ریاستی دہشتگردی انتہا ء کو پہنچ گئی ، شہدا کی تجہیر و تدفین میں رکاوٹیں

ریاستی دہشتگردی انتہا ء کو پہنچ گئی ، شہدا کی تجہیر و تدفین میں رکاوٹیں

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں )مقبوضہ کشمیر میں غاصب بھارتی فوج کی بربریت و ظلم کیخلاف حریت رہنماؤں کی کال پر شٹر ڈاؤ ن ہڑتال جاری ہے جس کے باعث تمام تعلیمی و کاروباری سرگرمیاں معطل اور پہیہ جام ہے،جبکہ وادی کی کٹھ پتلی حکومت نے سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری کی تعیناتی کیساتھ سا تھ ٹرین شیڈول منسوخ اور انٹر نیٹ سروس بند کر دی ہے، جس سے لواحقین اور شہریوں کو شہدا ء کی تجہیز و تدفین میں شر کت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑارہا ہے،جبکہ واٹس ایپ ،فیس بک سمیت دیگر ایپلی کیشنز کی مانیٹرنگ بھی سخت کر دی گئی ہے ۔ کشمیری میڈیا سیل کی رپورٹس کے مطابق ضلع شوپیاں میں سرچ آپریشن کے نام پر بھارتی فورسز کے ہاتھوں 3کشمیری نوجوانوں کی شہادت اور 20سے زائد شہریوں کے زخمی ہونے پر حریت رہنماؤں یاسین ملک، میر واعظ عمر فا ر وق اور سید علی گیلانی کی اپیل پر پورے کشمیر میں شٹر ڈاون ہڑتال جا ری ہے جس کے باعث مقبوضہ وادی کے تمام تعلیمی ادارے بند، کارو با ر ی سرگرمیاں معطل اور ذرائع آمدورفت نہ ہونے سے سڑکوں پر مکمل سناٹا ہے جبکہ بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے فورسز کی بھاری نفری عائد کر کے ٹرین کے شیڈول منسوخ کردیئے اور انٹر نیٹ سروس بھی بند کر دی ہے۔ شہریوں کو شہدا کی تجہیز و تدفین میں شرکت سے روکا جا رہا ہے ۔دریں اثنا گزشتہ روز بھارتی فورسز کی گولی کا نشانہ بننے والے تینوں کو شہدا ء کو سپرد خاک کر دیا گیا،بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود ہزاروں سوگواروں نے نماز جنازہ میں شرکت کی اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔ بھارتی بربریت کا نشانہ بننے والے تینوں نوجوان ضلع شوپیاں کے علاقے کنڈالاں میں بھارتی فورسز کے مسلسل محاصرے اور سرچ آپریشن کیخلاف مظاہرہ کررہے تھے کہ گولی کا نشانہ بن گئے۔

مقبوضہ کشمیر

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے ضلع شوپیاں میں پھینکاگیا بارودی گولہ پھٹنے سے 12سالہ بچہ شہید جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ضلع کے علاقے میمندر میں بارودی گولہ اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جب بچے اس کے ساتھ کھیل رہے تھے۔دھماکے کے نتیجے میں چار بچے شدید زخمی ہوگئے جن کو فوری طور پر شوپیاں کے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیاگیا جہاں ایک بارہ سالہ بچہ سالق اقبال زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جبکہ تین دیگر زخمی بچوں کو بعد میں بہتر علاج کیلئے سرینگر کے ایک دوسرے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا۔دریں اثناء قابض انتظامیہ نے حریت فورم کے چےئرمین میرواعظ عمرفاروق کو احتجاجی مظاہرے کی قیادت سے روکنے کیلئے نگین میں اپنی رہائشگاہ پر نظربند کردیا۔ مشترکہ حریت قیادت نے معصوم شہریوں کے قتل کے خلاف احتجاج کیلئے مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ آخر