر جنرل صاحبان کی سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ میٹنگز ہونی چاہئیں جس کے نتیجے میں ان اکیڈیمیز میں پڑھائے جانے والے کورسز کو یکساں اور مربوط کیا جاسکے گا۔پنجاب جوڈیشل اکیڈیمی میں بلوچستان ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں نئے تعینات ہونے والے 14 قاضی صاحبان کی 6 روزہ پری سروس تربیتی کورس مکمل ہونے پر سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے گئے ۔ تقریب میں بلوچستان جوڈیشل اکیڈیمی کے ڈائریکٹر جسٹس ریٹائرڈ محمد نادر درانی، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فخر حیات اور ڈائریکٹوریٹ ڈسٹرکٹ کے جوڈیشری ڈائریکٹر راؤ عبدالجبار نے بھی شرکت کی۔

مزید : صفحہ آخر